پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں میں پروسیسڈ گوشت اور بر آمد کی گئی پنیر کی خرید و فروخت پر ایک سال کیلئے پابندی عائد کرنے کے 5ماہ بعد اب انڈوں اور بوتل بند پانی میں بیکٹیریا اور زہریلے کیمیات کی موجودگی کے باوجود یہاں انکی تشخیص نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایسی جدید لیبارٹری موجود نہیں ہے۔شک آور کھانے پینے کی اشیاء کی نیشنل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اور دیگر قومی لیبارٹریوں سے رپورٹ آنے میں کم سے کم دو ہفتوں کا وقت لگتا ہے جس دوران لوگ ان بوسیدہ اور ملاوٹی کھانے کا استعمال جاری رکھتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں فوڈ ٹیسٹنگ کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور کوالٹی کنٹرول محکمہ ایسی اشیاء پر تب تک پابندی نہیں لگا سکتا جب تک نہ کسی اشیاء کو غیر معیاری قرار دیا جاسکے۔جموں و کشمیر کی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے300پیرا میٹر ٹیسٹنگ میں سے صرف 60پیرا میٹر ہی چیک ہوجاتے ہیں جبکہ دیگر پیرا میٹروں کو دیکھتے کیلئے نمونوں کو غازی آباد یا دیگر ٹیسٹنگ لیبارٹریوں میں بھیجناپڑتا ہے۔اس کی بڑی وجہ لیبارٹریوں میں تربیت یافتہ افرادی قوت اور جدید تشخیصی آلات اورٹیسٹنگ کیلئے کام آنے والے Reagentsکی کمی ہے۔ کشمیر عظمیٰ کو محکمہ فوڈ سیفٹی سے معلوم ہوا ہے کہ اسوقت جموں و کشمیر میں قائم دونوں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں میںٹیسٹنگ کی صلاحیت سالانہ 7ہزارتک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ اسی وجہ سے مارکیٹ میں دستیاب چیزوں کے معیار کوچیک کرنے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ڈلگیٹ لیبارٹری میں عملے کی 45فیصد اسامیاں خالی ہیں وہیں جموں میں 50فیصد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔کمشنر فوڈ مس سمرتی کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دونوں لیبارٹریوں میں عملے کی بھرتی کا معاملہ سرکار کو بھیج دیاگیاہے اور بھرتی ہونے کے بعدہم سبھی 300پیرا میٹر ٹیسٹنگ کرنے کی صلاحیت حاصل کریں گے۔اس دوران جمعرات کو ایگوز نامی کمپنی کے انڈوں میں سرطان پیدا کرنے والے کیمیات کی موجود گی کے بعد محکمہ فوڈ سیفٹی نے کشمیر صوبے کے مختلف اضلاع سے انڈوں کے 28نمونے حاصل کئے ، جنہیں تشخیص کیلئے غازی آباد بھیج دیا گیا ہے جہاں سے رپورٹ آنے میں 2ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