ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کی جانب سے شروع کئے گئے آن لائن قرآنک کلاس کو تادمِ تحریر چھ ماہ سے زائد ہوا۔ اس کلاس میں کم از کم45بچوںنے اپنی شرکت کو لازمی بنایا ہے۔ اس کلاس میں اکثر یت اُن بچوں کی ہے جنہوں نے کسی بھی درسگاہ میں نہیں پڑھا ہے ۔ حروف کی پہچان، ان پر حرکات سے سبھی بچے بے خبر تھے۔ ابتداء میں آن لائن کلاس کے ذریعے حروف تہجی کی پہچان کرائی گئی ، بعد میں ان حروف کی مختلف شکلیں باور کرائیں گئیں ۔ تمام حروف کی پہچان ، ان پر مختلف حرکات ڈال کر اس آن لائن کلاس کے ذریعے سمجھا یا گیا۔ اس کلا س کی خاص بات یہ ہے کہ ناظرہ کے لئے اس میں کسی بھی قسم کے ’قاعدیـ‘کا سہارا نہیں لیا گیا۔بلکہ یہ کلاس ابتدا سے لے کرآج تک روایتی انداز سے ہٹ کر شروع کی گئی ۔ چونکہ یہ کلاس’ Zoom App ‘ کے ذریعے چل رہاہے اس لئے یہ ممکن نہیں کہ قاعدے کے ذریعے ان بچوں کو پڑھا یا جائے ، بلکہ اس کے بدلے موبائل کے اسکرین پر ہر روزنئے سبق کی تصویر ڈال دی جاتی ہے اور اس کے ذریعے یہ کلاس چل رہی ہے۔ الحمد اللہ جن بچوں کو’ پڑھنا ‘یا ’حروف پہچاننا‘ بالکل بھی نہیں آتا تھا اب اعراب ڈال کے سبھی بچے احسن طریقے سے پڑھ پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسنون و قرآنی دعائیں، احادیث ، سیرت رسول,ﷺ وغیرہ کا بھی درس ہوتا ہے ۔ کلاس کے لئے ۴۰ منٹ مختص ہیں جس میں بچوں کو پڑھا یا بھی جاتا ہے اور ان سے سبق سُنا بھی جاتا ہے۔ان بچوں کی کارکردگی پرکھنے کے لئے آن لائن امتحان بھی لیا گیا۔
مذکورہ کلاس ۱۳اگست ۲۰۲۰ ء سے شروع ہوا ۔ دسمبر ۲۰۲۰ء میں بچوں کا امتحان ہوا۔اس کے لئے باضابطہ طور پر Datesheet'‘ اجرا کیا گیا ۔ امتحان ۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء بروز جمعہ سے ۱۳ دسمبر ۲۰۲۰ء بروز اتوار تک رکھا گیا۔ اس کی تشہیر وٹسپ گروپ پر کی گئی جو اس کلاس کے لئے پہلے سے ہی بنایا گیا تھا۔ امتحان میں ۴۰ بچوں نے حصہ لیا۔ ہر دن ۱۰بچوںکے لئے امتحان رکھا گیا اوردورانِ کلاس یہ بھی اعلان کیا گیا تھا جو بچہ اس امتحان میں اول پوزیشن سے کامیابی حاصل کر لے گاانہیں خاص تحفے سے نوازا جائے گا۔ یہ اعلان سنتے ہی سبھی بچے تیاری میں لگ گئے ۔ اس امتحان کی تیاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بچے کی والدہ نے راقم کو مسیج کی کہ اس امتحان کے نتائج بچوں کے لئے کم اور والدین کے لئے زیادہ اہم ہونگے ۔ کیونکہ اس امتحان کے لئے بچوںکو تیار کرنے کے لئے والدین نے بہت محنت کی ہے ۔ اس امتحان کے لئے باضابطہ طور پر’ سیلبس ‘بھی دیاگیا۔ناظرہ کیلئے (۳۰)، قرآنی دعاکیلئے(۱۰)، مسنون دعا کیلئے( ۱۵)، حدیث کیلئے(۱۵)، سورہ کیلئے (۱۰)، سیرت رسول ﷺ کیلئے (۱۰)، اور کلمے کے لئے(۱۰) مارکس رکھے گئے تھے۔ امتحان بھی بذریعہ ’ زوم ایپ‘ آن لائن ہی لیا گیا۔ اور خاص کر ’ناظر ہ ‘کا سبق ا س امتحان میں اہم تھا، وہ سبھی بچوں نے بہت اچھی طرح پڑھ کے سُنایا۔ اس کے علاوہ دعائیں، سیرت، احادیث ، کلمہ اور سورہ سب کچھ بچوں نے یاد کئے تھے ، اور امتحان کے دوران سبھی بچوں نے احسن طریقے سے سُنایا۔
