عظمیٰ نیوز سروس
مبئی// ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے جمعہ کے روز مالی سال 2025-26کیلئے مرکزی حکومت کو تقریباً 2.87لاکھ کروڑ روپے کے ریکارڈ ڈیویڈنڈ (منافع)کی منتقلی کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے حکومت کو مغربی ایشیا میں جاری بحران اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔یہ اہم فیصلہ آر بی آئی کے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 623 ویں میٹنگ میں کیا گیا، جس کی صدارت آر بی آئی گورنر سنجے ملہوترانے ممبئی میں کی۔ اجلاس میں عالمی اور ملکی معیشت کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں ممکنہ مالیاتی خطرات پر بھی غور کیا گیا۔
آر بی آئی کے مطابق اس کی بیلنس شیٹ کا حجم سال بہ سال 20.61 فیصد بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 91.97 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔مرکزی بینک نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران اس کی مجموعی آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے 26.42 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اخراجات میں بھی 27.60 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔آر بی آئی کے مطابق خطرے سے متعلق رقوم اور قانونی فنڈز منتقل کرنے سے پہلے خالص آمدنی کا تخمینہ 3,95,972 کروڑ روپے لگایا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 3,13,455 کروڑ روپے تھی۔مرکزی بینک نے کہا کہ نظرثانی شدہ اکنامک کیپٹل فریم ورک (ECF) کے تحت بیلنس شیٹ کے حجم کے 4.5 فیصد سے 7.5 فیصد تک ہنگامی رسک بفر (CRB) برقرار رکھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔موجودہ معاشی حالات، مالی کارکردگی اور مناسب رسک بفر برقرار رکھنے کے بعد آر بی آئی کے مرکزی بورڈ نے 2025-26 کیلئے 2,86,588 کروڑ روپے کا فاضل سرمایہ مرکزی حکومت کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔بورڈ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ہنگامی رسک بفر کو آر بی آئی کی بیلنس شیٹ کے 6.5 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا جائے گا۔یاد رہے کہ گزشتہ مالی سال میں آر بی آئی نے حکومت کو تقریبا 2.1 لاکھ کروڑ روپے منتقل کیے تھے، جبکہ اس سال یہ رقم نمایاں طور پر زیادہ ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق مرکزی حکومت کو مالی سال 2026-27 کے دوران آر بی آئی، قومیائے گئے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے مجموعی طور پر تقریبا 3.16 لاکھ کروڑ روپے منافع اور سرپلس کی شکل میں ملنے کی توقع ہے۔