اقوالِ زریں میں ایک قول ہے کہ لینے والے سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے۔ ہم جن حالات میں رہ رہے ہیں، اُن کا تقاضا ہے کہ ہم یہ بھی کہیں کہ لینے والے جسم سے بہتر دینے والا جسم ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ زندگی کی جدوجہد میں بہت مصروف ہوجاتا ہے۔ وہ مختصر سی زندگی کو اس قدر اہمیت دیتا ہے کہ دن رات ایک کرکے اپنی اور اپنے اپنوں کی خوشیوں کو سمیٹنے کے لئے ایسی ایسی تیاریوں میں لگ جاتا ہے کہ جیسے اُسے ایک ہزار سال تک یہاں رہنا ہے۔ہر شخص اپنے ہی بارے میں فکرمند ہے اور اپنے اردگرد کراہتی، تڑپتی، سسکتی اور بلکتی زندگیوں کی طرف لمحہ بھر بھی اْس کی توجہ نہیں جاتی۔
ایسا طرزعمل صرف حیوان کا ہوسکتا ہے۔ بلکہ حیوانوں میں بھی بیشتر ایسے ہیں جو ساتھیوں کی تکلیف سے بے چین ہوجاتے ہیں۔ انسان کی سطح تو اس سے نہایت بلند ہے اور اشرف المخلوقات ہے۔ انسان کے ذمے تو یہ کام ہے کہ وہ ساری کائنات پر غور وفکر کرتے ہوئے پوری انسانیت کا غمخوار بنے۔ یہی رویہ اُسے دوسرے انسانوں کا خیرخواہ اور دوسرے انسانوں کو اُس کا خیرخواہ بنائے گا۔
یہ جذبہ ہر انسان کے دل میں جاگزیں ہو تو خون کا عطیہ اپنی ہی جان کی فکر کرنے جیسا عمل بن جائے گا۔ چند روز قبل پوری دُنیا میں خون کے عطیہ کا دن منایا گیا۔ ظاہر ہے عالمی سطح پر انسان کے کسی رویے سے متعلق دن منانے کا مطلب ہے کہ وہ رویہ ملکی سرحدوں، رنگ و نسل، مذہب، ذاتوں یا نظریات کا پابند نہیں۔ کیونکہ خون کا عطیہ دینا انسانیت کو بچانے کی مخلص خواہش کا اظہار ہے اور یہ جذبہ ہر طرح کی بولی بولنے والے انسان میں موجود ہونا چاہیے۔
ریاست جموں کشمیر صدیوں سے مشکلات کا شکار ہے۔ یہاں تو انسانیت کے تئیں نیک جذبات کی فراوانی ہونی چاہیے۔ بھلا ہم سے بہتر خون کی قدر کون جانتا ہے۔ ہمارے کھیت کھلیان، گلی کوچے، ندی نالے اور پہاڑ خون میں نہلا چکے ہیں اور پھر ہمارے یہاں سڑکوں کا حال اور قوانین کی کمزوری کا حال یہ ہے کہ گزشتہ تیس سال کے دوران سڑک حادثوں میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہمارے یہاں جانوں کا ضیاع دوسرے مقامات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہمارے دل سخت ہوجائیں اور ہم انسانیت کے تئیں انسان کا جذبۂ محبت بھول جائیں۔
خون کا عطیہ دینے میں ہر سماج میں مسابقت ہونی چاہیے۔ این جی اوز اور حکومت اس روز اشتہار چھپوا کر اور چند ایک سیمینار منعقد کرسمجھتے ہیں کہ اُن کا کام ہوگیا۔ اس بارے میں جہاں این جی اوز اور سرکاری افسران کا رول بنتا ہے، وہیں مذہبی طبقے کو بھی پہلے بات سمجھنی ہوگی اور اْس کے بعد اپنی تبلیغ میں انسانیت کے جذبے کو اْبھارنے کا کام کرنا ہوگا۔بدقسمتی یہ ہے بعض سرکاری افسر کرپشن کی دلدل میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ اُنہیں یہ سب فضول مشق لگتی ہے۔ اسی طرح بعض ڈاکٹر انسانی جانوں پر تجربے کر کرکے اپنے لئے محلات اور بنگلے تعمیر کررہے ہیں۔ ایک طرف راشی افسر عوامی خزانے کو لوٹ رہے ہیں اور دوسری طرف بے ضمیر ڈاکٹر انسان کی رگوں سے خون چوس رہے ہیں۔
اگر سماجی اخلاق کا یہ حال ہو تو بھلا ہم خون کا عطیہ دینے کو ایک عوامی عمل کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہم ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اکثر اعلانات اور اپیلیں دیکھتے ہیں کہ فلاں ہسپتال میں فلاں مریض کو خون کی اشد ضرورت ہے، لیکن جب تک کوئی فردبشر اس پر تیار ہوجائے کہ وہ ایک انسانی جان بچانے میں مدد کرے تب تک مریض کی موت ہوچکی ہوتی ہے۔ ہمارے سرمایہ دار حضرات نے یہ بات تو سمجھ لی ہے کہ زکواۃ دولت پاک ہوجاتی ہے، لیکن اُنہیں یہ کون سمجھائے کہ اگر ہمارے جسم کے خون سے کسی کی جان بچ جائے تو ہمارا وجود بھی پاک ہوجاتا ہے۔ انسان ایک اخلاقی وجود ہے اور جسم کے اندر اخلاقی حس زندہ رہے اس کے لئے کبھی کبھار خون کا عطیہ دیا کریں۔
(کالم نویس سماجی رضاکار ہیں۔ رابطہ :9469679449)
ای میل : [email protected]