سیدرضوان گیلانی
سرینگر// سرینگر سمیت جموں و کشمیر کے متعدد گورنمنٹ ڈگری کالجز اس وقت مستقل پرنسپلوں کے بغیر کام کر رہے ہیں، جبکہ کئی سینئر اساتذہ جو بطور انچارج پرنسپل خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر کے اختیارات بھی نہیں دیے گئے، جس کے باعث اداروں میں انتظامی اور مالی بحران پیدا ہو گیا ہے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق حالیہ مہینوں میں بڑی تعداد میں کالج پرنسپلز کی ریٹائرمنٹ کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے، جبکہ ترقیوں کے عمل میں تاخیر اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی پرنسپلز گزشتہ چند ماہ میں سبکدوش ہو گئے، جس کے باعث متعدد کالجز مستقل سربراہوں سے محروم ہو گئے ہیں۔حکام کے مطابق سینئر پروفیسرز کو پرنسپل کے عہدے پر ترقی دینے کا عمل بروقت مکمل نہیں ہو رہا، جس کے نتیجے میں نئے تعینات ہونے والے پرنسپلز بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہونے کے باعث صرف چند ماہ تک ہی خدمات انجام دے پاتے ہیں۔ کئی معاملات میں پرنسپلز صرف 6 سے 7 ماہ کے لیے تعینات رہتے ہیں۔اس خلا کے باعث کئی کالجز میں گزشتہ تین ماہ سے اسامیاں خالی پڑی ہیں، جس سے اداروں کے معمول کے امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈی ڈی او کی عدم دستیابی کے باعث تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہیں بھی جاری نہیں ہو سکیں، جس سے ملازمین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر عید کے پیش نظر۔متاثرہ ملازمین نے بتایا کہ ہم کئی ماہ سے تنخواہوں کے منتظر ہیں، جس سے گھریلو اخراجات اور تہوار کی تیاریوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقل پرنسپلز کی عدم موجودگی سے اسکالرشپس کی منظوری، فنڈز کے استعمال، مرمت کے کام، خریداری کے عمل اور دفتری خط و کتابت جیسے امور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ انتظامی خلا ادارہ جاتی نظم و نسق اور تعلیمی ماحول پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔جن کالجز میں مستقل پرنسپلز موجود نہیں، ان میں گورنمنٹ ڈگری کالج خانصاحب، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بارہمولہ، گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج چرار شریف سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔ملازمین اور فیکلٹی ممبران نے محکمہ اعلیٰ تعلیم اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مستقل پرنسپلز تعینات کیے جائیں اور انچارج پرنسپلز کو ڈی ڈی او اختیارات دیے جائیں تاکہ کالجز کا نظام معمول پر آ سکے۔وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے اس مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ نے تقریباً 100 پرنسپلز تعینات کیے تھے، تاہم ان میں سے کئی چند ماہ بعد ہی ریٹائر ہو گئے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور ہم مرحلہ وار تمام مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جلد ہی تمام کالجز کو مستقل پرنسپلز فراہم کیے جائیں گے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ 100 سینئر پروفیسرز کی فہرست تیار کی گئی ہے جنہیں جلد پرنسپل مقرر کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ان کی رضامندی بھی حاصل کی جا چکی ہے۔