قربانی کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ جبکہ اسلام کی اصطلاح میں"عید الاضحیٰ کے دن جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد تقسیم کرنے "کوقربانی کہتے ہیں۔ قربانی کا فریضہ عیدالاضحیٰ کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم ترین اطاعت خدا وندی کی مثال کی یادگار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کے تحت حضرت ابراہیم خلیل اللہ یعنی اللہ کے دوست نے اپنے بیٹے کو امر الٰہی سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کرلیا تھا اور حضرت اسماعیل ؑنے اپنے باپ کے اس ارداے پر لبیک کہتے ہوئے اپنے لئے ذبیح اللہ کہلوایا یہ اور فلسفہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑکی جگہ ایک دنبہ آیا اور وہی قربان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے عیدالاضحی کو عیدالفطر سے زیادہ فضیلت عطا کی ہے۔یہ عید دونوں عیدوں میں سے افضل ہے اور اسی لئے عیدالاضحی کے موقع پر اہل اسلام سنت ابراہیم کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں ۔
قربانی میں جتنا اخلاص ہو اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں قربانی ہو، اتنا ہی اجروثواب ملنے کی توقعات بھی زیادہ ہیں یعنی قربانی میں ریاکاری، شہرت اور دکھاوے سے بچنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو۔ اگر ہم قربانی یا کوئی نیک عمل دکھاوے کیلئے انجام دیں تو اللہ تعالیٰ ہمارے ان اعمال کو روز قیامت یہ کہہ کر واپس ٹھکرائے گا کہ اے بندے جا ان اعمال کا صلہ ان سے پاؤ جن کیلئے تم نے یہ کام انجام دئیے یعنی میرے لئے ان کاموں میں کچھ نہیں تھا تم لوگوں کے دل خوش رکھنے کیلئے ایسے کام انجام دیتے تھے ۔اس وقت ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے سب اعمال بے کار تھے۔ اس لئے اس سب سے بچنے کیلئے ہمیں دکھاوے سے کام نہیں لینا چاہیے قربانی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مہنگے سے مہنگا جانور خریدتے ہیں۔ ہمیں اس سے بچنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے اقارب، دوستوں اور محلے والوں میں اپنی دولت کی نمائش کریں ۔بہتر ہوتا کہ ہم قربانی کے جانور کو خود ہی پال پوس کر بڑھا کرتے اور بعد میں قربان کرتے کیونکہ اس میں زیادہ ہی ثواب ہوگا ۔
عیدالاضحی ہمیں محبت، ایثار اور بھائی چارے کادرس دیتی ہے مگر ہم اس سب کو بالائے طاق رکھتے ہیں۔ مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں سب کچھ قربان کردینا چاہئے تھا حتّٰی کہ اپنی نفسانی خواہشات کو بھی قربان کردے تاکہ ہم من چاہی زندگی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے راستے کو اپنائیں مگر ہم اس کے برعکس کرتے ہیں ۔یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ قربانی کے گوشت کو اپنے ہمسائیوں میں تقسیم نہیں کرتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ کیا اسی کو خلوص کہتے ہیں جبکہ اسلام کہتا ہے کہ قربانی کے گوشت کے ایک تہائی حصے کو خود کھالو، ایک تہائی حصے کو صدقہ کرواور ایک تہائی حصے کو دوستوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کرو مگر ہم اس کو نظر انداز کرکے اس حصے کو رکھ لیتے ہیں جو حصہ سب سے اچھا ہو اور ہڈیوں کو تقسیم کرتے ہیں جو شرعاً غلط اور ناجائز بھی ہے۔ کئی لوگوں نے قربانی کو لین دین بنایا ہے کہ فلاں نے ہمیں گوشت بھیجا ہے اور ہم بھی بھیجتے ہیں۔قربانی لین دین بھی نہیں ہے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خود گوشت کھانے سے عید نہیں ہے بلکہ دوسروں کو کھلانے سے عید ہوتی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جو سال بھر گوشت نہیں لا سکتے ہیں اور نہ ہی لاتے ہیں کیونکہ یا تو ان کی آمدنی قلیل ہے یا ان کے سرپرست زندہ نہیں ہیں اور ان کا کوئی غمخوار بھی نہیں ہے۔ عید کے دن ان ہی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالنا چاہئے تاکہ وہ بھی اس عید کو خوش ہو جائیں اور آپ کی بھی عید ہو جائے۔
ہماری قربانی کسی دکھاوے کے بغیر اور اخلاص پر مبنی ہو نی چاہئے تاکہ بارگاہ حق تعالیٰ میں اس کو قبولیت حاصل ہو۔ اس سال آس پاس پڑوس میں زیادہ دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت ساری زندگیاں برباد ہو چکی ہیں اور غریبی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے ۔س لئے اس سال زیادہ سے زیادہ ضرورتمندوں کو مدد کریں اور اپنے لئے ایک گھر دوسری دنیا میں بھی تعمیر کریں۔