سرینگر//جماعت اسلامی کے بعد مذہبی وسیاسی قائدین کو تنگ طلب کرنے سے نہ مسئلہ کشمیر حل ہوگااور نہ ہی وادی کے حالات میں سدھار آئے گا،بلکہ حالات کے مزیدبگڑجانے کااحتمال ہے۔ان باتوں کااظہار مفتی اعظم مفتی ناصرالاسلام نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہبی قائدین لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں اور اُن کی تذلیل ناقابل قبول ہوگی۔مفتی اعظم نے کہا کہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کے اثرات منفی ثابت ہوں گے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ مذہبی وسیاسی قائدین کو تنگ طلب کرنے کاسلسلہ بند کرکے اصل مسئلہ پرتوجہ دی جائے اور مسئلہ کشمیر کوحل کرنے کی پہل کی جائے ۔اجلاس میں وادی کے علاوہ جموں ، راجوری، پونچھ اور بھدرواہ سے آئے ممبران نے شرکت کی۔ممبران نے ہندپاک کے درمیان کشیدہ تعلقات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے تمام مسائل بشمول مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پرزوردیا۔