اضطراری خریداری نے بحران کو مزید بڑھا دیا
سرینگر/ /مغربی ایشیا کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال نے جہاں عالمی سطح پر ایندھن بشمول پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کی کمی پیدا کی ہے، وہیں کشمیری صارفین بھی مقامی سطح پر دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور ذخیرہ اندوزی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ بازار میں اشیاء کی یہ خودسرانہ قیمتیں عوام کی کمر توڑ رہی ہیں اور انتظامیہ کی عدم توجہی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے لئے کھلی چھوٹ فراہم کر رہی ہے۔گذشتہ دو روز میں ریفائنڈ خوردنی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مارکیٹ میں 15 کلو کے ریفائنڈ تیل کی قیمتیں ہول سیلرز کی جانب سے 2100 روپے سے بڑھا کر 2400 یا اس سے زائد کر دی گئی ہیں، جبکہ یہ عام صارفین تک پہنچتے پہنچتے 2500 روپے کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ اس اضافے نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے اور انہیں اضطراری خریداری کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بالکل ’’ڈکیتی کے مترادف‘‘ہے اور اس میں ذخیرہ اندوز اور منافع خور بے لگام ہو چکے ہیں۔اگرچہ حکومت و انتظامیہ بار بار پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں سے متعلق اعلانات کرتی رہتی ہے، لیکن خوردنی اشیاء خصوصاً خوردنی تیل اور دیگر لازمی اشیاء کی قیمتوں، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ کی نگرانی کے بارے میں کوئی واضح اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس غفلت نے بازار میں منافع خوروں کو آزادی دے دی ہے کہ وہ عوام کی ضرورت کو اپنا منافع بڑھانے کا ذریعہ بنائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عوام میں اضطراب اور تشویش کو بڑھا رہی ہے۔قیمتوں میں یہ اچانک اضافہ نہ صرف روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ عام صارفین میں ذہنی دباؤ اور اضطراب بھی بڑھا رہا ہے۔ اضطراری خریداری نے ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے کہ وہ محدود دستیاب اشیاء کو زیادہ قیمت پر فروخت کریں، جس سے عام شہریوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ماہرین اور عوام کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر مارکیٹ میں نگرانی بڑھائے، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرے، اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔ اگر یہ اقدامات فوری نہ کیے گئے تو نہ صرف صارفین کی مشکلات بڑھیں گی بلکہ مارکیٹ میں بدانتظامی مزید شدت اختیار کرے گی۔موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کشمیری عوام کو صرف ایندھن کی قیمتوں سے ہی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت کی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی کی لپیٹ میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کی فوری مداخلت کے بغیر یہ بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