عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مرکزی ریشم پروری تحقیق و تربیتی ادارہ (سی ایس آر اینڈ ٹی آئی)، مرکزی ریشم بورڈ (سی ایس بی)، وزارتِ ٹیکسٹائلز، حکومتِ ہند، پانپور نے لداخ یونیورسٹی کے اشتراک سے کرگل میں ’’لداخ میں ریشم پروری کی ترقی‘‘ کے موضوع پر مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں ضلع کی تمام بڑے لائن محکموں کے سربراہوں اور نمائندوں سمیت تقریباً 100 اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ایل اے ایچ ڈی سی کرگل کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسلر محمد جعفر آخون نے تقریب کی ۔ انہوں نے لداخ میں ریشم پروری متعارف کرانے پر مرکزی ریشم بورڈ کی کوششوں کو سراہا۔ 45 روزہ انٹینسیو بائی وولٹین ریشم پروری تربیتی کورس کے شرکاء میں اسناد تقسیم کرتے ہوئے انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ شعبہ جلد ہی کرگل کے لوگوں کے لیے پائیدار ذریعہ معاش ثابت ہو گا۔ انہوں نے جون 2025 میں لیہہ میں منعقدہ ’’ایکتا ایونٹ‘‘ کے دوران کیے گئے وعدوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں پی سیواکمار (آئی ایف ایس)، ممبر سیکرٹری، مرکزی ریشم بورڈ اور سمت پدمِنی سنگلا (آئی اے ایس)، جوائنٹ سیکرٹری (فائبر)، وزارتِ ٹیکسٹائلز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مکمل محکمہ قائم ہونے تک ریشم پروری کیلئے ایک مناسب لائن ڈیپارٹمنٹ میں علیحدہ ونگ قائم کیا جائے گا۔ آغا سید مجتبیٰ موسوی، ایگزیکٹو کونسلر (سوشل ویلفیئر/محکمہ زراعت/محکمہ حیوانات و شیپ ہسبینڈری/آئی سی ڈی ایس)، ایل اے ایچ ڈی سی کرگل نے بھی اس شعبے کے فروغ کے عزم کو دہراتے ہوئے سی ایس بی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