امتحان کے نتائج کا سبھی بچے اور والدین بے صبری سے انتظار کر رہے تھے کہ کون سا بچہ اول پوزیشن لیکر کامیا ب ہوا ہے ۔اس حوالے سے شعبہ معارف ادارہ فلاح الدارین کی ایک اہم نشست مورخہ ۱۸ دسمبر ۲۰۲۰ ء شام ۸ بجے منعقد ہوئی جس میں یہ فیصلہ لیاگیا کہ اس امتحان کے نتائج کا اعلان ۲۰ دسمبر ۲۰۲۰ء بروز اتوار شام کے 6:30 بجے زوم ایپ کے ذریعے ہی کیا جائے گا۔حالانکہ اتوار کے دن کلاس نہیں ہوتی ہے مگر نتائج کے لئے یہی دن مقر ر ہوا۔ اس دن روز کی طرح وٹسپ گروپ پر زوم ایپ کی لِنک ڈال دی گئی اور ۵۰ سے زائد ممبروں نے اس دن ا س زوم میٹنگ میں شرکت کی ۔ شروعات تلاوت کلام سے کی گئی ، تلاوت اسی کلاس کے ایک طالب علم شیخ عبدالہادی نے کی۔ اس کے بعدسیکریٹری شعبہ معارف محترم تنویر احمد ملک نے سیر حاصل گفتگو کی جس میں بچوں کے لئے خصوصی نصیحتیں موجود تھیں اور والدین کوبھی بچوںکے تئیںان کی ذمہ داریوںسے آگاہ کیا۔ ان کا پروگرام ۳۰ منٹ تک رہا ۔
بعدازاں راقم نے نتائج کا اعلان کیا ۔ سبھی بچے اس انتظار میں تھے کہ کس کانام پہلے نمبر پر آیا ہے ، جس کا نام انعام کے لئے پکارا جائے گا۔ راقم کے لئے رِزلٹ مرتب کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا کیونکہ سبھی بچوں نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔حالانکہ کلاس کے دوران کہا گیا تھا کہ پہلی پوزیشن لینے والے کو ہی انعام سے نوازا جائے گا ۔ لیکن امتحان ختم ہونے کے بعد راقم کو لگا کہ سب بچوں نے اس میں بہت محنت کی ہے اس لئے انعامات پہلی پوزیشن سے لیکر تیسری پوزیشن تک ہونا چاہئے ۔ اس لئے بعد میں انعامات پہلے تین پوزیشنیں حاصل کرنے والوںمیں تقسیم کئے گئے ۔ پوزیشن لینے والے سات بچے تھے، ان میں پہلی پوزیشن لینے والے دو، دوسری پوزیشن لینے والے تین اور تیسری پوزیشن لینے والے دو تھے۔
زوبیہ بنت عرفان اور شیخ عبدالہادی نے ۱۰۰ نمبرات حاصل کرکے پہلی پوزیشن ، محمد صہیب، سید کفایت اللہ گیلانی اور مہنور منیر نے ۹۹ نمبرات حاصل کر کے دوسری پوزیشن، مریم حُسین اور عافیت اشرف نے ۹۷ نمبرات حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی اور اس کے باقی بچوں نے ۸۰ نمبرات سے زیادہ حاصل کر کے یہ امتحان پاس کیا۔ پوزیشن لینے والوں کے علاوہ امتحان میں شامل ہونے والے سبھی بچوں میں سند اور اور گفٹ تقسیم کیے گئے۔
آن لائن قرآنک کلاس میں پہلی سات پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک خصوصی انعامی تقریب ۲۷دسمبر۲۰۲۰ء شعبہ معارف کے ذریعے ادارہ کے ریسرچ سینٹر’ مرکز برائے تحقیق و پالیسی مطالعات‘(CRPS)کانٹھ باغ میں منعقد کیا گیا۔ اس انعامی تقریب میں امیر ادارہ محترم غلام محمد بٹ ، شعبہ معارف کے سیکریڑی محترم تنویر احمد ملک ، ’تذکیر‘ کے مدیر اعلیٰ محترم الطاف احمد صوفی ، سیکریٹری شعبہ تعلیم و تربیت محترم ڈاکٹر امتیاز عبد القادر بٹ اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات کے والدین نے بھی شرکت کی ۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ،جس کا فریضہ برادر عاقب منظور صاحب نے انجام دیا ،بعد میں موقع کی مناسبت سے ڈاکٹر امتیاز عبد القادرنے ’حقوق القرآن‘ کے موضوع کے پر سیر حاصل گفتگو کی۔محترم نے اپنی مختصرتقریر میں قرآن مجید کے اصل مقصد کو موضوع بنا کر قرآنی آیات، احادیث، سیرت طیبہ کی تعلیمات سے قرآن کی اہمیت اور اس کے مقصد کو اُجاگر کیا۔ بعد ازاں سیکریٹری شعبہ معارف محترم تنویر احمد ملک نے ادارہ فلاح الدارین کا اجمالی تعارف پیش کیا، اور اس کے ساتھ ساتھ شعبہ معارف کی کامیابی ، چیلیجز اور مستقبل میں ہونے والے کاموں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس کے فوراً بعد طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔
