ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
دفتر سے تنخواہ لے کر میں خوشی خوشی میٹاڈور میں بیٹھا۔ کئی سوایاں آئیں اور گاڑی بھر گئی اور کوئی سیٹ خالی نہ بچی، میٹاڈور رکی اتنے میں ایک عمر رسیدہ بڑھیا سوار ہوئی۔ اس لیے وہ بیچاری کھڑی کھڑی ہی کسی سیٹ کے خالی ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھ سے اس بےچاری ناتواں کا میٹاڈور میں ہچکولے کھانا دیکھا نہ گیا، اس لئے اپنی سیٹ خالی کر کے اس کو وہاں بٹھا دیا۔ اس نے مجھے دعائیں دیں کہ اللہ تجھے صحت دے، عزت دے وغیرہ وغیرہ۔ اس کی یہ دعائیں سن کر میں اور زیادہ پسیج گیا۔ اب میں نے جیب سے روپے نکال کر اس بڑھیا کا بھی کرایہ ادا کیا۔
میٹاڈور تھوڑی دور جا کر اسٹاپ پر رکی۔ تب ہی اس بڑھیا نے شور مچانا شروع کیا:
“لوگو! میری جیب کسی نے کاٹ لی۔ ہائے! میں لٹ گئی۔ اب کیا کروں!”
باقی سواریوں نے ڈرائیور کو رکنے کے لیے کہا۔ اتنے میں بڑھیا نے کہا کہ مجھے اس شخص پر شک ہے۔ بڑھیا نے میری طرف اشارہ کیا اور مزید کہا:
“میرے پاس پچاس پچاس کے نوٹ تھے، اور کچھ پانچ پانچ کے اور کچھ دو دو روپے کے نوٹ تھے۔ جس وقت اس شخص نے میرا کرایہ دیا تھا، اسی وقت اس نے میرے یہ نوٹ دیکھ لئے تھے۔”
میں حیران ہو گیا کہ اس بڑھیا کو کیا ہو گیا۔ بڑی عجیب عورت ہے۔ ایک تو میں نے اس کو اپنی سیٹ دی، پھر اس کا کرایہ بھی دیا، اب یہ مجھ پر ہی اتنا بڑا الزام لگا رہی ہے۔
سواریوں نے کہا:
“بھٹی صاحب! کیا بات ہے، دکھاؤ اپنی پتلون کی جیب۔”
میں نے فوراً اپنی جیب سے دفتر سے ملی ہوئی تنخواہ کے روپے نکال کر سب کو دکھائے کہ یہ تو میری تنخواہ ہے جو مجھے ابھی ابھی دفتر سے ملی ہے۔ اس میں واقعی پچاس پچاس، پانچ پانچ اور دو دو روپے کے نوٹ تھے۔ میں نے ہی اس بڑھیا کا کرایہ بھی دیا تھا۔ اسی وقت اس محترمہ نے یہ سب روپے دیکھے ہوں گے۔ مجھے اس کا یہ صلہ دے رہی ہے؟
سواریوں نے بڑھیا کی بات سچ مان کر مجھے ہی لعنت ملامت کرنی شروع کر دی۔ سب نے میری بےعزتی کی۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ اتنے میں پولیس مجھے اور بڑھیا کو تھانے لے گئی۔ پوچھ تاچھ کے دوران میں نے تھانیدار کو کہا:
“آپ جناب میرے دفتر فون کر کے پتہ کریں کہ کیا واقعی مجھے ابھی ابھی تنخواہ ملی ہے یا نہیں، اور کتنی تنخواہ ملی ہے۔ بڑھیا کا جھوٹ خود بخود ثابت ہو جائے گا۔”
تھانیدار نے میری بات مان لی اور سمجھ بھی گیا، اور میرے دفتر فون کر کے تسلی کر لی کہ واقعی یہ میری تنخواہ ہی ہے اور بڑھیا جھوٹ بول رہی ہے۔
اب تھانیدار نے بڑھیا کی بڑی بےعزتی کی اور حوالدار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“سپاہی! اس جھوٹی اور فراڈی بڑھیا کو اندر ڈال دو۔”
اب بڑھیا کو اپنے کئے کا انجام نظر آنے لگا۔ اس نے دوسرا داؤ شروع کیا:
“جناب! مجھے معاف کر دو، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ میں قصوروار ہوں، خدا کے لئے مجھے بخش دو۔”
اب بڑھیا زار و قطار رونے لگی۔ وہ تھانیدار تو کبھی میرے پاؤں پکڑنے لگی، کبھی ادھر تو کبھی ادھر ماتھا رگڑنے لگی، اور اپنی غلطی مان گئی۔
اس کے بار بار پاؤں پکڑنے اور گڑگڑانے سے میرا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا، اور پھر تھانیدار نے بھی کہا کہ اگر آپ اسے معاف کریں گے تو اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا، تب جا کر ہی میں اسے چھوڑ دوں گا، ورنہ اس کا قید ہونا طے ہے۔
میں نے تھانیدار کی بات مان لی اور بڑھیا کو معاف کر دیا۔ ساتھ ہی کہا:
“تھانیدار صاحب! بڑھیا کو سمجھا دیں کہ آئندہ دوبارہ ایسا نہ کرے، کیونکہ پھر اس طرح کوئی بھی آدمی کسی مجبور پر، جو واقعی تکلیف میں ہو، ترس نہیں کھائے گا۔”
���
سرینگر، کشمیر ،موبائل نمبر؛8825051001