ہم کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے مسلسل جوجھ رہے ہیں اورلاک ڈائون کے کئی مرحلوں کے باوجود کووڈ۔ 19 کے کیسوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وبائی امراض کے 3 ماہ سے بھی کم عرصے میں ملک میں اموات10ہزار سے پار ہوچکی ہے جوفکرمندی کا باعث ہے۔ لاک ڈاؤن سے بڑے جنگ کے لئے تیار رہنے کا ایک علامتی فائدہ ملا تھا۔ جموں و کشمیر میں اب تک55 اموات ہوچکی ہیں اور 5 ہزارکے قریب کیس مثبت پائے گئے ہیں ، لیکن مثبت معاملوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ درحقیقت پچھلے کچھ دنوں میں کورونا پھیلائو میںکچھ زیادہ ہی تیز رفتاری دیکھنے کو ملی۔ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بیشتر شہروں کے کھلنے کے ساتھ ہی کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔
بہتر حفظان صحت کی عادات اور خود ہی دوری بنائے رکھنے جیسے اہم احتیاطی اقدامات کا صرف ایک معمولی اثر پڑے گا کیونکہ اس دوران کئی دفعہ غفلتیں بھی ہوسکتی ہیں اور ایک بہت بھاری آبادی میں بھیڑ بھاڑ ، بے روزگاری ، غذائی قلت وغیرہ جیسے سنگین مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ احتیاطی اقدامات اگر ناممکن نہیں تو لیکن انتائی کٹھن ضرورلگتے ہیں۔اس بات کا غالب امکان ہے کہ ہماری آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ کوروناسے متاثر ہوگا۔ اس تناظر میں آبادی کا قوت مدافعت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک معروف سائنسی حقیقت ہے کہ عمر بڑھنے ، بلند فشار خون ، ذیابیطس ، پہلے سے موجود دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر جیسے امراض سے دوچار مریض میں قوت مدافعت بہت کم ہوتی ہے اور اگر یہ آبادی متاثر ہوجاتی ہے تو نتائج انتہائی افسوسناک ہوسکتے ہیں۔ اس سے یہ مسئلہ سامنے آجاتا ہے کہ کس طرح ایک آدمی اپنی قوت مدافعت بڑھا سکتا ہے۔
قوت مدافعت انسانوں سمیت تمام جانداروں میں ایک ایسی متوازن حالت کا نام ہے جس میں ہر جاندار کے پاس بیماریوں اور عفونتوں جیسے دشمنوں سے لڑنے کی بھرپور حیاتاتی دفاعی نظام موجود ہو۔ اس کے مخصوص اور غیر مخصوص اجزاء ہیں۔ غیر نمایاں یا غیر مخصوص اجزاء عصبی یا عفونتی حیاتیات کی ایک وسیع رینج کے لئے رکاوٹوں یا خاتمے کا کام کرتے ہیں۔مدافعتی نظام کے دیگر اجزاء اپنے آپ کو ہر نئی بیماری کا سامنا کرنے کے اہل بناتے ہیں اور وہ مخصوص حملہ آور حیاتیات کیلئے مخصوص قوت مدافعت پیدا کرسکتے ہیں۔
مدافعتی نظام میں فطری یا پیدائشی اور انطباقی اجزاء شامل ہو سکتے ہیں۔باہری یا بیرونی اشیاء کیخلاف رد عمل کو سوزش کے طور پر بیان کیاجاتا ہے جہاں جسم کے خلیات اس باہری ایجنٹ کے گرد گھیرا ڈالتے ہیں اوراس کو نگل کر کچھ اس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے اس کا وجود ہی نہ رہا ہو اسے ختم کرنے کے مترادف ہیں۔ مدافعتی نظام کے یہ دو اجزاء ایک متحرک ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں "صحت" کو ایسی جسمانی حالت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس میں خود کو مدافعتی طور پر بچایا جاتا ہے اور جوباہر سے آیا ہوا خارجی عنصر ہوتا ہے وہ بذریعہ سوزش اورمدافعتی نظام سے مکمل طور پر ختم کیاتا ہے۔ بیماری تب پیدا ہوسکتی ہے جب باہر سے آنے والے عنصر کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ کووڈ سارس۔2 وائرس کی مثال لیں۔ اگر اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے تو یہ خلیوں میں داخل ہوجاتا ہے اور واقعات کا ایک سلسلہ مرتب کرتا ہے جس سے کم قوت مدافعت والے شخص میں نمونیا ، حرکت قلب بند ہونے جیسے سنگین نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ مضبوط قوت مدافعت والے افراد بغیر علامات یا معمولی نوعیت کے قلیل مدتی علامات کیساتھ اس سے نکل جاتے ہیں۔
