عوامی شراکت داری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنیکی بنیاد:لیفٹیننٹ گورنر
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سنیچر کو جموں و کشمیر میں سبھی20 اضلاع کیلئے موجودہ مالی سال کیلئے 12,599 کروڑ سے زائدکے پلان کی منظوری دی اور کہا کہ عوامی شراکت داری ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور انہیں مکمل کرنے کیلئے بنیاد ہوگی۔ منوج سنہا نے جموں وکشمیر کے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں سے ضلعی ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر عمل آوری پر تبادلہ خیال کیلئے ایک میٹنگ کی صدارت کررہے تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ کے دوران کہاکہ ضلعی ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل بالخصوص فرائض ، فنڈس ، کاموں کا جمہوری غیرمرکوز کے ساتھ اور فنکشنری ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے تشکیل کے بعد بہت اہمیت کی حامل ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہم جموںوکشمیرکوغیر مرکوزیت اور نچلی سطح پر شریک منصوبہ بندی کا بہتر ین ماڈ ل بنانا چاہتے ہیں۔اس کے لئے پہلی بار نچلی سطح پرجمہوری سیٹ اَپ ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل شامل ہو رہا ہے ۔ اس طرح لوگوں کو بااختیار بنانا اور تین سطحوں والی پنچایتی راج نظام کومزید متحرک بنا نا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ترقیاتی عمل میں لوگوں کی شرکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنروں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کے ضلعی ترقیاتی منصوبے کی تشکیل کے دوران عوام اور ان کے نمائندوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک تہائی خواتین اور بڑی تعداد میں نوجوانوں کے ساتھ لگ بھگ 30 لاکھ افراد منصوبہ بندی کی مشق میں حصہ لیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنروں سے کہا کہ آپ اپنے اضلاع کو بخوبی جانتے ہو، ڈی ڈی سی ویژن کو شامل کریں اور ان میں اولین ترجیحات کے کام شامل ہوں جو مقامی آبادی کی ضروریات کے مطابق اہم ہیں ، عوام کو درپیش مسائل کی نشاندہی کریں اور ان کو حل کرنے کیلئے دستیاب وسائل استعمال کریں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنروں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی اور گرام سبھاؤں کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کریں اور رقومات کی یکساں تقسیم کو یقینی بنانے کے علاوہ علاقائی توازن برقرار رکھیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ مہارت ، علم اور جدید نظریات کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹیں اور اپنے اپنے اضلاع میں دوسروں کے اچھے کاموںکی نقل کریں ۔ ضلع ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور تشخیص کے بارے میں لفٹینٹ گورنر نے اس عمل میں اعلیٰ نمائش ، اعلیٰ اثر اور اعلیٰ عمل آوری کے حصول کیلئے ماہانہ تشخیص اور نتائج کا فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔لیفٹیننٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ ضلع ڈیش بورڈ تیار کریں تا کہ عمل درآمد شدہ منصوبوں کی صورتحال کی نشاندہی کی جا سکے اور اسے عوامی سطح پر ڈالا جائے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ ہر ضلع کو ڈپٹی کمشنر اور ضلع انتظامیہ کے سرپرست کیلئے سینئر سیکریٹری تفویض کیا جائے گا تا کہ وہ نتائج حاصل کر سکیں ۔ ضلع ترقیاتی منصوبے بلاک ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل ہوں گے جو بلاک سطح پر حل کرنے کیلئے درکار امور کی فہرست کو پورا کریں گے ۔ بلاک سطح پر منصوبہ بندی یقینی بنائے گی کہ مختلف پنچائتوں کے مابین معاملات کوحل کیا جائے جہاں اس میں ایک سے زیادہ پنچایت شامل ہیں ۔ نچلی سطح پر پنچایت ترقیاتی منصوبے بنائے جائیں گے جن میں گرام سبھائیں شامل ہیں ۔ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے لیفٹیننٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنروں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کے غیر متوقع سیاحت کے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کریں ۔ انہوں نے ضلع صحت منصوبہ تیار کرتے ہوئے دور دراز علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ زراعت ، باغبانی ، ماہی گیری ، ڈیری اور پشو پالن جیسے شعبے میں بہت زیادہ ترقی کی صلاحیت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں لوگوں کی ضروریات کے مطابق واضح منصوبے تیار کر کے ہم کسانوں کی آمدنی میں تین سے چار گنا اضافہ کر سکتے ہیں ۔ ڈسٹرکٹ سپورٹس پلان پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنروں سے کہا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر پنچایت کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی کی سہولت کیلئے ایک کھیل کا میدان موجود ہو ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ڈسٹرکٹ روڈ کنیکٹوٹی پلان تیار کرنے پر زور دیا تا کہ مناسب رابطہ قائم کیا جا سکے اور ضلعی سڑکیں مناسب حالت میں برقرار رہیں ۔ میٹنگ میں ضلع وار مجموعی پلان سیلنگ کے بارے میں بتایا گیا ۔ میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آر آئی گرانٹ فی پنچایت پر 23.30 لاکھ روپے ، بی ڈی سی گرانٹ 25.00 لاکھ روپے فی بلاک اور ڈی ڈی سی گرانٹ کو ایک ضلع میں ایک کروڑ روپے موجودہ مالی سال کیلئے بجٹ بنایا گیا ہے ۔