عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر/سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے جاری انتخابات پر عبوری طور پر روک لگا دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی ایک ذیلی کمیٹی کے بعض ارکان کے خلاف مبینہ دھوکہ دہی، احکامات کو پسِ تاریخ جاری کرنے اور انتخابی فہرستوں میں غیر قانونی رد و بدل کے الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے جے کے سی اے سے وابستہ 19 تسلیم شدہ کرکٹ کلبوں کی جانب سے دائر کی گئی عرضیوں پر سماعت کے دوران مداخلت کی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایک آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابی عمل کی بنیادوں کو ہی متزلزل کر دیتے ہیں۔سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ آئندہ احکامات تک انتخابات کے نتائج، اگر تیار بھی ہو چکے ہوں، کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت کے لئے 6فروری کی تاریخ مقرر کی ہے، جس میں انتخابی عمل کی قانونی حیثیت اور مبینہ بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔واضح رہے کہ جے کے سی اے کے انتخابات عدالت کے مقرر کردہ الیکٹورل آفیسر، سابق چیف الیکشن کمشنر اے کے جوتی کی نگرانی میں کرائے جا رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے نومبر 2025 میں ہدایت دی تھی کہ برسوں سے التوا کا شکار انتخابات 12 ہفتوں کے اندر مکمل کئے جائیں اور بی سی سی آئی کو فوری طور پر منظور شدہ آئین فراہم کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔عدالت نے اس وقت یہ بھی واضح کیا تھا کہ جے کے سی اے کی زیر التوا رجسٹریشن کو انتخابات میں رکاوٹ نہیں بنایا جا سکتا۔ ہدایت کے مطابق پورا انتخابی عمل، جس میں نوٹیفکیشن، نامزدگیاں، جانچ، ووٹنگ اور نتائج کا اعلان شامل ہے، 27 اکتوبر 2025 کو منظور شدہ آئین کے تحت جنوری 2026 کے وسط تک مکمل ہونا تھا۔