برلن کا معاہدہ (Treaty of Berlin) :۔
روس کو Sanstefanoکے معاہدہ سے فائدہ ہوا، یہ اس کے لئے ایک شاندار فتح تھی۔ اس معاہدہ کے ذریعہ روس نے کریمیہ کی جنگ میںترکی سے اپنی شکست کا انتقام لے لیا اور بلقان خطے میں اسکا اثر قائم ہو گیا لیکن انگلینڈ اور آسٹریا کو بلقان علاقے میں روس کے بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت پسند نہیں آئی۔ اس لئے دونوں قوتوں نے فرانس کے ساتھ مل کرروس پر دباؤ ڈالا اور مطالبہ کیا کہSan stefano کے معاہدہ پر نظرثانی کی جائے اور اس طرح 1878 ء میں برلن کے معاہدہ (Treaty of Berlin) پر دستخط ہوا جس میں مندرجہ ذیل باتیں طئے پائی :
1) اس معاہدہ کے رو سے سربیا (Serbia) رومانیہ (Roumania) اور مانٹینیگرو (Montenegro) کو ترکی سے آزادی دلادی گئی (2) بلغاریہ اعظم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک حصہ بلغاریہ (Bulgaria) کے نام سے ترکی کے زیرِ اثر خود مختار ریاست بنا دیا گیا ،جبکہ دوسرا حصہ رومیلیا Rumelia کہلایا ( 3) بوسنیا (Bosnia) اور (Herzegovina) کی ریاستوں کو آسٹریا کے ماتحت کر دیا گیا۔اس معاہدہ میں عظیم پاوروں نے بلغاریہ کے تقسیم میں قومیت کے اصول(Principle of Nationality) کو فراموش کر دیا۔ دوسری طرف جرمن بولنے والے عوام پر مشتمل آسٹریا کو Slav نسل والے بوسنیا اور ہرزیگووینا پر مسلط کر دیا جبکہ وہ دونوں علاقے Slav نسل والے سربیا (Serbia) کے ساتھ ملحق ہونا چاہتے تھے۔چونکہ Congress of Berlin کا یہ اقدام بلقان باشندوں کے قومی مفاد کے خلاف تھا، اس لئے کچھ سالوں بعد 1885 ء میں دونوں ریاستیں متحد ہو گی۔
کڑیٹ(Crete) کو آزادی :۔
1896 ء میں Crete island جو Aegean sea میں واقع ہے۔
وہاں کے عوام یونانی نسل (Greek race) کے تھے، قومیت کے جذبے سے متحرک ہوکر ان لوگوں نے ترکی کے خلاف بغاوت کر دیا۔ اس بغاوت میں یونان نے اپنے ہم نسل Cretan عوام کا ساتھ دیا ،جس کے باعث ترکی اور یونان میں جنگ (Graeco-Turkish war) شروع ہوگئی اور یونان کو شکست ہوئی۔ بہرکیف Crete کو ترکی کے زیر قوت ایک خودمختار ریاست بنایا گیا۔لیکن پہلی بلقان جنگ میں ترکی کے شکست ہونے پر Crete آزاد ہو گیا۔
جوان ترک تحریک (Young Turk Movement) :۔
ترکی کی جدت کاری اور اصلاح کے لئے مغربی تعلیم سے آراستہ نوجوانوں پر مشتمل Young Turk Movement شروع ہوا(جس کے پس پشت طاغوتی نظام کے پیروکار تھے) ان نوجوان ترک نے سلطان عبدالحمید کو جمہوری دستور کے لئے مجبور کیا۔اسی دوران 1912 ء میں پہلی بلقان جنگ (First Balkan War) شروع ہوئی۔جنگ کی وجہ نوجوان ترک کا مقدونیہ (Macedonia) کے عیسائیوں کے خلاف تعصبانہ رویہ تھا، جس کے خلاف چار بلقان ریاستیں سربیا، بلغاریہ، یونان اور مانٹینیگرو نے اعلان جنگ کر دیا۔جنگ میں ترکی کی شکست ہوئی اور 1913ء میں لندن کا معاہدہ Treaty of London ہوا۔ اس معاہدے کے رو سے ترکی کو قسطنطنیہ اور تھراس کو چھوڑکر تمام یورپی خطوں سے دستبردار ہونا پڑا۔ Albania کے نام سے ایک آزاد ریاست وجود پزیر ہوا(واضح ہو کہ اس میں سعودی حکومت کی غداری شامل ہے)
