جب ٹارڈیلی کے آنسوؤں نے اٹلی کو عالمی فاتح بنا دیا
یو این آئی
نئی دہلی/”انسان کا رونا ہمیشہ کمزوری کی علامت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ اس وقت بہتے ہیں جب جیت کا بوجھ کندھوں سے اتر کر دل کو ہلکا کر دیتا ہے ۔ جب خواب حقیقت بن کر سامنے کھڑے ہوں، تو سینے میں دبی ہوئی وہ تڑپ جو برسوں سے راستہ ڈھونڈ رہی تھی، ایک دہاڑ بن کر فضاؤں میں گونجتی ہے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ ٹھہر گئی اور ایک انسان کی بے ساختہ چیخ نے صدیوں کے سکوت کو توڑ دیا۔ وہ آواز جو صرف ایک گلے سے نہیں نکلی تھی، بلکہ ان تمام خوابوں کی ترجمان تھی جو ادھورے رہ سکتے تھے مگر جنون نے انہیں پورا کر دکھایا۔اسی جذبے نے ایک ایسی ’چیخ‘ کو جنم دیا جو محض ایک آواز نہیں بلکہ خود ایک تاریخ بن گئی۔میڈرڈ کے آسمان پر شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے ۔ ایک طرف مغربی جرمنی کی وہ ٹیم تھی جو اپنی اعصابی مضبوطی اور مشین کی طرح درست حملوں کے لئے جانی جاتی تھی اور دوسری طرف اٹلی-جہاں جذبات، فنکاری اور جنون کا سنگم تھا۔ اٹلی کی ٹیم، جو ٹورنامنٹ کے آغاز میں لڑکھڑا رہی تھی، پاؤلو روسی کی جادوئی کارکردگی کے سہارے فائنل تک پہنچی تھی۔ لیکن اس سنہری ٹرافی کو چومنے کے لئے ابھی ایک ناقابل تسخیر دیوار کو توڑنا باقی تھا۔
69واں منٹ اور وہ تاریخی گول
میچ کے 69ویں منٹ میں جب اٹلی کو ایک گول کی برتری حاصل تھی، لیجنڈری ڈیفنڈر گیٹانو سکیریا اچانک حریف کے علاقے میں پیش قدمی کرتے ہیں۔ گیند مارکو ٹارڈیلی کے قدموں میں پہنچتی ہے ۔ فضا تھم سی جاتی ہے ۔ جرمن دفاعی کھلاڑی ان کا گھیراؤ کر لیتے ہیں، لیکن اس لمحے ٹارڈیلی تمام زمینی حساب کتاب سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔ وہ گیند پر قابو پاتے ہیں اور اپنے بائیں پاؤں سے ایک ایسا زوردار شاٹ لگاتے ہیں کہ جرمن گول کیپر ٹونی شوماکر محض ایک تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔گول کرنے کے بعد جو ہوا، وہ فٹ بال کی تاریخ کا سب سے خوبصورت اور شاعرانہ منظر ہے ۔ ٹارڈیلی کا پورا وجود بدل گیا۔ وہ بھول گئے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ہے ، وہ بھول گئے کہ اسٹینڈز میں تماشائیوں کا سمندر ہے یا اسپین کی شاہی شخصیات وہاں موجود ہیں۔ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اطالوی ڈگ آؤٹ کی طرف دیوانہ وار دوڑے ۔وہ جنگلی دوڑ اور وہ فطری چیخ-جسے تاریخ میں یا “ٹارڈیلی کی چیخ” کے نام سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔یہ محض ایک گول کا جشن نہیں تھا بلکہ ٹسکنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’کاریجین‘ کے اس غریب لڑکے کی کہانی تھی جسے اس کے باپ نے بارہا کہا تھا کہ “فٹ بال تمہارا پیٹ نہیں بھر سکتا، کوئی ڈھنگ کا کام ڈھونڈو۔” اس چیخ میں برسوں کی محرومی، ہر انکار اور خوابوں کے تعاقب میں کی گئی انتھک محنت کا عکس تھا۔ جوانی میں پیزا ڈلیوری کرنے سے لے کر ریستورانوں میں ویٹر کے طور پر کام کرنے تک، ٹارڈیلی کے پسینے کا ہر قطرہ اس ایک دوڑ میں اپنی منزل پا چکا تھا۔ ان کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو خوشی کے ساتھ ساتھ برسوں کے دبے ہوئے درد کا لاوا تھے۔ برنابیو کے سبز میدان پر وہ رو رہے تھے ، ہنس رہے تھے اور چلا رہے تھے -جیسے اپنی روح کو نچوڑ کر میدان میں بکھیر رہے ہوں۔ وہ لمحہ زندگی کے تمام حسابات چکانے کا لمحہ تھا۔