مینڈھر//مینڈھر قصبہ میںجگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ قصبہ کو میونسپلٹی کے دائرے میں لایاجائے ۔شوکت علی ،معروف مغل،محمد حسین،لیاقت حسین اور محمد فرید کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے وہ میونسپلٹی حکام سے مانگ کرتے آئے ہیں کہ قصبہ کو میونسپلٹی کے دائرے میں لایاجائے تاکہ اس طرح سے گندگی کے ڈھیر نہ لگیں اور صفائی ستھرائی کا نظام ٹھیک ہوسکے تاہم ا س جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔ان کا کہنا تھا کہ بس اڈہ سے نیلامی کے طورپر محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے لاکھوں روپے جمع کئے جاتے ہیں اوراس رقم سے قصبہ کی صفائی کروائی جانی ہوتی ہے مگرصفائی کرنے والے اہلکار سڑک سے جھاڑو مار کر نالیاں بھر دیتے ہیں اور جب نالیاں بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں تو اس دوران وہ نالیوں سے گندگی اٹھا کر بس اڈہ کے پاس پل سے نیچے پھینک دیتے ہیں اور پل کے نیچے یہ حالت ہے کہ بے شمار گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ماگر یہی حال رہا تو نالہ بند ہو جائے گا جس کا خمیازہ بہت بڑی آبادی کو بھگتناپڑے گا۔انہوںنے کہا کہ صفائی مکمل طور کروائی جائے اور محکمہ ٹال مٹول سے کام نہ لے ۔انکا کہنا تھاکہ گر مینڈھر قصبہ کو میونسپلٹی کا درجہ مل جائے تو صفائی ستھرائی کے نظام میں تبدیلی آسکتی ہے اور پھر لوگ عفونت سے بھی بچ جائیںگے ۔انہوںنے ریاستی حکومت و ڈپٹی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات کئے جائیں کیونکہ مینڈھرمیں صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بازار میںمزید بیت الخلاء بھی تعمیر کئے جائیں اور ایک بیت الخلاء اتنی بڑی آبادی کیلئے کافی نہیں ۔