ڈاکٹر ریاض توحیدی
زندگی کی خوشبو
مرشد نے کہا:
”اپنے دشمن سے محبت کرو۔”
مرید نے شعور کی آنکھ سے اس نصیحت پر غور کرنا شروع کیا۔ زندگی کے سفر میں جہاں بھی اسے محسوس ہوا کہ کوئی شخص کسی نہ کسی صورت میں دشمن لگ رہا ہے تو اس نے مرشد کی بات پر عمل کیا۔ کافی عرصے کے بعد وہ سوچنے لگا کہ اس کے دل کو جس قسم کے سکون کی تلاش ہے وہ کیوں نہیں مل رہا۔۔۔۔؟
ایک رات وہ سوچنے لگا:
”مرشد کی بات پر عمل کرنے کے باوجود مجھے کیوں پھر بھی لوگوں کے چہروں پر نفرت کے آثار نظر آتے ہیں‘
اور محبت کرنے کے باوجود مجھے سکون کیوں نہیں مل رہاہے؟”
ایک دن اس نے مرشد کے سامنے اپنی کیفیت کا اظہار کیا۔ مرشد تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ مرید جواب کا منتظر رہا۔ جب انتظار کی گھڑیاں طویل ہوگئیں تو مرشد کی شفقت بھری آواز کانوں میں رس گھولنے لگی:
”اپنے اندر کے دشمن کو مارو’ باہر کے دشمن دوست بن جائیں گے۔ ”
نقال صاحب
اس کا دوست جب اتوار کی صبح گھر میں بن بلائے مہمان کی طرح اچانک آن ٹپکا تو وہ تجربے کی بنیاد پراسے دیکھتے ہی سوچنے لگا کہ آج کا دن بھی گھاٹے میں چلا جائے گا۔ مجھے تو آج ایک کتاب پر تبصرہ لکھناتھا۔ پچھلے دس دن کتاب کے مطالعہ میں صرف ہوئے اور یہ اتنی عمدہ کتاب ہے کہ اس کی جانکاری قارئین تک پہنچنی چاہے۔ یہی سوچتے سوچتے اس نے بادل ناخواستہ لیپ ٹاپ آف کردیا اور اخلاقی فریضہ سمجھ کر اپنے دوست کے لئے چائے منگوائی اور خیرو عافیت پوچھنے کے بعد اچانک تشریف لانے کے بارے میں پوچھا:
” کہے ادیب صاحب’ آج بغیر کسی اطلاع کے اچانک کیسے آنا ہوا؟ ”
دوست نے مسکراتے ہوئے کہا:
” اس میں اچانک آنے والی کونسی بات ہوئی رشید صاحب۔ میرا دل جب بھی چاہتا ہے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا ہوں۔ ”آخر دوست کے ساتھ ساتھ ہمسائے جو ٹھہرے۔ ”
”اچھا وہ تو ٹھیک ہے لیکن آج اتنے سویرے۔۔۔؟ ”
یہ سنتے ہی اس کی باچھیں خوشی سے کھل اٹھیں۔ اس کا نام کچھ اور تھاچونکہ پہلے یہ کاتب تھا اور اب دوسرے لوگوں کی تحریریں بھی کمپوز کرتا رہتا اوران کے خیالات کی نقل کرکے اپنے خیالات کے رنگ میں پیش کرتا تھا۔لیکن اب وہ صرف کاتب نہیں بلکہ خود کو افسانچہ نگار اور تبصرہ نگاربھی سمجھتا تھا۔ اس نے کاغذ کا ایک پلندہ بیگ سے نکالا اور بغیرکسی انتظار کے افسانچے اور تبصرے سنانے لگا۔ یہ سب سنانے کے بعد پہلے خود اپنی قابلیت کی تعریف کرنے لگا اس کے بعد رشید صاحب کے منہ سے تعریفیں سننے کے لئے اتاولا ہونے لگا اور پوچھا:
’’رشید صاحب! آپ ماہر ادب بھی ہیں اور نقاد بھی۔ ذرا ان افسانچوں اورتبصروں پر اظہار خیال فرمائیں
تاکہ میری قابلیت کا رنگ چوکھا ہو جائے۔ ”
یہ سن کر رشید صاحب سوچنے لگا کہ اب اس اناڑی کو کیا بتاؤں’ تخلیقی کام کی بات چھوڑیں’یہ تو ادب کی سمجھ بوجھ سے بھی نابلد ہے۔ تاہم جب چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے وہ اصرار کرنے لگا تو رشید صاحب سے رہا نہ گیا اور مسکراتے ہوئے بولا:
” ادیب صاحب یہ نقل کرنا ترک کریں۔ یہ سنے سنائے واقعات کہاں افسانچے ہوسکتے ہیں۔ اور یہ فضول
قسم کے تبصرے؟ اس غلط فہمی میں نہ رہیں۔ ان میں چند Chat Gpt کی نقل بھی معلوم ہوتے ہیں۔ ”
یہ سننا تھا کہ نقال صاحب کا غصہ ساتویں آسمان تک چڑھ گیا اور بپھرتے ہوئے گویا ہوا:
”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ واٹس ایپ اور فیس بک پر لوگ ان افسانچوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔
وہ مجھے ماہر افسانچہ اور بہترین تبصرہ نگار تک کہتے رہتے ہیں اور جلد ہی کتاب چھاپنے پر زور دے رہے ہیں
اور آپ میری قابلیت کو ردکررہے ہیں؟ ”
رشید صاحب کو جب محسوس ہوا کہ نقال صاحب برا مان گئے اور میری حق گوئی کو تعصب سمجھنے لگے تو اس نے کہا کہ آپ کے ان افسانچوں کے بارے میں بس اتنا کہوں گا:
”آب دَر غِربال۔ ”
نقال صاحب کے پلے جب کچھ نہیں پڑا تو اس نے اس کامطلب پوچھا:
رشید صاحب نے کہا یعنی چھلنی میں پانی ڈالنا۔ بے فائدہ کام۔۔۔۔۔۔!
���
واری پورہ ہندوارہ، کپوارہ کشمیر
موبائل نمبر؛9906834877