جموں//گورنر کے مشیر کے ۔ وِجے کمار نے لل دید ہسپتال میں ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کا آج سنجید ہ نوٹس لیا ہے ۔مشیر اس سلسلے میں پرنسپل سیکرٹری صحت و طبی تعلیم اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر ، ایسو سیٹیڈ ہسپتالوں کے علاوہ ایل ڈی ہسپتال سری نگر کی انتظامیہ اور فیکلٹی کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران خطاب کر رہے تھے۔پرنسپل جی ایم سی جموں ، جموں کے تمام ہسپتالوں کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔مشیر نے مختلف سطحوں پر کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے اور نظام میں بہتری لانے کی غرض سے افسروں کی سفارشات طلب کیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکے۔انہوں نے مختلف طبی اداروں کے سربراہوں پر زور دیا کہ وہ ایسا ریفرل نظام وجود میں لائے تاکہ صرف پیچیدہ کیسوں کو ہی بڑے ہسپتالوں تک ریفر کیا جاسکے ۔مشیر موصوف نے انتظامیہ پر مزید زور دیا کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے لئے ہسپتالوں کے سربراہوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاہم طبی نگہداشت کے شعبے نے ریاست میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران مشکل صورتحال کے باوجود بھی قابل فخر کام انجام دیا جسے کسی بھی حالت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔پرنسپل سیکرٹری صحت و طبی تعلیم نے کہا کہ ہسپتالوں میں جاری سٹینڈنگ اوپریٹنگ پروسیجرس کو من و عن عملایا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ آڈٹنگ میکانز م کے تحت مریض کو ریفرکرنے والے ڈاکٹروں کا نسخہ واضح ہونا چاہیئے جس پر ڈاکٹر کا نام اور دیگر تفاصیل درج ہوں تاکہ ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داریاں عائد کی جاسکیں۔انہوں نے پرنسپل جی ایم سی سری نگر اور جموں کے علاوہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر اور جموں کو ہدایات دیں کہ وہ ایسے نوڈل افسروں کی نشاندہی کریں جنہیں پرائمری سے سکینڈری صحت اداروں اور بعد میں ٹریشری صحت اداروں میں مریضوںکے ریفرل نظام میں معقولیت لانے کا کام سونپا جاسکے ۔مشیر موصوف نے کہا کہ طبی نگہداشت کے شعبے میں اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جانا چاہیئے او رکسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گاکہ عام شہریوں کو بہتر طبی سہولیات دستیاب ہوسکیں۔انہوںنے کہا کہ گورنر انتظامیہ ریاست بھر میں پرائمر ی ہیلتھ کیئریر کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کر نے کی وعدہ بند ہے اور اس حوالے سے ہسپتالوں کو افرادی قوت ، جدید سازو سامان اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے لیس کیا جارہا ہے ۔