راجوری //انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سیکورٹی فورسزراجوری اور پونچھ اضلاع میں ملی ٹینسی کے تازہ واقعات کے بعد ملی ٹینٹوں کے ممکنہ راستوں کی تلاش و چھان بین کرنے میں مصروف ہو گئی ہیں تاکہ گزشتہ چار ماہ کے دوران خطہ میں عسکریت پسندی کے واقعات میں ہوئے اضافے کے سلسلہ میں ملی ٹینٹوں کے ممکنہ راستوں اور نقل و حرکت کے سلسلہ میں مکمل جانکاری حاصل کی جاسکے ۔اس سے قبل خطہ پیر پنچال کے دونوں سرحدی اضلاع ملی ٹینسی سے پاک سمجھے جاتے تھے جبکہ اس بات کا خدشہ ظہار کیا جارہا تھا کہ ملی ٹینٹوں کی جانب سے دونوں سرحدی اضلاع کے زیادہ تر علاقوں کو ’’ٹرانزیٹ روٹ‘‘کے طورپر ہی استعمال کرتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ ماہ میں پیش آئے واقعات کے بعد ملی ٹینٹوں کی زمینی سطح پر موجودگی کی تصدیق بھی ہو گئی ہے جس کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں مکمل طورپر متحرک ہو کر کام کررہی ہیں ۔گزشتہ 4ماہ کے دوران راجوری پونچھ میں نو مرتبہ ملی ٹینٹوں و سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جڑواں اضلاع میں عسکریت پسندانہ سرگرمیوں اور نقل و حرکت کے اچانک شروع ہونے کو سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ’انتہائی تشویش ‘کے طورپر لیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ملی ٹینٹ راجوری پونچھ میں زیادہ وقت نہیں گزارتے تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ وادی کی جانب گامزن رہتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے مذکورہ خطہ میں عسکریت پسندی کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو ا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ سے کچھ ملی ٹینٹ گروپ مسلسل مذکورہ علاقہ میں سرگر م ہیں اور دونوں سرحدی اضلاع کے اندرونی علاقوں کو اپنے لے محفوظ سمجھ رہے ہیں تاہم سیکورٹی ایجنسیوں کو مختلف علاقوں میں ملی ٹینٹوں کے نشانات ملے ہیں ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حالیہ سرگرمیوں کو ذہین میں رکھتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں نے دونوں سرحدی اضلاع میں ملی ٹینٹوں کے ممکنہ راستوں کی چھان بین شروع کر دی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ خطہ میں ملی ٹینٹوں کی آمد کے دو ممکنہ امکانات ہوسکتے ہیں جس میں ایک تازہ دراندازی اور دوسرا وادی کی جانب سے پیر پنچال خطہ میں داخل ہونا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی و انٹیلی جنس ایجنسیاں دونوں امکانات کی تحقیقات میں مصروف ہیں ۔غور طلب ہے کہ اس سے قبل بھی ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس راجوری پونچھ رینج وویک گپتا نے بتایا تھا کہ بھاٹہ دھوڑیاں میں سرگر م ملی ٹینٹوں کا گروپ گزشتہ دو تین ماہ سے علاقہ میں موجود تھا ۔