عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// ڈل جھیل میں داخل ہونے والے گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے نصب کیے گئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے بجائے اُلٹا جھیل کی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔یہ تشویشناک انکشاف بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں جموں و کشمیر کی جھیلوں کے تحفظ اور انتظام سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈل جھیل، جسے سری نگر کا ’دل‘ اور ملک کے اہم قدرتی ورثوں میں شمار کیا جاتا ہے، تیزی سے ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔رپورٹ کے مطابق زمین کے استعمال میں تبدیلی، غیر قانونی تجاوزات اور کیچمنٹ علاقوں میں تعمیرات کے پھیلاؤ نے جھیل کے سکڑاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میر بحری،لٹی محلہ، نندہ پورہ، تکیہ سنگریشی، دنہامہ، شالیمار، کوشپورہ اور بنی گام جیسے علاقوں میں آبادی میں اضافے کے باوجود سیوریج نظام اور نکاسی آب کی سہولیات ناکافی ہیں۔ان علاقوں سے آنے والی ندیوں کے ذریعے جھیل میں داخل ہونے والے پانی کا 80 فیصد سے زائد حصہ بغیر صفائی کے شامل ہو رہا ہے، جو آلودگی میں بڑے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔2007 سے 2020 کے دوران جھیل کے پانی کے رقبے میں تقریباً 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیگر زمینوں کا استعمال بڑھا۔قومی جھیل تحفظ منصوبہ (این ایل سی پی) کے تحت 36.70 ایم ایل ڈی صلاحیت کے چھ ایس ٹی پیز کی تعمیر منظور کی گئی تھی، مگر آڈٹ کے مطابق یہ پلانٹس مقررہ معیار کے مطابق گندے پانی کو صاف کرنے میں ناکام رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امونیا نائٹروجن اور فاسفورس جیسے مضر اجزا کو 90 فیصد تک کم کرنا ضروری تھا، مگر مختلف پلانٹس میں یہ کمی صرف 14 سے 65 فیصد تک رہی۔ اس کے علاوہ نائٹریٹ نائٹروجن اور کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (سی اوڈی) کی سطح میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو پانی کے معیار میں مزید خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔اگرچہ ان منصوبوں پر تقریباً 45 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے، جس کے باعث جھیل کا پانی مزید خراب ہوا۔آڈٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ متعلقہ کمپنی نے کارکردگی کا لازمی سرٹیفکیٹ فراہم نہیں کیا، اس کے باوجود اسے منصوبہ دیا گیا اور ناقص کارکردگی پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مزید ، جے کے لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (ایل سی اینڈایم اے) نے نگرانی کے لیے ماہرین کو شامل نہیں کیا جیسا کہ قواعد میں لازمی تھا۔جھیل کے اطراف سیوریج نیٹ ورک کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے باعث گھریلو فضلہ براہ راست جھیل میں شامل ہو رہا ہے۔ کئی منصوبے، جن میں سیوریج لائنوں کی تنصیب اور نئے ایس ٹی پیز کی تعمیر شامل تھی، یا تو مکمل نہیں ہوئے یا تاخیر کا شکار ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جاری منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا بڑا حصہ استعمال ہی نہیں کیا گیا، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑ گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ پرانے ایس ٹی پیز کو نئے منصوبوں کے ساتھ ضم کیا جائے گا اور عبوری طور پر انہیں بہتر بنایا گیا ہے، تاہم سی اے جی نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق جب تک سیوریج نیٹ ورک مکمل نہیں ہوتا اور جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم نہیں کیے جاتے، تب تک غیر صاف شدہ فضلہ جھیل میں داخل ہوتا رہے گا، جو اس کے پانی کے معیار اور ماحولیاتی توازن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