دراصل انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے اور یہ دیگر مخلوقات سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے نعمتوں اور خوبیوں سے نوازاہے لیکن انسان اپنے آپ کو کس سمت لے جائے اسکا تعین کرنا اسکا کام ہے اور وہ کون سا راستہ اختیار کرے، اس میں بھی انسانی ضمیر کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔
ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ؎
عمل سے زندگی بنتی جنت بھی اور جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت سے نہ نوری ہے نہ ناری ہے
دنیا میں کروڑوں انسان ہیں جو مختلف مذاہب،رنگ و نسل اور مختلف قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں سے بے شمار لوگ ایسے ہیں، جو انانیت پسند ہیں، بے شمار لوگ ایسے ہیں جو صرف اور صرف اپنی بھلائی سمجھتے ہیں اور بے شمار لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کو بلا وجہ اور بلا خوف و ڈر کے دوسروں پر طرح طرح کے مظالم ڈھارہے ہیں اور قلیل لوگ ایسے ہیں جو اپنے اندر ایک انسانی دل رکھتے ہیں اور بحیثیت انسان اپنے سوچ اور ذہن کو استعمال میں لاکر انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور انسانی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔
کہا گیا ہے کہ سچائی اصل میں اُبھر کر سامنے آتی ہے، چاہے انسان اسے کتنا چھپانے کی کوشش کرے۔ان ہی ذریں خیالات کو مد نظر رکھ کر اگر ہم بھی سچ کو سچ کہنے میں بخیلی سے کام لینگے تو یہ حقیقت پر پردہ پوشی کرنے کے مترادف ہوگا۔اس لیے جو آنکھوں کے سامنے سے گزرا ،کما حقہ اسے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں قارئین تک لانے کی کوشش کرکے تھوڑا بہت حقیقت پسندانہ رویہ کو اختیار کرنے کی کوشش کرینگے۔
ہمارے آس پاس میں بھی اچھے اور انسانیت سے سرشار لوگوں کی کمی نہیں ہے اور انکے جذبہ انسانیت کو ہر طرف سراہا جا رہاہے۔انہی خوش قسمت لوگوں میں جناب مجید مسرور کی شخصیت ایک منفرد اور نمایاں ہے۔
مسرور صاحب وسطی کشمیر کے قصبہ خانصاحب میں آج سے قبل 60 سال پیدا ہوئے ہیں۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور پھر سرینگر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد محکمہ دیہات سدھار میں ملازمت حاصل کی۔مسرور صاحب بچپن سے ہی شعرو شاعری کاشوق رکھتے تھے اور اسکے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی ورثہ کی حفاظت میں بھی کافی دلچسپی رکھتے تھے۔سرکاری ملازمت کے دوران اپنے فرائض منصبی خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لئے مسرور صاحب نے کبھی بھی تساہل پسندی سے کام نہیں لیا ،یہی وجہ ہے کہ اپنے محکمے میں انکی کارکردگی کو کافی سراہا گیا اور انہیں وقتاً فوقتاً ترقیوں سے نوازکر انہیں مزید عوامی خدمات کا موقعہ فراہم کیا گیا۔مسرور صاحب محکمہ میں بحیثیت ایک ذمہ دار عہدہ دار 31 جنوری کو باعزت اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے ۔
مسرور صاحب سرکاری ملازمت کے دوران مختلف ادبی تنظیموں سے منسلک رہے۔ انہوں نے نہ صرف ان ادبی تنظیموں میں ایک نئی روح پھونک دی بلکہ کشمیری زبان و ادب کو بھی ایک زینت بخشی۔آپ نے کشمیری زبان و ادب کو جلا بخشنے کے لیے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور اسکے لیے گھر گھر جا کر لوگوں کو مادری زبان کی اہمیت اور افادیت سے روشناس کرایا۔یہ مسرور صاحب کی ہی ذات ہے، جنہوں نے جموں و کشمیر کے تمام شعراء و ادباء کو گلستان چینل جیسا پلیٹ فارم مہیا کرواکر دور افتادہ اور کم پایہ اور گمنام قلمکاروں کو ایک موقعہ فراہم کیاہے اور انہیں اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار کا ذریعہ فراہم کیا۔ اتنا ہی نہیں مسرور صاحب نے کشمیر سے باہر بھی کشمیری زبان و ادب کو فروغ دینے میں اپنا بھر پور رول نبھایا اور ہر فورم اور ایوان میں اٹھایا، جہاں تک انکی رسائی تھی۔
مسرور صاحب ایک حقیقت پسندانہ شاعر ہیں، جنکا کلام پڑھ کر اور سن کرایک با حِس و ذی شعور انسان انکی اعلیٰ علمی و ادبی بصیر توں کو پہچان سکتا ہے اور انکے کلام میں انسانیت،جذبہ ایثار اور ہمدردی کا اظہار جا بجا ملتا ہے۔مسرور صاحب کی زبان سادہ لیکن معنی اور مفہوم سے بھر پور ہے، ان کی تخلیقات میں سادگی کا عنصر موجود ہے۔زبان پر انکی اسقدر گرفت ہے کہ وہ مختصر الفاظ میں بڑی سی بڑی بات کو بھی اظہار کرتے ہیں اور اسے ایک بڑی تخلیق کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
مسرور صاحب کشمیری زبان میں شاعری کے علاوہ مضامین،مکالمے،اور افسانے بھی لکھتے ہیں، یوں کہئے کہ وہ ایک اعلیٰ پایہ کے نثر نگار بھی ہیں۔آپ ایک جانے مانے براڈ کاسٹر ہیں اور ایک شعلہ بیان مقرر بھی۔یتیموں،بیواوں اور کمزور لوگوں کے لیے ایک ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اکثر زور دیتے چلے آئے ہیں۔آپ کشمیری زبان کے علاوہ اُردو زباں میں شاعری اور نثر نگاری کرتے ہیں اور اس زبان پر انہیں کافی دست رس حاصل ہے۔ ایک سچے اور با اعتقاد مسلماں ہیں، زندگی سادگی سے گذارنے پر یقین رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔الغرض مسرو صاحب ایک صاف گو،سادہ لوح انسان ، پُر مغز ،پُر معنی شاعر،ادیب،قلمکار،محقق،کالم نویس اور ایک بہترین براڈ کاسٹر ہیں۔انہوںنے کشمیری زبان و ادب کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں ایک نمایاں کام انجام دیاہے اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر بلکہ کشمیر سے باہر بھی کشمیری زبان کے چاہنے والے انہیں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
اللہ انہیں عمردراز عطا فرمائے اور کشمیری زبان و ادب کے اس خیر خواہ کو ہمیشہ صدا خوش رکھے۔
گلہ زیو گژھان یتھ شہرس منز
تمہ شہرک بتہ چھس روزن وول
وولہ کاشریو برونہہ کن پننئ پہچان پیداکر
رننزہ ناو پننی زبان پریتھ جایہ کتھ چھے مختصر (مسرور)
( آڑی جن شوپیان۔رابطہ۔9596117043)