اشرف چراغ
کپوارہ//شدت کی گرمی سے نجات حاصل کرنے کیلئے لوگ لائن آف کنٹرول پر کیرن میں دریائے کشن گنگا کے کنارے سیر و تفریح کیلئے بڑی تعداد میں جارہے ہیں۔کیرن میں دریائے کشن گنگا کے آر پار سب سے کم فاصلہ ہے اور یہاں جانے والے زیادہ تر لوگ سرحد کے اس پار لوگوں کی حرکات و سکنات کا لط ف اٹھاتے ہیں۔یہاں عمومی طور پر نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد عارضی کیم پ لگاتے ہیں اور اس علاقے کی خوبصورتی کا لطف اٹھاتے ہیں۔یہ علاقہ دریائے کشن گنگا کے کنارے پر واقع، اپنے خوشگوار موسم ،فلک بوس پہا ڑ وں اور قدرتی حسن کی بدولت گرمیوں میں سکون کا بہترین ذریعہ ہے ۔کیرن پائین سے لیکر کیرن بالا ،بور ،کلس ،منڈین ،پاترو ،کنڈین اور دیگر علاقہوں میںموسم گرما کے دوران بھی درجہ حرارت انتہائی معتدل رہتا ہے ۔
یہ علاقے اپنی ٹھنڈی آب و ہوا کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ لوگ وادی بنگس کی بندش کے بعد لولاب ،درنگیاری ،مژھل اور کرناہ کے بجائے کیرن کی سیر کو زیادہ ترجیحی دیتے ہیں کیونکہ یہاں پہنچ کر سیلانی دریائے کشن گنگا کے آر پار نظارے دیکھتے ہیں ۔ایک غیر مقامی سیلانی اوم پرکاش کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے ہی سنا تھا کہ کیرن کے اُس پار پاکستانی کشمیر ہے اور ہم جان بوجھ کر کیرن کی سیر پر آئے تاکہ ہم بھی آر پار نظارہ دیکھ لیں گے ۔کیرن جانے والے ڈرائیور وں کا کہنا ہے کہ کیرن ایک دشوار گزار علاقہ ہے لیکن سیلانی کیرن جانے کے لئے بضد ہوتے ہیں۔کرالہ پورہ سے لیکر کیرن کے 60کلو میٹر کے سفر کے دوران راستے میں کوئی بھی پیٹرول پمپ نہیں ہے ۔یک اور سیلانی کا کہنا ہے کہ کیرن اگرچہ دشوار گزار علاقہ ہے لیکن قدرت کا شاہکار ہے ۔سیلانیو ں کا کہنا ہے کہ کیر ن جانے کے لئے قریب 6جگہ چیکنگ کی جارہی ہے جس سے سیلانیو ں کا وقت ضائع ہوتا ہے اور ایک دن پر جانے والے سیلانیو ں کو کیرن کی سیر کرنے کا اتنا موقع نہیں ملتا جس کی ضرورت ہے ۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سطح سمندر سے 10ہزار فٹ کی بلندی پر فرکیا ں گلی پر پہلی تلاشی لی جاتی ہے اور ا سکے بعد کیرن تک5مزید مقامات پر تلاشی لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد ی علاقہ ہونے کے باعث حفاظتی اقدامات ناگزیر ہے لیکن متعدد مقامات پر تلاشیوں سے سیاحوں کو انتہائی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اپریل سے اب تک ہفتہ کا دن یہاں سب سے بھاری رہا۔ سنیچر کو 2200کے قریب سیلانیوں نے پولیس تھانہ کرالہ پورہ سے اجازت نامے حاصل کئے ۔ایس ایچ او کرالہ پورہ کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں لوگوں کی کیرن جانے کے لئے دلچسپی بڑھ گئی ہے اور27جون کو انہو ں نے 2ہزار سے زائد سیلانیو ں کو کیرن جانے کے لئے اجازت نامے فراہم کئے ۔انہوں نے کہا کہ اپریل سے اب تک7ہزار سیلانیو ں نے کیرن کی سیر کی ہے۔