عام اقدامات سے عمومی مدافعت بڑھانا ممکن ہے جن کو عادت کے طور پر طرزِ زندگی میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں غذائی تدابیر شامل ہیں جن میں کچھ اضافی خوراک ، پانی کی مناسب مقدار پینا ، باقاعدگی سے ورزش کرنا ، اچھی نیند ، آرام دہ تراکیب اور جہاں تک ممکن ہو، شہر کے سفر پر پابندی شامل ہیں۔
غذا انتہائی اہم جز
کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا،جس کا مطلب چاول ، بہتر آٹا ، میدہ سے بننے والی مصنوعات جیسے روٹی وغیرہ کی مقدار کو کم کرنا ہے۔ اس کے برعکس مرغی ، بنا چربی کاگوشت ، مچھلی ، انڈے وغیرہ کی شکل میں پروٹین کی مقدار میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔کڑم ،ساگ ، پالک ، شملہ مرچ ، بینگن ، مشروم ، بیٹا کیروٹین جیسے کھانے کی چیزیں جس میں گاجر اور لیموں ، کھٹے میوہ جات ، سنترہ ، لیموں اور سیب ، ناشپاتی ، خوبانی اور گری دار میوے جیسے بادام اور اخروٹ کی صورت میںپروٹین (حیاتین)والی غذائوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔ہمارے کچن میں ادرک ، لونگ ، دار چینی ، الائچی ، لہسن عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔قوت مدافعت بڑھانے کے لئے یہ سب اچھے ہیں۔ تاہم زیادہ سے زیادہ تحفظ کے لئے انتہائی پکانے اور تلنے کی بجائے گرم پانی یا گرین چائے میں سوپ کی طرح پینا چاہئے۔وٹامن ڈی جیسے اضافی خوراک(60ہزار یونٹ ہر ہفتہ 3ماہ کیلئے،وٹامن سی 500ملی گرام روزانہ )۔ میٹفارمین دوائی استعمال کرنے والے ذیابیطس کے مریضوں کو ملٹی وٹامن ٹکیوںکی صورت میں سیانوکوبالامین (وٹ بی 12) لینا چاہئے۔
پانی کا مناسب استعمال
8سے10گلاس پانی ،کھٹے پھلوں کا رس ، ناریل پانی ، گرین چائے وغیرہ کی صورت میں کافی مقدار میں پانی پینا چاہئے۔ دودھ اور چینی کے ساتھ چائے دوسے زیادہ دفعہ نہیں پینی چاہئے۔سیال چیزوں کے زیادہ مقدار میں استعمال سے خون سے نقصان دہ مادے نکالنے میں مدد ملتی ہے۔
باقاعدہ ورزش
کسی محفوظ جگہ پر کم سے کم 30 سے 40 منٹ تک ورزش کی سفارش کی جاتی ہے۔ باقاعدگی سے ورزش میٹابولزم کو بہتر بناتی ہے ، جس کا جسم کی قوت مدافعت سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ ورزش شروع کرنے کی خواہش رکھنے والے صحت کے بنیادی مسائل سے دوچار افراد کو ایسا کرنے سے قبل کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرناچاہئے۔
اچھی نیند
جسم کے مدافعتی نظام کو برقراراور سالم رکھنے کے لئے کم از کم 6 سے 7 گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔ یہ پٹھوں کے ریشوں کی مرمت میں مدد کرتا ہے۔ نیند کی کمی جسم کو آرام سے روک سکتی ہے جس سے جسمانی افعال کو نقصان پہنچے گا جس کا براہ راست اثر قوت مدافعت پر پڑے گا۔ اگر نیند نہیں آرہی ہے تو اٹھ کر ایک اچھی کتاب پڑھیں یا ہلکی موسیقی سنیں جب تک آپ اونگناشروع نہ کریں۔
حصول سکون کی تراکیب
یہ آزمائش کے اوقات ہیں اور گھر میں طویل عرصے تک رہنے سے آپ کی ذہنی تندرستی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اپنے آپ کو آرام دہ اور پرسکون کرنے کے کچھ طریقوں میںیوگا ، پرنایما ، نماز پڑھنے اور دیگر نمازوں اور بھجنوں کے دوران دنیا کو پیچھے چھوڑنا یعنی چند لمحوں کو بھلا دیناشامل ہیں۔
یہ آسان طریقے ہیں جو ہم سب کے پاس دستیاب ہیں اور ان کے فوائد پر نہ صرف کم لاگت آتی ہے بلکہ ان کی اثر پذیری بہت سارے مشاہداتی طولانی مطالعے میں ثابت شدہ ہے۔ نہ صرف موجودہ دور میںاہم ہیں بلکہ انفلوانزا ، نمونیا اورہوا میں موجود آبی ذرات، ہوا اور پانی سے پیدا ہونے والی متعدد بیماریوں سے بھی بچنے کیلئے بھی ان کی سختی سے سفارش کی جاتی ہے۔بلند فشار خون ، ذیابیطس اور ہارٹ اٹیک جیسے غیرمتعدی امراض کی پیش قدمی کو بھی ان آرام سے قابل عمل عملی مشوروں پر عمل کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔
(پروفیسر اوپیندر کول معروف ماہر امراض قلب اور سائنسدان ہونے کے علاوہ کارڈیولوجیکل سوسائٹی آف انڈیا اور سارک کارڈئیک سوسائٹی کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔انہیں ڈاکٹر بی سی رائے ایوارڈ اور پدم شری سے بھی نوازا جاچکا ہے)
رابطہ : [email protected]