عید کی آمد آمد ہے اور(کورونا)کرونا کے اس وبائی دور میں عالم اسلام یکم ِ اگست کو عیدالاضحی منارہاہے ۔ کشمیر کی مسلم اُمہ جو کہ ایک طویل عرصہ سے مختلف نوعیت کی قہر سامانیوںاور بُربادیوںکی شکار ہے ،کافی گھمبیر اور المناک صورت حال میں عید الاضحیٰ کی مبارک تقریب سنیچر وار کومنارہی ہے۔ تاریخ کے اس بدترین وبائی قہرنے ساری دنیا کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات سے دوچار کرکے ہلاکر رکھ دیا ہے، بڑے بڑے طاقتور ملکوںکے سورمائوں کی زبانیںگنگ کردی ہیں،شاہانہ زندگی گذارنے والے بعض عرب ممالک جو ترقی پذیر اور غریب ممالک کے امداد و اعانت کے چارہ گر کہلاتے ہیں،بھی معاشی بد حالی کا شکار ہوکر قرضے حاصل کرنے کی کگار پر آپہنچے ہیںلیکن پھربھی دنیا میں موجودنادان انسان اپنی خود سری،بالا دستی ،بد مستی اور بے حیائی کوچھوڑ نہیں رہا ہے۔آج بھی اقوام ِعالم کی کئی بڑی اور چھوٹی طاقتیں اپنی خودسری ،ہٹ دھرمی وتکبُرمیں بَد مست ہیںاور اپنی بالا دستی کے لئے رنگ و نسل اور مذہب کی آڑ میں اپنی غاصبانہ و جابرانہ پالیسیوںپر گامزن ہیںاور اپنے شیطانی منصوبوںسے انہوں نے ساری دنیا کو ایک تباہ کُن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرکے رکھ دیا ہے۔
اپنی ستم زدہ وادیٔ کشمیر ،جو کہ پہلے ہی رنج و الم میں مبتلا ہے، کو اس وبائی بیماری نے مزید تلپٹ کردیا ہے ۔ گذشتہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات ،آگ و آہن کے واقعات، خون کی ہولیوں،فرضی جھڑپوں، نوجوان نسل کی ہلاکتوں،،محاصروںوکریک ڈاونوں کے عذاب و عتاب اورتعذیب خانوں میں مقیدعزیزوں کی جُدائیوں سے کشمیری قوم وحشت و دہشت میںگذر بسر کررہی ہے ۔گذشتہ سال کی پانچ اگست کی تاریخ سے چلی آرہی غیر یقینی صورت حال سے گویا اِس کی حیثیت کی ختم کردی گئی ہے اوراب کرونائی بیماری کی یہ قہر انگیز ی بھی کشمیریوں کے لئے ایک ایسا سنگین مسئلہ بن گئی ہے ،جس نے پوری قوم کو ایک کڑی آزمائش او رپیچیدہ امتحان میں ڈال دیا ہے۔یہی سبب ہے کہ عید کی آمد کی خوشیوں میں بھی ہر کشمیری کا دِل رنجدۂ احساس ہے اور سہمی ہوئی کیفیت ہر چہرے پر نظر آرہی ہے۔اب ذرا مضمون کے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
بلا شبہ’’ عید الاضحیٰ‘‘نوید ِ مسرت کا دن ہے ،جسے تین دن تک منانے کا حکم دیا گیا ۔عید الاضحیٰ دراصل ایثار و قربانی کی ایک لازوال داستان،حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپؑ کے فرزند حضرت اسمائیل علیہ السلام کی رضائے الٰہی کی خاطر خلوصِ دِل سے قربانی ،فدائیت ،خود سپردگی اور تسلیم و رضا کی بے لوث یاد گار کہانی ہے۔جسے ربِ ذوالجلال نے اس قدر پسند فرمایا کہ نہ صرف رہتی دنیا تک کے لئے قربانی کو سنتِ ابراہیمی ؑ کے نام سے جاری کردیا بلکہ ایساشرفِ قبولیت عطا کیا کہ اسے بعد میں آنے والوں کے لئے قائم رکھا۔