منیلا// فلپائن کے جنگل میں فوجی اہلکاروں کی شدت پسند گروپ 'ابوسیاف' کے مسلح کارندوں کے ساتھ جھڑپ کے نتیجے میں 5 اہلکار اور 3 شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ یہ جھڑپ چند روز قبل رومن کیتھولک چرچ میں دھماکوں کے بعد ابوسیاف کے شدت پسندوں کے خلاف فوج کی کارروائی کے دوران ہوئی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوج کے ترجمان کرنل گیری بسینا نے کہا کہ صوبہ سولو کے پَٹیکول قصبے کے قریب جنگل میں آرمی کے اہلکاروں اور شدت پسند تنظیم 'داعش' سے منسلک 150 جنگجوؤں کے درمیان دو گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں 5 فوجی اہلکار اور 15 شدت پسند زخمی بھی ہوئے۔ شدت پسندوں کی قیادت ابوسیاف کا کمانڈر حاتب حاجَن سوادجان کر رہا تھا، جس پر 27 جنوری کو جزیرے جولو میں چرچ میں دھماکوں کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرنے کا شبہ ہے۔ ان بم دھماکوں میں 22 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ جھڑپ کے دوران سوادجان دیگر شدت پسندوں کے ہمراہ فرار ہوگیا۔ رومن کیتھولک چرچ دھماکوں کے بعد فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوورٹے نے حکومتی فورسز کو ابوسیاف کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حملے کے بعد فلپائن میں مزید دہشت گردی کے خطرات بڑھ گئے ہیں جہاں کی قومی پولیس کو مکمل چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ گرجا گھروں، شاپنگ مالز اور دیگر عوامی مقامات کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