ایسی کامیابی جو انسان کو باطنی خوشی نہ دے، وہ کامیابی نہیں محض بے معنی منزل ہوتی ہے۔انسان اگر سمجھتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دنیا سمیٹ کر زندگی کا لطف اٹھا سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔زندگی کا اصل سرمایہ اطمینان اور سکون ہے، جسے حاصل کرنے کیلئے انسان اپنا بہت کچھ قربان کرنے کیلئے بھی آمادہ ہو جاتا ہے مگر پھر بھی اسے سکون نہیں مل پاتا ۔سکون اور خوشحالی کا تعلق نہ دولت سے ہے نہ جائیداد سے، نہ امیری سے اور نہ ہی غریبی سے ۔اس کا اصل تعلق انسان کی اپنی مثبت اور منفی سوچ اور ذہن کی صحیح رہنمائی سے ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر کسی کو کسی کے ذریعے تکلیف پہنچتی ہے تو کوئی اپنے مخالف پر طنز کر کے یا لعنت ملامت کر کے خوش ہونے کی کوشش کرتا ہے ،کوئی معاف کر کے یا خاموش رہ کر بھی پرسکون ہو جاتا ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی سوچ پر قابو پا لیں، آپ کا شمار دنیا کے سب سے امیر اور خوشحال لوگوں میں ہو گا ۔یقین نہ آئے تو دیکھ لیں تاریخ میں ارسطو ،سقراط اور حکیم لقمان سے آج تک کے جو مفکر و دانشور پیدا ہوئے، انہوں نےاپنی سوچ کے دائروںکے تحت اپنا نام روشن رکھا ہے۔اب اگراپنے ملک کےمفکروںکی بات کریں،جیسے گاندھی جی ،سرسید اقبال ،رابندر ٹیگور پر ہی نظر ڈالیںتو ان کے نام دولت یا شہرت کے بلبوتے پر زبان ِ زد عام نہیں بلکہ اُن کی اپنی اپنی سوچ اور ذہانت نے اُنہیں زندہ رکھا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر کوئی ارسطو، لقمان، اقبال اور ٹیگور تو نہیں ہو سکتے۔بیشک ایسا نہیں ہو سکتا ہے لیکن دنیا کا ہر شخص اپنے دائرے میں اقبال اور گاندھی سے کم نہیں ہے ۔قدرت نے ہر شخص کو اتنی صلاحیت دےدی ہے کہ وہ اپنی سوچ کے محدود دائرے میںاپنی صلاحیت کا بہتر استعمال کرکے اچھائی اور برائی کی تمیز کر سکے ۔مگر اکثر لوگ اپنی سوچ کے دائروں سے بھٹک کر اپنے نفس اور اپنی خواہشات پر قابو نہ پانے کی وجہ سے انتشار اور پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پیسہ انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتاہے۔پیسے سے انسان روٹی،کپڑا،مکان اور اپنی زندگی کی دیگر ضروریات پوری کرتا ہے اوراپنی سماجی لوازمات نبھاتا ہے۔ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خوشحال اور بہترین زندگی گزارے جبکہ مال و دولت کے بغیر ایسی زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے۔پیسہ چونکہ زندگی کے لیے بہت اہم ہے،اس لیے ہر انسان اس کے حصول کے لیے بھر پور تک ودو کرتا ہے۔پیسے اور دولت کا حصول بُرا فعل تو ہرگز نہیں، مگر اس کے حصول میںدیگر بہت سے کام نظرانداز کر دینا باکل بُرا ہے۔دنیا میں ایسے افراد کی کمی نہیں، جن کی زندگی کا مقصد محض پیسہ کمانا ہے۔اس مقصد کی خاطر وہ لوگ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔اخلاقیات کی ہر حد پامال کرجاتے ہیں۔ بُرائی کی ہر حد پار کر جاتے ہیں۔اُن کے نزدیک عزیزترین رشتوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہتی اور وہ اپنی اس ہوس کو پورا کرنے کے لیے دوسرےلوگوں کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ دن و رات ان پر یہی دُھن سوار رہتی ہے کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ پیسہ حاصل کیا جائے۔اس کوشش میں انہیں قوانین و ضوابط توڑنے اور انسانیت کو پامال کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔یہ لوگ حلال وحرام کی تمیز بھول جاتے ہیں ۔آج ہمارے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے،ہر جگہ ،ہر مجلس اور ہر محفل میں اسی موضوع پر باتیں رہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟گویازیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اب ہمارے معاشرے کے ہر فرد کی زندگی کا نصب العین بن چکا ہے۔ جس کے نتیجے میںہماری نوجوان نسل کے آئیڈیل بھی وہی لوگ بن گئے ہیں،جو دولت سے مالا مال ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان لوگوں نے مال دولت کن ذرایع سے حاصل کی ہے اور کتنوں کا حق چھین کر جمع کی ہے۔آج کا نوجوان بس اُنہیںکے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیںاور اُنہیں کو عزت و احترام بھی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دولت کرپشن،رشوت،دھوکادہی اور غلط طریقوں سے حاصل کی گئی ہے۔