الہامی اور غیر الہامی کم و بیش تمام مذاہب اور معاشروں میں ’’قربانی ‘‘کا تصور ملتا ہے تاہم یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد اور بلند مقام رکھتی ہے ،تاریخ کے اوراق اس عظیم قربانی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں،قرآن کریم میں اس واقعے کا ذکر اس طرح آیا ہے ،’’جب وہ (اسمائیل ؑ)ان کے ساتھ دوڑنے (جوانی کی عمر)کو پہنچے تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ بیٹا،میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمہیں ذبح کررہا ہوں،تم بتائو کہ تمہارا کیا خیال ہے ۔انہوں نے (اسمائیل ؑ)کہا کہ ابا جان ،آپ کو جو حکم ہوا ہے ،وہی کیجئے ،اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔‘‘جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے انہیںپکارا کہ اے ابراہیم ؑ ،تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ،ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ۔بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ بنا دیا اور بعد میں آنے والوں میں ابراہیم ؑکا ذکر ِخیر (باقی) چھوڑ دیا کہ ابراہیم ؑ پر سلام ہو ،نیکوں کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ (سورۃالصافات:۱۰۲۔۱۱۰)
خاتم الانبیا،سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں بھی اس عظیم جذبے اور حضرت ابراہیم ؑ کی سنت کو عبادت کا درجہ عطا کیا گیا ۔حضرت ابراہیم ؑکی زندگی کو ربِ جلیل نے بے شمار امتحانات ،آزمائشوں سے گذارا ۔صفا و مروا کے بے آب و گیاہ پہاڑوں پر حضرت حاجرہ ؑاور شیرخوار فرزند اسمائیل ؑکو تنہا چھوڑدینا ، اللہ کی رضا ،خوشنودی اور حکم کی اطاعت پر سر تسلیم خَم کرتے ہوئے آتش ِ نمرود میں بے خطر کود جانایا پھر بوڑھاپے میںحکم ِالٰہی کی بجا آوری کے لئے اپنے فرمان بردار لختِ جگر، نور نظرحضرت اسمائیل ؑ کو قربان کرنا،کتنی عظیم وبے مثال آزمائش، جو محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی بلکہ روح اور دِل کی قربانی تھی۔
’’قربانی‘‘ دراصل وہ ذبحِ عظیم ہے ،جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمائیل ؑ کا فدیہ قرار دیا تھا لہٰذا اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنا درحقیقت اپنے آپ کو قربان کرنے کا قائمقام ہے۔یہ اس بات کا خاموش اقرار ہے کہ ہماری جان اللہ کی راہ میں نذر ہوچکی ہے اور وہ جب اسے طلب کرے گا ہم بلا تامل پیش کردیں گے۔اسلام کے لفظی معنیٰ بھی اپنے آپ کو سپرد کردینا اور اطاعت و بندگی کے لئے گردن جُھکادینا ہے،یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسمائیل ؑکے اس ایثار اور قربانی سے ظاہر ہوتی ہے۔اس لئے قربانی ایک عظیم عبادت ہے جس کا تعلق تقویٰ و طہارت سے ہے ،اصل چیز خون بہانا نہیں،مقصود پرہیز گاری ہے۔ اسلام کے نظام عبادات کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے اس نظام کا اصل مقصد اسلام کا مطلوب انسان تیار کرنا ہے ۔یہ انسان کو اس ذمہ داری کے لئے تیار کرتی ہیں جو خدا اور اس کے رسول ؐ نے ہمارے سُپرد کی ہے ۔ہمارے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا واقعتاًہم اپنی محبوب ترین شے، اپنے ذاتی مفادات ،اپنے رشتے اور اپنی محبتیں اللہ کی راہ اور اس کے دین کے لئے قربان کرتے ہیں؟