راجوری //سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے راجوری اور پونچھ کے اندرونی علاقوں میں ملی ٹینٹوں کے متعدد گروپوں کی موجودگی کے خدشے کے بعد سیکورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ راجوری اور پونچھ اضلاع کے اندرونی علاقہ میں ملی ٹینٹوں کے متعدد گروپ موجود ہو سکتے ہیں ۔ان دونوں سرحدی اضلع کے اندرونی علاقوں میں اس وقت سیکورٹی ہائی الرٹ پر رکھی گئی ہے جب ضلع پونچھ کے بھاٹہ دھوڑیاں جنگلات میں ملی ٹینٹوں کےخلاف شروع کردہ آپریشن 16روز بھی داخل ہوا ہے تاہم ابھی تک اس آپریشن میں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے ۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو جانکاری فراہم کرتے ہوئے کہاکہ دونوں سرحدی اضلاع میں اندرونی سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ اس سلسلہ میں جموں و کشمیر پولیس ،پیر املٹری فورسز کےساتھ ساتھ فوج کو مزید چوکسی برتنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز کےلئے اہم تشویش یہ ہے کہ ان دو اضلاع میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی وجہ سے لائن آف کنٹرول پر مکمل طور پر تعطل ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ ان دونوں اضلاع کے اندرونی علاقوں میں متعدد عسکریت پسند گروپ موجود ہیں تاہم عسکریت پسندوں کی تعداد بہت کم ہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ دونوں اضلاع میں ایک سے زیادہ، ممکنہ طور پر تین عسکریت پسند گروپ موجود ہیں جس سے سیکورٹی فورسزمیں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک یا دو ملی ٹینٹ گروپ گزشتہ دنوں سیکورٹی فورسز کےساتھ انکاﺅنٹر میں بھی ملوث ہو ئے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ اطلاع کے مطابق ان گروپوں میں ملی ٹینٹوں کی تعداد کم رکھی گئی ہے جو کہ دو تک ہوسکتی ہے اور یہ ملی ٹینٹوں کی ایک نئی پالیسی بھی ہوسکتی ہے تاکہ کم تعداد کےساتھ ہی اپنی موجودگی میں اضافہ کیا جاسکے ۔انہوں نے بتایا کہ بھاٹہ دھوڑیا ں انکاﺅنٹر میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی اور تعداد کے سلسلہ میں فر ق بتایا جار ہا ہے تاہم تحقیقات کے سلسلہ میں گرفتار کئے گئے افراد کے بیانات کے مطابق ملی ٹینٹوں کی تعداد تین سے پانچ تک ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہے ۔ایک سنیئر آفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرائط پر بتایا کہ اندرونی علاقوں میں سیکورٹی ہائی الر ٹ پر رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی صورتحال کےساتھ نمٹنے میں مدد مل سکے ۔