اب آن لائن قرآنک کلاس پھرسے معمول کے مطابق شروع ہونے لگاہے۔پہلے دس منٹ سبق دیا جاتا ہے ، اوربعد میں تیس منٹ کے اندر اندر سبھی بچے اپنا نام بُلانے پر سبق سناتے ہیں۔ ایک دفعہ دوران کلاس بچوںکو مسنون دعا سنانی تھی۔ دعا سناتے وقت کئی بچوں نے دودھ سامنے رکھا ۔اپنی باری پر دُعا پڑھ کردودھ پی لیا،یہ ایک قسم کی عملی مشق تھی۔ راقم نے ان چھہ ماہ کے بعد پہلی با ر مورخہ ۱۷ جنوری ۲۰۲۱ء بروز اتواران بچوں کے درمیان ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔جس میں 20 بچوں نے حصہ لے کر مختلف پروگرامات پیش کیے ۔ پہلے عافیت اشرف نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی ، طیبہ نے نعت پیش کیا۔ فاطمہ وانی نے اخلاقی کہانی پیش کی جس کا خلاصہ تھا ’ ہر صورت میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے‘۔ اس کے بعد محمد عابد نے تلاوت کی، زینب بنت الطاف نے حدیث پاک سُنایا جس کاخلاصہ تھا ’ ہمیں عبادت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی کرنی چاہئے۔‘ اس کے بعد شیخ عبد الہادی نے سورہ اخلا ص کی تلاوت کی ، بعد میں مریم حُسین نے حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ سُنایا جس کا خلاصہ تھا ’ گناہ ہونے کے بعد اللہ سے معافی مانگ لینی چاہئے‘ ۔ ان کے بعد تُوبہ تقوین نے نعت پڑھ کر کے سُنایا،حانیہ سلیم نے بھی اخلاقی کہانی پیش کی جس کا خلاصہ تھا ’ جو محنت کر لے گا انعام وہی پائے گا‘ ۔ اسی طرح زوبیہ بنت عرفان ، سعادت سجاد، زُہرا وانی، عائشہ بنت الاسلام ، عائشہ گیلانی نے ایک ایک کرکے تلاوت پیش کی ، اور عاصم منیر نے حمد پیش کیا ۔ عائشہ شاہد اور مصعب بن عادل نے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مختصر واقعات پیش کئے اور آخر پر زونین محمد نے اخلاقی کہانی سُنائی جس کا خلاصہ تھا ’ صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے۔‘
اسی طرح ۶ فروری ۲۰۲۱ء اسی کلاس میں ایک مرتبہ پھر معمول کے خلاف اخلاقیات کے متعلق کلاس ہوئی۔ جس میں روز مرہ زندگی کے کاموں کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی۔ جس میں بچوں سے پوچھا گیا کہ اپنے اپنے گھرکے کاموں میں والدین کی مدد کس کس نے کی ، گھر میں کس بچے نے شرارت کی ، اسکول کے سبق کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی۔ سبھی بچوں نے خوشی خوشی اس میں حصہ لے کر جواب دیا۔ اکثر بچوں نے کہا ہم گھر میں اپنی والدہ کے لئے اُن کی مدد کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ کھانا کھانے کے بعد برتن اُٹھاتے ، کھانے سے پہلے دسترخوان بچھاتے، گھر کا کوڑا کوڑادان میں ڈالتے ہیں اور اس کے علاوہ صبح اٹھنے کے بعد اپنے گھر والوں کو سلام کر لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اس طریقے سے ان بچوں میں باتوں کے ذریعے سے اخلاقیات کے متعلق کلاس کا درس رہا۔
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔9906685214