بظاہرہر کوئی ایسی دولت کی مذمت کرتے ہیں،لیکن عملی طور پر اُنہیں کی طرح دولت کی ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں۔دولت کی ہوس سے انسان حرام وحلال کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے۔معاشرے میں اس مقابلے کی دوڑ نے حقیقی خوشیوں کو محروم کر دیا ہے،رشتوں اور تعلقات کی اہمیت کم کردی ہے۔پہلے لوگ بہت مطمئن اور پر سکون زندگی گزارتے تھے،حالانکہ وہ محنت مزدوری کرتے تھے اور انہیں نفی کے برابر آسائشیں میسر تھیں۔آج دولت کی فراوانی اور بے تحاشہ سہولیات کے باوجود بھی انسان غیر مطمئن اور بے سکون ہے۔ ہر شص کے ذہن میں پیسوں کا تخمینہ لگا رہتا ہے کہ اتنی فراوانی ہوجائے، تو زندگی پر سکون ہوجائے گی اور جب اسے مطلوبہ مقدار میں دولت مل جاتی ہے تو وہ اس سے بھی زیادہ دولت کمانے کی چاہت لگی رہتی ہےجو رُکنے کا نام نہیں لیتی۔پُر سکون زندگی گزارنے کیلئے سب سے اہم چیز دل کا اطمینان ہوتا ہے۔سکون اور خوشیوں کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔بیشترلوگ چند ہزار روپے میں بھی پر سکون زندگی گزار رہے ہیں اور بہت سے لوگ بےتحاشہ دولت ہونے کے باوجود بھی سکون سے محروم رہتے ہیں۔ اگر خوشیوں کا تعلق دولت سے ہوتا تو غریبوں کے بچوں کو مسکرانا ہی نہ آتا اور کبھی کوئی متمول شخص ڈپریشن کا شکار نہ ہوتا ۔ روپے پیسے سے دنیا کی ہر مادی چیز تو خریدی جا سکتی ہے، مگر احساسات وجذبات ، بے غرض چاہت و الفت، قیمتی وقت اور حقیقی خوشی سکون کا کوئی مول نہیں ۔ دل کا سکون مال و متاع کا محتاج نہیں۔حیرت کی بات ہے کہ انسان اپنی عیش کوشی کے لئے دولت کماتا ہے، لیکن اسے اپنی دولت کی حفاظت کی فکر میں نیند تک نہیں آتی۔ والدین زندگی بھر جدوجہد کر کے اپنی اولاد کے لیے دولت کماتے ہیں، لیکن ان کے پاس اپنی اولاد کے ساتھ گزارنے کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ انسان دولت اس لیے کماتا ہے کہ بُرے وقت میں کام آئے، لیکن کبھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دولت کسی کام نہیں آتی ۔علاج کے لیے دولت موجود ہے ، لیکن دوا اثر نہیں کرتی ۔ دولت کے حصول میں انسان اپنے آپ کو فراموش کر بیٹھا ہے، دوست و احباب سے دور ہو جاتا ہے،رشتے داروں سے تعلقات منقطع ہوجاتے ہیں۔ دولت کی حصول کے لیے انسان جھوٹ بھول کر تجارت کرتا ہے،بدعنوانی کرتا ہے،دوسروں کا حق کھا جاتا ہے،سودی کاروبار کرتا ہے،بے ایمانی کرتا ہے،کسی کی زمین ہڑپ کر لیتا ہے،وراثت کی تقسیم میں حقداروں کے حقوق چھین لیتا ہے، چیزوں میں ملاوٹ کرتا ہے،ذخیرہ اندوزی کرتا ہے،حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا ، جائزناجائز کا فرق بھول جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت کی خامیوں سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود بھی انسان دولت کی ہوس میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ دین بھی دولت کے بارے میں کئی ہدایت دیتا ہے،تاکہ انسان دولت کے گڑھے میں گر کر خود کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے،لیکن انسان اس سے عبرت حاصل نہیں کرتا اور اُسی ڈگر پر چلتا رہتا ہے۔دولت کے دائرہ اختیار کوسمجھنا انسان کے لیے بہت ضروری ہے ۔ دولت سے جو کچھ کیا جاسکتا ہے وہی کچھ کیا جانا چاہیے۔زندگی کا ہر معاملہ دولت پر منحصر نہیں ہوتا۔بہت کچھ دولت سے حاصل کیا جاسکتا ہے،مگر بہت کچھ دولت سے حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔زندگی کے ہر معاملےکو دولت سے جوڑنا ہمارے تمام معاملات کو غیر متوازن اور غیر مستحکم کرنے کا باعث بنتا ہے۔محبت،خلوص،دوستی اور دیگر بہت سے تعلقات اور معاملات کا صرف دولت سے تعلق نہیں ہوتا۔اگر ہم ہر معاملے میں دولت کو ہی ترجیح دے کر اپن کردار ادا کرنے لگیں تو صرف خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس نکتے کو سمجھنا ضروری ہے کہ دولت محض ذریعہ ہے،مقصد نہیں۔ہم دولت کی مدد سے بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں،مگر دولت کے بغیر بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔زندگی ہم سے قدم قدم پر دولت کے بارے میں معقول اور متوازن طرز فکروعمل کا تقاضا کرتی ہے۔جو لوگ دولت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، وہ ہمیشہ سکون سے محروم ہوتے ہیں۔
(سوگن شوپیان،رابطہ۔?9070931709)