وسیم فاروق وانی
سٹیٹ اسپتال کے ایمرجنسی شعبہ کے باہر سڑک کے بیچوں بیچ ایک باپ بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں اس کا سترہ برس کا بیٹا پڑا تھا، جیسے کوئی سویا ہوا ہو۔ مگر اس کے ہونٹ خاموش تھے، آنکھیں نیم وا تھیں اور جسم کی سختی بتا رہی تھی کہ نیند اب ہمیشہ کے لئے ہے۔
باپ چیخ رہا تھا۔
ــ’’ڈاکٹروں نے میرا بیٹا مار دیا! یہ سب ان کی لاپرواہی ہے!‘‘
غمزدہ با پ کی آواز میں اتنا کرب تھا کہ آس پاس چلنے والے بھی رُک گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ عورتیں جوان مرگ کو دیکھ کر بین کر رہیں تھیں۔ آسمان پر بادلوں کی طرح غصے کا طوفان چھا گیا۔
نعرے بلند ہوئے۔
’’لاپرواہ ڈاکٹروں کو سزا دو!‘‘
’’ کوٹ پہنے قاتلوں کو بے نقاب کرو!‘‘
ہجوم اسپتال کی طرف لپکا۔ دروازے پر دھاوا بولا گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے شیشوں کی کرچیاں بننے لگیں،ہر طرف توڑ پھوڑ ہو رہی تھی ۔ اندر مریضوں کی چیخیں، وارڈ میں بھاگتے قدموں کی دھمک، اور سفید کوٹ میں لپٹے ڈاکٹر خوف زدہ پرندوں کی طرح ادھر ادھر چھپنے لگے۔
ایک پتھر کسی کے ماتھے پر لگا، خون کا دھارا نکل آیا۔ کوئی نرس دوڑ کر کونے میں دبک گئی۔ اسپتال کا فرش سرخ بوندوں سے تر ہو گیا۔
پولیس پہنچی، لاٹھیاں گڑ گڑائیں، چیخیں بلند ہوئیں۔ ہجوم بکھرا۔ شور تھما۔ زمین پر صرف شیشے کی کرچیاں، بکھرے کاغذ اور خون کے چھینٹے باقی رہ گئے۔
اس ہنگامے کے بعد وہ باپ لاش کو اٹھا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
گھر میں صفِ ماتم بچھی۔ عورتوں کی چیخیں آسمان کو چھوتی رہیں۔ رشتے دار، محلے والے، سب دوڑے آئے۔ جوان لاش کو دیکھ کر ہر آنکھ سے آنسو بہنے لگے۔ کوئی سینہ پیٹ رہا تھا، کوئی چپ چاپ کونے میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔
جنازہ اٹھا۔ کندھوں پر تابوت لرزتا ہوا قبرستان تک گیا۔ باپ کی آنکھیں خالی تھیں، جیسے سب آنسو ساتھ ہی دفن ہو گئے ہوں۔ قبر بند ہوئی، مٹی ڈال دی گئی۔
گھر کے صحن میں مجلسِ تعزیت منعقد ہوئی ۔ قرآن خوانی کی دھیمی آوازیں اس غمزدہ ماحول میںصبر کی امید پیدا کر رہیں تھیں۔ لوگ ایک ایک کر کے باپ کے پاس آتے، ہاتھ ملاتے ، تعزیت کرتے۔ ہر چہرہ بوجھل، ہر دل زخمی۔
اسی دوران، ایک لمحے کے لئے خاموشی چھا گئی۔ کوئی بزرگ دھیرے سے بولا:
’’بھائی جان، حادثہ ہوا کیسے تھا؟‘‘
باپ نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے ہونٹ کانپے، آواز بھاری تھی۔ دیر تک کچھ نہ بولا۔ پھر آہستگی سے کہا:
’’میں نے بیٹے کو لگژری بائیک خرید کر دی تھی۔ نئی چمکتی ہوئی بائیک… وہ دوستوں کے ساتھ فورشور روڈ پر نکلا۔ پہیے ہوا میں گھوم رہے تھے، قہقہے گونج رہے تھے… وہ اسٹنٹ کر رہا تھا۔ اور پھر… ایک جھٹکا، ایک چیخ، اور زمین نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔‘‘
کمرے میں ایک ایسا سکوت اترآیا جو ہر شور پر بھاری پڑ رہا تھا ۔ سب آنکھیں باپ پر جمی تھیں، لیکن کسی کے پاس الفاظ نہیں تھے۔
باپ کا چہرہ سن ہو گیا۔ آنکھوں میں نمی نہ تھی، بس ایک خالی پن، ایک ایسا خلا جو پورے کمرے کو گھیر رہا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، جیسے الفاظ کی ڈور ٹوٹ گئی ہو۔
رات کی تاریکی صحن پر اتر آئی۔ چراغ جل اٹھے مگر روشنی کمزور تھی۔ محلے والے ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے۔ مگر جاتے ہوئے سب کے دل میں ایک ہی سوالاٹھتا رہا، جیسے قبر کے اندر سے ابھرتی ہوئی سرگوشی ہو:
’’بیٹا ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے مرا… یا باپ کی لاپرواہی سے؟‘‘
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7006041789