پردیپ کمار سکسینہ
حصہ اول: دہائیوں سے تعطل کا شکار منصوبہ
خلاصۂ اجرائیہ
شمالی کشمیر میں واقع وولر جھیل کے ایگزٹ پوائنٹ پر جزوی طور پر تعمیر شدہ یہ ڈھانچہ 1987 سے اب تک تعطل کا شکار ہو کر یوں ہی کھڑا ہے، جو پاکستان کے ساتھ خیر سگالی اور دوستی کے نام پر بھارت کی جانب سے کئی عشرے تک اختیار کردہ تحمل اور احتیاط کا خاموش گواہ ہے. تُلبل نیویگیشن پروجیکٹ، جو جھیل کے ایگزٹ پوائنٹ پر دریائے جہلم پر واقع ایک معمولی نوعیت کا نیویگیشن لاک منصوبہ ہے، اور اس منصوبہ کو اس وقت معطل کر دیا گیا تھا جب پاکستان کے اعتراض کے بعد بھارت نے خیر سگالی جذبے کے تحت اس کی تعمیر روک دی. باہمی مذاکرات کے چودہ ادوار کے باوجود کوئی حل برآمد نہ ہو سکا؛ پاکستان کی طرف سے اتفاقِ رائے کے بجائے مسلسل رکاوٹ کا راستہ اختیار کیا. یہ دو حصوں پر مشتمل مضمون سندھ طاس معاہدے کے منظم غلط استعمال کے ذریعے پاکستان کی جانب سے پیدا کیے گئے چار دہائیوں پر محیط دانستہ تعطل اور اس کا کشمیر کی معیشت، آبی گزرگاہوں اور روزگار پر پڑنے والے دیرپا اثرات کی گواہی دیتا ہے. اس کا پورا خمیازہ کشمیر کو تباہ شدہ آبی نقل و حمل، زوال پذیر ماہی گیری، اور محدود ہوتی ہوئی سیاحت کے طور پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔
پس منظر
چار دہائیوں سے شمالی کشمیر میں وولر جھیل کے ایگزٹ پوائنٹ کے مقام پر جزوی طور پر مکمل شدہ ڈھانچہ کھڑا ہے؛ یہ بدقسمتی سے انجینئرنگ کے عزم کی نہیں بلکہ حد سے زیادہ رعایت دینے کی قیمتوں کی یادگار بن چکا ہے. تُلبل نیویگیشن پروجیکٹ اس بات کی دائمی علامت بن چکا ہے کہ 1960کے سندھ طاس معاہدے (IWT) کو پاکستان نے کس طرح کشمیر کے لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جڑے ترقیاتی منصوبے میں رخنہ ڈالنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا۔
دریائے جہلم
دریائے جہلم کشمیر وادی کی واحد قدرتی آبی گزرگاہ ہے جس میں اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کی قابلِ عمل صلاحیت موجود ہے. وادی کشمیر کے جنوب مشرق کنارے واقع ویر ناگ کے چشمے سے نکلنے والا دریائے جہلم خانہ بل، اننت ناگ اور سری نگر سے گزرتا ہوا بنیاری کے مقام پر وولر جھیل میں جا گرتا ہے. اس جھیل میں کئی ندی نالوں سے آکر پانی گرتا ہے، لیکن اس کا اخراج صرف ایک راستے سے ننگلی کے مقام پر ہوتا ہے، جہاں سے ایک اخراجی نالہ آگے بارہمولہ تک جاری رہتا ہے. خانہ بل اور بارہمولہ کے درمیان اس 170کلومیٹر طویل راستے پر ہلکا ڈھلوانی بہاؤ تاریخی طور پر اسے آبی نقل و حمل کے لیے موزوں بناتا رہا ہے۔
یہ آبی گزرگاہیں طویل عرصے سے کشمیر کی تجارتی زندگی کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہیں. آزادی سے قبل وادی کے تقریباً 70 فیصد اشیاء کی نقل و حمل دریاؤں کے راستے بڑے لکڑی کے جہازوں، جنہیں ’خچو‘ کہا جاتا تھا، پر ہوتی تھی، اور ہر جہاز میں 15ٹن تک سامان لے جانے کی گنجائش ہوتی تھی. آزادی کے بعد کشمیر کے باغبانی شعبے میں، خاص طور پر سوپور کے گرد و نواح میں تیزی سے ترقی ہوئی، جس کے نتیجے میں مال برداری کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا، اور رفتہ رفتہ چپوؤں سے چلنے والی روایتی ’خچو‘ کشتیوں کی جگہ مشینی دریائی نقل و حمل نے لے لی۔
وولر جھیل ماضی میں سردیوں کے دوران مسلسل آبی اخراج کے ذریعہ پورے سال آبی نقل و حمل کے قابل رہنے کی ضمانت فراہم کرتی تھی. یہ صورتحال 1960کی دہائی میں اس وقت تبدیل گئی جب سوپور میں سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کے لیے حکام نے ننگلی اور بارہمولہ کے درمیان دریائی راستے کے 20 کلومیٹر حصے کی کھدائی (ڈریجنگ) کی. اس تدبیر سے مقصد تو حاصل ہوگیا اور سوپور کے لوگوں کو سیلاب کی صورتحال سے راحت ہوئی، لیکن اس کے ایک غیر متوقع نتیجے کے طور پر ہر موسمِ سرما میں جھیل کا پانی وقت سے قبل نکلنا ہونا شروع ہو گیا، جس کے باعث اکتوبر سے فروری کے درمیان پانی کا بہاؤ تجارتی کشتیوں کے لیے مطلوب گہرائی سے کم ہوگیا. پورے سال جاری رہنے والی آبی نقل و حمل مؤثر طور پر ختم ہو گئی۔
