ڈاکٹر فاروق نوشہرہ میں شوبھا یاتراسے خطاب، نفرت اور تفرقے کے خلاف اتحاد و بھائی چارے پر زور
رمیش کیسر +سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بھگوان رام کسی ایک مذہب، فرقے یا قوم تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری دنیا کے ہیں اور ان کی تعلیمات عالمگیر حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان رام کے نظریات محبت، سچائی، انصاف اور انسانیت کا پیغام دیتے ہیں، جو ہر انسان کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ ضلع راجوری کے نوشہرہ علاقے میں ایک شوبھایاتراسے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج کچھ لوگ اس جامع اور ہمہ گیر سوچ کی مخالفت کرتے ہیں اور مذہب کو تقسیم اور نفرت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ’بھگوان رام سب کے ہیں، وہ پوری دنیا کے ہیں، وہ انگریزوں کے بھی ہیں،‘‘ جس سے ان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ بھگوان رام کی تعلیمات کسی سرحد یا مذہبی دائرے میں قید نہیں کی جا سکتیں۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام مذاہب انسان کو اچھائی، سچائی اور نیکی کی راہ دکھاتے ہیں۔ کوئی بھی مذہب نفرت، تشدد یا تفرقے کی تعلیم نہیں دیتا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لیے مذہب کو غلط طریقے سے استعمال کر کے معاشرے میں زہر گھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر کو پہچانیں اور ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے متحد رہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں ایک پْرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرہ قائم کرنا ہے تو ہمیں مذہب کی اصل روح کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محبت، ہمدردی، رواداری، بھائی چارہ اور باہمی احترام ہی وہ بنیادی اقدار ہیں جو کسی بھی معاشرے کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور جموں و کشمیر کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی میں مضمر ہے۔ اس ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے اتحاد اور تعصب کے بجائے انسانیت کو فروغ دیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھگوان رام کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی اور انصاف کے راستے پر چل کر ہی ایک بہتر سماج کی تعمیر ممکن ہے، اور یہی پیغام آج کے دور میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے شاعر مشرق علامہ اقبال ؒکا شعر پڑھتے ہوئے کہاکہ ’’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا، ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا، ‘‘تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے چاہئے اور ایک دوسرے مذاہب کا احترام کرنا چاہئے، یہی ہرایک مذہب کی تعلیم ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بھی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنا بود باش کررہے ہیں لیکن چند فرقہ پرست عناصر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر بانٹنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں، ہمیں ایسے عناصر کے ارادوں اور عزائم کا قلع قمع کرنے کیلئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے