ہلاکتوں کی تعداد11ہزارسے متجاوز، 30ہزار سے زائد زخمی
یو این آئی
تل ابیب//غزہ میں حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ کل 31ویںروز داخل ہوا جسمیں ہلاکتوں کی تعداد11ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور 30ہزار سے زائد زخمی ہیں۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مزید کہا کہ “ہم کسی بھی صورت حال اور ہر محاذ پر لڑنے کو تیار ہیں‘‘ْ۔انہوں نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں مزید کہا کہ “بڑے حملے اس وقت شروع کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹی میں زمینی کارروائیاں کرنے والی اسرائیلی افواج نے اسے دو حصوں جنوبی اور شمالی غزہ میں تقسیم کر دیا ہے ۔
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی شدید بمباری اور زمینی حملہ جاری ہے ۔حماس نے سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی کے آس پاس کی بستیوں پر اچانک حملہ کیا، جس میں تقریباً 1400 اسرائیلی مارے گئے اور اسرائیلی فوج کے مطابق حماس نے 241 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اب تک غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تقریباً 9,770 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 4,800 بچے بھی شامل ہیں۔ فضائی اور زمینی حملوں میں زخمیوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہو چکی ہے ۔اسرائیلی طیاروں نے رات گئے المغازی، الشاطی، جبالیہ کیمپوں پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں مزید پچاس سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے، جس میں ایک ہی خاندان کے اکیس افراد بھی شامل ہیں۔صہیونی فوج نے القدس اسپتال کے قریب رہائشی عمارت کوملیا میٹ کردیا، ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ بنے اقوام متحدہ کے الفخورا اسکول اور انڈونیشیا اسپتال کے قریب بھی بمباری کی گئی جبکہ حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر کو ڈرون سے نشانہ بنایاگیا۔ اسرائیل کی بمباری کے 31 ویں دن غزہ میں ہر طرف جنازے اور زخموں سے چور مظلوم فلسطینی جوان، بچے ، بوڑھے اور خواتین نظر آتے ہیں اور وہاں کی فضا مستقل سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے ۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت میں اس کے 88 اہلکار بھی جاں بحق ہو چکے ہیں اور یہ کسی بھی تنازع میں اقوام متحدہ کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے ۔