افتخاراحمدقادری
اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ’رجب المرجب‘ ہے۔ اس ماہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ’رجب‘ ترجیب سے ماخوذ ہے اور ترجیب کے معنیٰ تعظیم کے ہیں۔ اہل عرب اس ماہِ مبارک کو الله رب العزت کا مہینہ کہتے تھے اور بڑی تعظیم کرتے تھے، اس لیے اس ماہِ مبارک کو’’رجب‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ رجب کو اصم ( بہیرہ) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں کسی فریادی کی آواز کو نہیں سنا جاتا تھا اور نہ ہی اس ماہِ مبارک میں ہتھیاروں کی کھٹکھٹاہٹ سنی جاتی تھی۔ اس ماہِ مبارک کی یکم تاریخ کو حضرت سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے اور اسی ماہ مبارک کی چوتھی تاریخ کو جنگ صفین کا واقعہ پیش آیا اور اسی ماہ کی اٹھائیس تاریخ کو حضورِ اقدس صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا۔ اس ماہِ مبارک کو’اصب‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس ماہِ مبارک میں الله رب العزت اپنے بندوں پر رحمت و مغفرت عطا کرتا ہے، اس میں عبادتیں مقبول اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔
ماہ رجب المرجب ان چار مہینوں میں سے ایک ہے، جس کو قرآن مجید نے ذکر فرمایا: ’’منہا اربعتہ حرم‘‘ یعنی چار معظم مہینوں میں سے ایک معظم مہینہ رجب ہے اور کتب احادیث میں بھی ماہ رجب المرجب کی بڑی فضیلت وارد ہے۔ حضورِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: رجب الله تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ رجب عظمت والا مہینہ ہے، اس میں نیکیوں کا ثواب دوگنا ہوتا ہے۔اس میں روزے رکھنا ثواب ہے۔
ماہ رجب المرجب کی پہلی جمعرات کو لیلتہ الرغائب کہتے ہیں۔ اس کی فضیلت میں حدیثیں مروی ہیں اسی طرح اس ماہِ مبارک کی ستائیسویں رات بڑی بابرکت رات ہے کیونکہ اسی رات سید الانبیاء حضرتِ محمد مصطفیٰ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم معراج شریف پر تشریف لے گئے اور دیدار الٰہی کی دولت سے مشرف ہوئے ،لہٰذا! ستائیسویں کے دن روزہ رکھنا چاہیے۔ ( غنیتہ الطالبین/جلد اول/صفحہ/182)
حضرت عکرمہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں: حضور اکرم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رجب الله رب العزت کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے، اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ حضرت موسیٰ بن عمرانؓ فرماتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا، آپ نے فرمایا: جنت میں ایک نہر ہے جسے رجب کہتے ہیں ،اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جو شخص رجب کے مہینے میں ایک روزہ رکھے، الله رب العزت اسے اس نہر سے پانی پلائے گا۔ آپ نے مزید فرمایا: رجب کھیتی کا مہینہ ہے، شعبان پانی دینے کا مہینہ اور رمضان کھیتی کاٹنے کا مہینہ ہے اور ہر وہ شخص جو بوتا ہے کاٹتا ہے اور اپنے عمل کا بدلہ پاتا ہے۔ بعض صالحین نے فرمایا: سال ایک درخت کی طرح ہے رجب اس کے پتوں کے دن ہیں، شعبان اس کے پھل لانے اور رمضان پھل چننے کے دن ہیں۔
حضرت مازنی، حضرت حسین بن علی رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں: آپ نے فرمایا رجب کے مہینے میں روزہ رکھو، کیونکہ رجب کا روزہ الله رب العزت کی طرف سے توبہ ( کی قبولیت) ہے۔ (غنیتہ الطالبین/صفحہ/429)
:[email protected]
ماہ ِرجب ۔فضیلت والا مہینہ