اس نقطۂ نظر سے ہم میں ہر شخص کو اپنے دل کو ٹٹولنا چاہئے کہ میں کہاں کھڑا ہوںاور معلوم کرلینا چاہئے کہ کل روح دین کیا ہے ،روحِ قربانی کیا ہے،جس کا ایک نمونہ اور جس کی ایک یاد گار ہم ہر سال جانوروں کی قربانیوں کی شکل میں مناتے ہیں۔لہٰذا قربانی کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ اگر ہم نماز پر قائم ہیں ،اگر ہم آخرت پر ،تمام رسولوں اور اُن پر نازل ہونے والی ہدایت پر یقین کے ساتھ اللہ کے دئے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں اور شیطان کے بتائے ہوئے رزق حرام سے دور رہتے ہیں تو ہماری ’’قربانی ‘‘قبول ہوگی۔خاص طور اس کڑی آزمائش او ر بڑے امتحان کے وقت ، جو موجودہ وبائی صورت حال نے کشمیری قوم پر ڈال دی ہیں ،اگر ہم عرصۂ دراز سے جاری ظلم وستم کے مصائب زدہ بے کس وبے سہارا ملت کے افراد اور کورونائی وبائی بیماری سے متاثرہ اپنے مصیبت زدہ لوگوں کی راحت کاری،بحالی اور شفا یابی کے کاموں کے ساتھ ساتھ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھ کر اُن کی دلجوئی کرتے ہیںتوبے شک ہم عید الاضحیٰ کی حقیقی مسرتوں سے مستفید ہوں گے اور ہماری قربانی بھی قبول ہوگی۔
اسی طرح اگر ہم پرہیز گاری کے لباس پر قائم رہتے ہیں،بے حیائی و بے شرمی سے دور رہتے ہیں،رشوت نہیں لیتے ہیں،لوگوںمیں فرقہ بندی نہیں کراتے ہیں،ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سے نہیں بچ جاتے ہیں،منشیات فروشی،جھوٹ،فریب ،بددیانتی،ملاوٹ اور بلیک میلنگ میں ملوث نہیں ہوتے ہیں اور اپنے فرائض کے ساتھ انصاف کرتے ہیںتو ہمیں عید کی حقیقی خوشیاںنصیب ہونگی، ہماری قربانیوں کو قبولیت ملے گی اور ہمیںہر زمینی یا آسمانی آفت سے بھی نجات ملے گی ۔البتہ یہ بات یاد رکھنے کی اشدضرورت ہے کہ قربانی کے لئے بکرا یا بھیڑ ذبح کرنا محض ایک علامت ہے ،قربانی کے جانور کوذبح کرنے کے پیچھے اُس نیت اور عمل کا وہ ارادہ لازمی ہے جو قربانی کے بعد بندے کے دل و دماغ میں جاگزین ہوجاتا ہے۔اسلام کی کوئی بھی عبادت بغیر کسی مقصد کے نہیں ہے ،ہر عبادت میںایک لاجک اور انسانیت کے لئے فائدہ پوشیدہ ہے۔اس لئے ہر قربانی کرنے والا قربانی کا جانور ذبح کرنے سے قبل اپنی اَنا کو ذبح کرے ،اپنی قابلیت ،اپنی خود سری ،اپنی لیڈر شپ ،اپنی بالا تری اور اپنے خاندان کے فخر وغرور پر چھُری چلائے اور ایک خدمت گار کے طور پر اپنے آپ کو ایک اجتماعیت کے حوالے کرے ۔تب جاکر اُس کے بکرے یا بھیڑ کی قربانی سے دنیا کو فائدہ پہنچے گا، ورنہ اپنی اَنا کو قربان کئے بغیر جو قربانی ہوگی اس کا نہ تو خود اُسے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نہ کوئی انقلاب آسکتا ہے ۔وقت کے تقاضے کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹنے اور قربانی کرنے میں احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی اصل حقیقت کا فہم عطا فرمائے اور ہمیں ہمت دے کہ ہم واقعتاً اپنے جذبات ،احساسات اور محبتیں ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر قربان کرسکیں ۔(آمین)