دوسری بلقان جنگ (Second Balkan war) :۔
پہلی بلقان جنگ کے خاتمے کے بعد مقدونیہ (Macedonia) میں اپنے جیت کے حصہ کو لے کر سربیا اور بلغاریہ آپس میں لڑ پڑے۔ بلغاریہ نے 1913 ء میں سربیا کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔یہ بلقان کی دوسری جنگ کہلاتی ہے،اس جنگ میں ترکی رومانیہ اور یونان نے سربیا کی مدد کی بلغاریہ کی شکست ہوئی اور اسے بخارسٹ کی صلح (Treaty of Bucharest) کرنی پڑی۔اس صلح کے رو سے یونان اور سربیا کو مقدونیہ کا کچھ حصہ ملا اور ترکی کو تھراس (Thrace) علاقہ کا کچھ حصہ ملا۔
پہلی جنگ عظیم اور آسٹریا مملکت کی تقسیم :۔
پہلی جنگ عظیم میں انگلینڈ فرانس اور اٹلی ایک طرف تھے اور اسکے مقابل میں آسٹریا،ہنگری، جرمنی اور ترکی دوسری جانب تھے۔ پہلی جنگ ِعظیم کے اختتام کے بعد1919ء میں St. Germain کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کے رو سے قدیم آسٹریا ،ہنگری ،جیسی عظیم سلطنت کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے اسے پرتگال جیسا چھوٹا ملک بنا دیا گیا۔ قومیت کے اصول پر نئے نئے ریاستوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مثلاً آسٹریا کے علاقے Bohemia اور Moravia کو ملاکر Czechoslovakia نام سے ایک ریاست بنایا گیا۔ Bosnia اور Herzegovina کے Slav نسل والے علاقے سربیا (Serbia) کو دیا گیا اور ایک نئی ریاست Yugoslavia کے نام سے بنایا گیا۔ ہنگری (Hungary) کو آسٹریا (Austria) سے کاٹ دیا گیا۔ آسٹریا کی بیشتر عوام جرمن زبان بولنے والی قوم تھی ،لیکن قومیت کے اصول کو نظر انداز کر کے آسٹریا کو جرمنی کے ساتھ الحاق نہیں کیا گیا۔
ریمارک (Remarks) :۔
اس طرح تاریخ کے صفحات کو پڑھنے سے ہمیں یہ معلوم ہوا کے کس طرح پہلی جنگ عظیم کے خاتمے تک یورپ کے جنوبی مشرق علاقے سلطنت عثمانیہ سے ایک ایک کرکے الگ کر دئے گئے اور آزاد خودمختار ریاستیں بنادی گئیں۔، قدیم آسٹریا مملکت کا بھی ریزہ ریزہ ہو گیا اور آسٹریا ایک چھوٹا سا ملک بن کررہ گیا۔ اس کے بہت سے علاقے دوسرے ملکوں کو دے دی گئیں۔ مثلاََجنوبی Tyrol اور Trentine علاقے اٹلی کو دئے گئے۔Galitia کا علاقہ پولینڈ کو دیا گیا۔جب نیپولین بوناپارٹ نے جرمنی میں متحدہ راین Confederation of the Rhine قائم کیا ،تو جرمنی کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں نے نیپولین کو اپنا محافظ تسلیم کیا اور روما سلطنتHoly Roman Empire سے اپنا بیعت ترک کر دیا اور اس طرح ایک ہزار سال پرانی Holy Roman Empire کا بھی خاتمہ ہو گیا۔
اس وقت کی جو بڑی طاقتیں تھیں مثلاََ انگلینڈ ،آسٹریا، پروشیا، بین الاقوامی جنگ کو روکنے کے لئے ہمیشہ عدل و انصاف نہیں کرتی تھیں۔ اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کو سامنے رکھ کر فیصلہ لیتی تھی، وہ کبھی قومیت کے اصول پر دو علاقوں کا الحاق کرکے ایک نئی ریاست بناتی اور کبھی اسی اصول کو فراموش اور نظر انداز کر کے دو یکساں اقوام والے خطوں کا الحاق نہیں کرتی تھی۔
رابطہ۔9968012976