رےاض//سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے متفقہ طور پرقطرکی طرف سے دہشت گردی کی معاونت کی روک تھام کے مطالبات کا جواب مسترد کردیا ہے۔ چاروں عرب ممالک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ قطر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دوحہ کے جنگجوتنظیموں کےساتھ گہرےمراسم ہیں۔اطلاعات کے مطابق امیر کویت الشیخ صبح الاحمد الجابر الصباح کے توسط سے قطر کی طرف سے ملنے والے جواب پر چاروں عرب ممالک نے قطر کا جواب مسترد کردیا ہے۔قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں عرب ملکوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’قطر کی ہٹ دھرمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دوحہ کے جنگجو تنظیموں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم ہیں ‘ بیان میں خلیجی بحران کے حل کی سفارتی کوششوں کی ناکامی کی تمام ذمہ داری قطر پرعاید کی گئی ہے اور کہا ہے کہ دوحہ نے برادر ملک کویت کی ثالثی کی مساعی کا بھی احترام نہیں کیا ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے ملک اگلے مرحلے میں قطر کے خلاف مناسب وقت پر مزید سیاسی، اقتصادی اور قانونی اقدامات کریں گے تاکہ خطے کے عوام کے حقوق کا تحفظ، استحکام اور ان ملکوں کے مفادات کے حصول کے ساتھ قطر کی معاندانہ سرگرمیوں کو روکا جاسکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک کی طرف سے قطر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کاحصہ بنتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے اور انہیں پناہ دینے کا سلسلہ بند کرے۔ قطر کو اپنا قبلہ درست کرنے کے لیے موقع فراہم کیا گیا مگر اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قطری حکومت اپنی عوام کے مفادات اور امنگوں کے برعکس کام کررہی ہے۔ قطری قوم خلیجی اور عرب دنیا کا جزو ہے مگردوحہ حکومت کسی اور راستے پر چل رہی ہے۔سعودی عرب اور اس کے تین عرب اتحادی ممالک کی جانب سے قطر کو پیش کیے گئے مطالبات مسترد کیے جانے کے بعد قطر پر پابندیاں برقرار رکھنے کا کہا ہے۔بدھ کو قاہرہ میں چار عرب ممالک کے وزرا خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کہا گیا ہے کہ انھیں مطالبات کی فہرست پر قطر کے ’منفی‘ ردعمل پر افسوس ہوا ہے۔وزرا خارجہ کا کہنا تھا کہ 'قطر نے صورتحال کی سنجیدگی اور اہمیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔'ان کا مطالبات میں الجزیرہ چینل کی بندش، ایران سے تعلقات کا خاتمہ اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی حوالگی شامل ہے۔قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے تعلقات کے منقطع کیے جانے کو محاصرے اور توہین کے مترداف قرار دیا ہے۔عرب ممالک کی جانب سے پابندی کا شکار اخوان المسلمون سے تمام تعلقات توڑ لے۔چاروں ممالک کے شہریوں کو بےدخل کر دے تاکہ بقول ان ممالک کے قطر کو ان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے روکا جا سکے۔چاروں ممالک کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تمام افراد کو ان ممالک کے حوالے کرے۔ایسے شدت پسند گروہوں کی مالی امداد بند کرے جنھیں امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔سعودی عرب اور دیگر ممالک کی ان حکومت مخالف شخصیات کی فہرست فراہم کرے جنھیں قطر نے مالی مدد فراہم کی ہے۔سیاسی، اقتصادی اور دیگر معاملات میں خلیج تعاون کونسل کے موقف سے ہم آہنگی پیدا کرے۔الجزیرہ کے علاوہ اعرابی21 اور مڈل ایسٹ آئی جیسے خبر رساں اداروں کی مالی مدد بند کرے۔رواں ہفتے کے اوائل میں ان کا کہنا تھا ’ہمارے انکار کا جواب محاصرہ اور الٹیمیٹم نہیں ہیں بلکہ مذاکرات اور وجوہ بتانا ہے۔‘گیس اور تیل کی دولت سے مالا مال قطر کی ریاست اپنی 27 لاکھ کی آبادی کے لیے تمام بنیادی ضروریات برآمد کرتی ہے۔چونکہ ان اس کی واحد زمینی سرحد بند کر دی گئی اس لیے اب یہںا اشیا یا تو ہوائی جہاز سے لائی جائیں گی یا پھر سمندری راستے سے۔