ایک منصوبہ جو تعمیر کے دوران ہی روک دیا گیا
تُلبل منصوبہ صرف اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا کہ ڈریجنگ کے نتیجے میں جو کمی واقع ہوئی تھی اسے دوبارہ بحال کیا جا سکے۔ننگلی چینل پر وولر جھیل کے ایگزٹ پوائنٹ پر ایک نیویگیشن لاک اور بہاؤ کو منظم کرنے والا ڈھانچہ بارہمولہ تک کے اہم 20کلومیٹر طویل حصے میں پورے سال آبی نقل و حمل کے لیے مطلوب گہرائی کو یقینی بناتا۔ آبی نقل و حمل کی بحالی کے علاوہ، اس منصوبے سے مانسون کے دوران سیلاب میں کمی، سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی، اور دریائے جہلم کے راستے میں ٹرکوں سے ہونے والی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہونے کی امید تھی۔
بھارت نے 1984میں اس کی تعمیر شروع کی۔ اس پر پاکستان نے فوراً اعتراض کیا اور اس ڈھانچے کو دریائے جہلم پر ایک “آبی ذخیرہ کرنے والا منصوبہ” قرار دیا، جو ایک مغربی دریا ہے اور جس پر سندھ طاس معاہدے (IWT) کے تحت پاکستان کو زیادہ تر پانی کے استعمال کے حقوق حاصل ہیں. بھارت نے قابلِ ذکر تکنیکی جواز کے ساتھ اپنا مؤقف برقرار رکھا کہ یہ منصوبہ نہ تو کوئی ڈیم ہے اور نہ ہی ذخیرہ آب، بلکہ ایک نیویگیشن لاک ہے جو انتہائی معمولی مقدار میں پانی روکتا ہے اور یہ مقدار معاہدے کے تحت مقررہ قابلِ اجازت حدود کے اندر ہے. مئی 1986 سے جولائی 1987کے درمیان مستقل سندھ کمیشن کے چھ اجلاس منعقد ہونے کے باوجود کوئی اتفاقِ رائے نہ ہو سکا.
پاکستان کے اعتراضات محض نظریاتی نوعیت کے تھے اور معاہدے کے بنیادی مقاصد اور روح سے واضح طور پر متصادم تھے، یعنی ’’سندھ طاس نظام کے پانیوں کے مکمل اور اطمینان بخش استعمال کو یقینی بنانا‘‘۔ پاکستانی مؤقف کو اگر منطقی انجام تک پہنچایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وولر جھیل کا پانی تیزی سے ختم ہو جائے، جس سے کسی بھی فریق کو کوئی فائدہ نہ پہنچے، جبکہ دریائے جہلم کی آبی نقل و حمل کو طویل مدتی نقصان برداشت کرنا پڑے. یہ تباہ کن طرزِ عمل بنیادی عقل و منطق کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے بھی منافی ہے۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ معاہدے کی تاریخ کے طویل ترین سفارتی تعطل میں سے ایک تھا. جب کمیشن کی سطح پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تو معاملہ سیکرٹری کی سطح تک لے جایا گیا. پاکستان کے اصرار پر اور حکومتی سطح پر معاملے کے حل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے خیرسگالی جذبے کے تحت، بھارت نے 2اکتوبر 1987کو تعمیراتی کام معطل کر دیا، حالانکہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی شق کے تحت ایسا کرنا اس پر لازم نہیں تھا. یہ معطلی ابتدا میں تین ماہ کے لیے ہوئی. سیکرٹری سطح کے مذاکرات کے دو ادوار کے بعد، بھارت نے مزید تین ماہ کے لیے تعمیر کو معطل کرنے پر اتفاق کیا اور بعد ازاں جون 2، 1988تک کام کی معطلی میں ایک ایک ماہ کی دو مزید توسیعات بھی دی ہوتی گئیں. مذاکرات کے پانچ ادوار کے بعد بھارت نے اس معاملے کا خوشگوار حل مل جانے تک غیر معینہ مدت کے لیے تعمیر کو معطل کرنے کی پاکستان کی درخواست قبول کر لی. ہمیشہ کی طرح، بھارت نے معاہدے کی بنیاد بننے والی خیرسگالی اور دوستی کے جذبے سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا اور ایسی رعایت دی جس کا معاہدے کے تحت اس پر کوئی تقاضا عائد نہیں ہوتا تھا۔
اس معاملے پر پاکستان کے طرزِ عمل سے مسلسل اس قصد کا اظہار ہوتا رہا ہے کہ مسئلے کو حل نہیں کرنا ہے بلکہ تاخیر کے ذریعے اسے طول دینا اور ناکام بنانا ہے. اور یہ منصوبہ اس وقت سے معطل ہے، جو ایک دانستہ نتیجہ ہے اور پاکستان کے اس تزویراتی مفاد کو پورا کرتا ہے کہ کشمیر کے آبی وسائل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مستقل طور پر نامکمل رکھا جائے۔(جاری)
حصہ دوم میں اس معطلی سے ہونے والے انسانی اور معاشی نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
(مضمون نگار ملک کےسابق کمشنر برائے سندھ طاس امورتھے۔بشکریہ وزارت خارجہ، حکومت ہند)