شبیرابن یوسف
سرینگر// جموں و کشمیر پولیس نے ایک بڑا انسدادملی ٹنینسی اقدام کرتے ہوئے لشکر طیبہ کے طویل عرصے سے چلنے والے سیف ہاؤس اور فنڈنگ نیٹ ورک کو ختم کیا، اور دو اہم پاکستانی آپریٹو گرفتار کیے جو ایک دہائی سے گرفتاری سے بچ رہے تھے۔اس آپریشن کے بارے میں پولیس سربراہ نلین پربھات نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا’’آپ بھاگ سکتے ہیں، لیکن چھپ نہیں سکتے‘‘۔
لشکر طیبہ کے آپریٹو، جن کی شناخت حُریرہ کے نام سے ہوئی اور جنہیں عبداللہ عرف ابو حریرہ بھی کہا جاتا ہے، کچھ سال پہلے وادی کشمیر میں داخل ہوئے اور مقامی لوگوں میں گہرائی سے جڑ پکڑ لی۔ حکام کے مطابق ان کی گرفتاری سری نگر پولیس کی قیادت میں انٹیلی جنس پر مبنی مسلسل آپریشن کے بعد ہوئی، جس میں مرکزی سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کیا گیا۔حُریرہ کے ساتھ ایک اور پاکستانی ملی ٹینٹ عثمان عرف خُبَیب اور سری نگر کے تین مقامی معاونین محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ، اور غلام محمد میر عرف ماما کوبھی گرفتار کیا گیا، ۔ تفتیش کاروں کے مطابق، مقامی آپریٹو اوور گراؤنڈ ورکرزکے طور پر کام کرتے تھے اور ملی ٹینٹوںکو پناہ، خوراک اور لاجسٹک مدد فراہم کرتے تھے۔ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کو بتایا کہ حُریرہ نے سری نگر اور دیگر علاقوں میں ایک پیچیدہ سپورٹ نیٹ ورک قائم کیا تھا۔ایک سینئر پولیس افسر، جو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہا تھا، نے کہا’’یہ کوئی وقتی انتظام نہیں تھا۔ حُریرہ نے برسوں کے دوران ایک گہرا اور مربوط نظام بنایاجن میںمقامی مدد، مالیاتی چینلز اور سٹریٹجک چھپنے کی جگہیں شامل تھیں تاکہ ملی ٹینٹ سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے‘‘۔جموں و کشمیر، راجستھان اور ہریانہ میں 19مقامات پر ہم آہنگ چھاپوں کے دوران، سکیورٹی فورسز نے اسلحہ اور گولیوں کا ذخیرہ برآمد کیا، جس میں چار اے کے 47رائفلیں، چار پستول اور دیگر ثبوتی مواد شامل تھا۔حکام نے ہریانہ اور راجستھان سے تقریباً درجن افراد کو بھی گرفتار کیا جو پاکستانی ملی ٹنٹ کو ملک سے فرار ہونے میں مدد فراہم کر رہے تھے۔ تفتیش کاروں کوشبہ ہے کہ یہ افراد فرار کے راستے، محفوظ سفر، اور بیرونی لاجسٹک مدد فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ایک افسر نے کہا’’اس ماڈیول کا بین ریاستی پہلو ظاہر کرتا ہے کہ ملی ٹینسی کے نیٹ ورک اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہیں۔ وہ زندہ رہنے اور کام کرنے کے لیے مختلف ریاستوں میں سہولت کاروں کے جال پر انحصار کرتے ہیں‘‘۔
حکام کے مطابق، حُریرہ نے لشکر طیبہ کی کارروائیوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ وادی میں ملی ٹینٹ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے پیسے وصول اور تقسیم کرتا رہا۔ایک پولیس افسر نے کہا’’فنڈ فلو،جو مذہبی سفر کے لین دین کے طور پر چھپایا جاتا ہے، ایک بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔ ہم ان چینلز کو قریب سے ٹریک کر رہے ہیں تاکہ ملی ٹینسی کی مالی ریڑھ کی ہڈی کو ختم کیا جا سکے‘‘۔حکام نے اس آپریشن کو پاکستان کی حمایت یافتہ ملی ٹینسی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے وادی میں ایک اہم دھچکہ قرار دیا۔انکاکہناتھا’’یہ گرفتاری ایک واضح پیغام دیتی ہے،چاہے ملی ٹینٹ کتنے ہی گہرائی میں چھپے ہوں یا محفوظ ہوں، وہ بے قصور نہیں رہ سکتے۔ ہم ہر اس سطح کو ختم کریں گے جو ایسے نیٹ ورکس کو فعال بناتی ہے‘‘۔یہ آپریشن ایسے ہائبرڈ خطرات کے خلاف کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے، جن میں دراندازی، مقامی انتہا پسندی، اور سرحد پار فنڈنگ شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اوجی ڈبلیونیٹ ورکس اور سلیپر سیلز کو ختم کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے جوملی ٹینٹ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں۔تمام گرفتار افراد سے مزید روابط جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ تحقیقات جاری ہے۔پولیس نے شہریوں سے بھی ہوشیار رہنے اور کسی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔ایک افسر نے کہا’’عوامی تعاون انتہائی اہم ہے۔ شہریوں کی بروقت معلومات نے بارہا بڑے حادثات کو روکا اور دہشت گرد ماڈیولز کو ختم کرنے میں مدد کی ہے‘‘۔