ملک منظور
نورستان کے دور میں ایک خاموش اور آنکھوں سے اوجھل نورانی شہر میں ایک نورانی مشاہدہ گاہ تھی ۔اس میں ایک نورانی پیمانہ تھا۔ اس نورانی پیمانے سے روحانی مسکن، یعنی دل کے اندر پوشیدہ ہزاروں راز افشا کئے جاتے تھے۔ ایک دن نورانی فرشتوں نے ایک ماں کے دل کو پیمانے پر رکھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس دل میں کیا کیا چھپا ہے۔
جب دل پر نورانی شعاعیں پڑیں تو ایثار کا ایک وسیع سمندر سامنے آیا۔ ماں کے دل کے بیشتر حصے میں بے لوث محبت ، نہ ٹوٹنے والا حوصلہ ،نہ ڈگمگانے والا یقین اور رحمت کا وسیع ترین سمندر وغیرہ وغیرہ تھا ۔اس میں بچوں کی شفقت موجود تھی۔ ان کی خوشی کے لیے تڑپ، ان کی نشوونما کے لئے کوششیں، ان کی خوشحالی کے لئے فکر، ان کے تحفظ کے لئے دعائیں، ان کی عجیب حرکتوں سے انس، ان کی کامیابی کے خواب اور ان سے چپکے رہنے کے لئے ممتا کا سمندر تھا۔
فرشتوں نے حیرت سے دیکھا کہ دل کا یہ حصہ ایک وسیع و عریض باغ کی طرح تھا، جہاں ہر پھول بچوں کی مسکراہٹ سے کھلتا تھا اور ہر شاخ ان کی آوازوں سے جھومتی تھی۔
لیکن جیسے جیسے شعاعیں گہری ہوتی گئیں، دل کے اور گوشوں سے کچھ اور راز بھی کھلنے لگے۔ وہاں درد کے کانٹے تھے، جو ماں کی راتوں کی نیند چھین لیتے تھے جب بچے بیمار پڑتے۔ وہاں خود کی خواہشوں کے دفن شدہ ٹکڑے تھے، جو ماں نے بچوں کی تعلیم اور پرورش کے لئے قربان کر دیئے تھے۔ ایک کونے میں وہ خواب چھپے تھے جو ماں نے اپنی جوانی میں دیکھے تھے، مگر بچوں کی خاطر انہیں دفن کر دیا۔
فرشتوں میں سے ایک نے پوچھا:
“یہ دل اتنا وسیع کیوں ہے؟”
دوسرے نے جواب دیا:
’’کیونکہ یہ ماں کا دل ہے، جو ہر درد کو پی جاتا ہے، ہر قربانی کو چھپا لیتا ہے، اور پھر بھی بچوں کے لئے جیتا ہے۔‘‘
ترازو پر شعاعیں اور تیز ہوئیں تو دل کے مرکز سے ایک روشن نقطہ ابھرا۔ وہ نقطہ پھیلتا گیا اور اچانک دل ہزار ٹکڑوں میں بٹ گیا۔
فرشتے گھبرا گئے، سوچا کہ دل ٹوٹ گیا۔ مگر حیرت! ہر ٹکڑا الگ ہو کر بھی زندہ تھا۔ ہر ٹکڑے میں وہی شفقت تھی، وہی ممتا کا سمندر، وہی قربانیوں کی چنگاریاں۔
ایک ٹکڑا بچوں کی بیماریوں میں درد بن کر جھلس رہا تھا، جہاں ماں نے اپنی نیندیں، اپنا آرام، اپنی صحت سب قربان کر دی تھیں۔ دوسرا ٹکڑا غربت کے دنوں میں بھوکا رہ کر بچوں کو کھلانے کی یاد بن گیا۔ تیسرا ٹکڑا وہ تھا جہاں ماں نے اپنے خواب، اپنی آرزوئیں، اپنی خوشیاں دفن کر دی تھیں تاکہ بچے اچھے اسکول میں جائیں، اچھے کپڑے پہنیں، اچھی زندگی پائیں۔
چوتھا ٹکڑا تنہائی کا تھا، جہاں بچے بڑے ہو کر الگ ہو گئے، مگر ماں کا دل اب بھی ان کے لئے دھڑکتا رہا۔ پانچواں ٹکڑا وہ تھا جو خاموش دعاؤں میں گھل گیا، راتوں کو جاگ کر بچوں کی کامیابی مانگتی رہی۔
اور ہزاروں ٹکڑے… ہر ایک میں ایک قربانی کی کہانی، ایک درد کی لہر، ایک محبت کی موج۔
فرشتوں نے دیکھا کہ یہ ٹکڑے الگ ہو کر بھی جڑے ہوئے تھے۔ ایک نورانی دھاگے سے بندھے، جو ماں کی بے لوث محبت کا دھاگا تھا۔ جتنے ٹکڑے ہوتے گئے، اتنا ہی دل وسیع ہوتا گیا۔ ہزار ٹکڑے ہو کر بھی وہ دل ایک تھا، مکمل تھا، کیونکہ ماں کی محبت کبھی ٹوٹتی نہیں، بکھرتی نہیں۔ وہ قربانیوں سے بنتی ہے، درد سے پکتی ہے، اور پھر بھی بچوں کے لئے ابدی رہتی ہے۔
آخر میں سب سے بڑے فرشتے نے کہا:
