کرگل ڈیموکریٹک الائنس کاوانگچوک کی رہائی اور فائرنگ واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ
لیہہ//لیہہ کی اعلیٰ ترین باڈی نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ لداخ میں معمول کی بحالی تک وزارت داخلہ کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ساتھ بات چیت سے دور رہے گی۔لیہہ ایپکس باڈی کے چیئرمین تھوپستان چھیوانگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ہم نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ لداخ میں جو صورتحال چل رہی ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، جب تک لداخ میں امن بحال نہیں ہوتا، ہم کسی بھی بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔انہوں نے کہا، ہم وزارت داخلہ اور انتظامیہ پر زور دیں گے کہ وہ خوف، غم اور غصے کے ماحول سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں۔24 ستمبر کو لیہہ اپیکس باڈی کی طرف سے ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کی لداخ تک توسیع کے مطالبات پر مرکز کے ساتھ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بند کے دوران وسیع پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے۔مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے، جب کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے کے الزام میں 60 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ سرگرم کارکن وانگچوک، جو تحریک کا مرکزی چہرہ تھا، کو بھیNSA کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
کرگل
کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے سونم وانگچک اور دیگر کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا، اور مرکز کو خبردار کیا کہ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور دیگر بنیادی مطالبات پورا کرنے میں اس کی ناکامی ہمالیائی خطے کے لوگوں کو “بیگانہ” کر رہی ہے۔کے ڈی اے نے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کو لیہہ میں ہونے والے تشدد کے لیے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جس میں چار افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رکن سجاد کرگلی نے وانگچک کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا، جنہیں سخت قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست میں لیکر جودھ پور جیل میں بند کیا گیا ہے، اور لیہہ میں نظربند دیگر نوجوان لیڈران کو حراست میں لیا گیا تھا۔کرگلی نے کہا، حکومت کو “دانش مندی کا استعمال کرنا چاہیے اور لوگوں کے ساتھ سمجھداری سے پیش آنا چاہیے”۔کرگلی نے کہا”جس طرح سے گولیاں چلائی گئیں، اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے، کچھ احتساب ہونا چاہیے، یہ اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ ہمیں جمہوریت کی ضرورت کیوں ہے،” ۔انہوں نے حکومت کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لداخ میں جمہوریت کا مطالبہ کرنے میں کیا غلط تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی جمہوریت کے ہندوستانیوں کے ڈی این اے میں ہونے کی بات کرتے ہیں؟۔کرگلی نے زور دے کر کہا کہ UT انتظامیہ کی صورت حال سے نمٹنے میں ناکامی تھی، جیسا کہ انہوں نے خاص طور پر “تیاری کی کمی اور فائر کھولنے کے فیصلے” کی نشاندہی کی۔انہوں نے کہا”ہمارے 20 فوجی چین کی سرحد پر شہید ہوئے، لیکن حکومت نے چینی فوج پر گولی چلانے کی اجازت نہیں دی، یہ کیسی حکومت ہے جس نے مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا ہے؟” ۔کے ڈی اے رہنما نے انتظامیہ سے تشدد اور جوابدہی کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
لیہہ میں چھٹے روز بھی کرفیو نافذ
موبائل انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل
موبائل انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل
یو این آئی
لیہہ//لیہہ میںپرتشدد واقعات کے بعد حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور پیر کو مسلسل چھٹے دن بھی کرفیو نافذ رہا۔ انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لئے پولیس اور نیم فوجی دستوں کو حساس علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعینات کیا ہے ، جبکہ لیفٹیننٹ گورنر کَوِندر گپتا نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران امن و قانون کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ شہر میں مسلسل چھٹے روز بھی کرفیو نافذ رہا جبکہ انٹرنیٹ خدمات معطل رہنے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سرکاری طور بتایا گیا کہ ‘صورتحال کرفیو والے علاقوں میں مجموعی طور پر پُرامن رہی ہے اور کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ پولیس اور نیم فوجی اہلکار سخت چوکسی کے ساتھ گشت کر رہے ہیں تاکہ امن برقرار رہے ۔’ لیفٹیننٹ گورنر کَوِندر گپتا نے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں اور سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ چوکسی، قریبی ہم آہنگی اور عوامی سلامتی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ اس اہم اجلاس کے دوران ایل جی کو حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات، سرحدی سرگرمیوں اور داخلی امن و امان کی صورت حال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں، پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے جنہوں نے خطے کی مجموعی سلامتی کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ کویندر گپتا نے کہا کہ لیہہ کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہاں امن و استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ضروری ہے ۔