’’یہ ماں کا دل ہے۔ یہ ہزار ٹکڑے ہو جائے تو بھی مرتا نہیں، کیونکہ ہر ٹکڑا بچوں کی خوشی میں زندہ ہو جاتا ہے۔ یہ قربانیوں کا ترازو ہے، جو کبھی ہلکا نہیں ہوتا۔‘‘
اور ترازو پر وہ ہزار ٹکڑے چمکتے رہے، ایک ابدی نور بن کر، جو دنیا کی ہر ماں کے دل میں چھپا ہے۔
اسی اثنا میں ایک فرشتے نے دل کے ٹکڑوں میں سے ایک عجیب و غریب ٹکڑا دیکھا جو قبر کی مانند سیاہ اور خاموش تھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا:
’’اس ٹکڑے میں کیا راز پوشیدہ ہے؟ یہ باقی سب سے الگ تھلگ کیوں کھڑا ہے، جیسے دل کی وادی میں ایک تنہا مزار؟‘‘
سب فرشتے اس چھوٹے سے ٹکڑے کو گھورنے لگے۔ وہ حجم میں ننھا تھا، مگر اپنی جداگانہ حیثیت میں باقی ٹکڑوں پر بازی لے گیا۔ جب فرشتوں نے اسے نورانی ترازو پر رکھا تو ایک حیرت انگیز منظر سامنے آیا۔ ایک گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ننھی پری ۔
نورانی شعاعیں جیسے پردۂ اسرار اٹھا رہی تھیں اور اچانک ماں کے بچپن کا وہ سنہرا دور جلوہ گر ہوا، وہ زمانہ جو موج اور مستی سے بھرپور نادانیوں کے جلوے بکھیرتے، امنگوں کو پنکھ دیتا تھا۔
وہ لڑکی جو ہاتھوں پر مہندی سجا کر دل کی دھڑکنوں کو خوشی کے رنگ میں ڈھالتی تھی۔ اس کے رخساروں پر گلاب کی پنکھڑیاں بکھری ہوئیں، ہونٹوں پر شبنم کی تراوت جیسے ابھی ابھی اتری ہو۔ کالے گھنے بال لہراتے ہوئے اور سرمئی جھیلوں جیسی آنکھیں، جو قدرت کے نایاب موتی تھیں۔
وہ دن جب وہ آئینے کے سامنے خود کو سنوارتی، بھائیوں کے ساتھ کھیلوں میں گھل مل جاتی اور ماں باپ کے سایۂ عاطفت میں ایک کلی کی طرح کھلتی پھولتی تھی۔ سورج کی کرنیں اس کے چہرے سے ٹکرا کر واپس لوٹتیں تو جیسے روشنی بھی شرما جاتی اور وہ مسکراہٹ کے گلشن میں تبسم کی معطر ہوائیں بکھیرتی۔ ہوا چھونے کا بہانا بنا کر گیسوئوں کو چہرے پر لہراتے تھے۔
جب کائنات اس پر مہرباں تھی اور وہ دامن میں معصومیت، خوشی اور بے فکری کے ہیرے موتی سمیٹ رہی تھی۔
یہ حسین یادوں کی بارات جب رک گئی تو ایک اداس لکیر ابھری، جیسے دل پر کسی پرانے زخم کی دھندلی نشانی۔ اس لکیر کے اندر چھپے تھے وہ خواب جو دولہن بن کر والدین کے جنت نما آشیانے کو الوداع کہتے وقت چکنا چور ہو گئے تھے۔ دل ٹوٹنے کی آواز شاید اس وقت بھی گونجی ہو، مگر آنسوؤں میں دب گئی ہو۔
لیکن اسی مایوسی کی لکیر کے ایک کونے میں ایک چمکتا ہوا تارہ جگمگا رہا تھا وہ شوہر جو ارمانوں کی ڈولی پر محبت کے پھول برساتا ہوا آیا اور اسے ایک نئی دنیا، نئے باغِ زندگی میں لے آیا۔
وہ مہندی کا رنگ جو کبھی صرف ہاتھوں کی زینت تھا، اب جذبات کا سیلاب بن کر دل کی گہرائیوں میں اتر آیا تھا اور ہر دھڑکن کو عشق کے رنگ میں رنگین کر رہا تھا ۔چہرے پر حیا کی سفید چادر ادھر ادھر گھوم رہی تھی
یہ سب کچھ دیکھ کر فرشتوں کے چہروں پر مسرت کی لہر دوڑ گئی مگر ساتھ ہی ان کی حیرت کا پارہ بھی چڑھ گیا کیونکہ یہ نایاب ٹکڑا جو بچپن کی معصومیت، جدائی کے دکھ، اور نئے عشق کی چمک سے بھرا تھا ایک خاموش مزار تھا۔
یہ رازِ دل، یہ دفینۂ احساسات، کیوں زمین دوز کر دیا گیا تھا؟
فرشتے خاموش ہو گئے،
اور پھر خاموشی نے خود گویا ہو کر کہا
“یہی ماں کا کمال ہے؛
وہ خود مزار بن جاتی ہے،
تاکہ اولاد کے خواب زندہ رہیں۔”
���
قصبہ کھل کولگام ، کشمیر
موبائل نمبر؛9906598163