غلام نبی رینہ
کنگن// مرکزی حکومت کے تعاون سے دیہی ترقی کا محکمہ سوچھ بھارت مشن-گرامین کے تحت پتھری بل، رائل گنڈ کنگن میں 35 لاکھ روپے کی لاگت سے بائیو گیس پلانٹ لگا رہا ہے۔ اس سہولت کا مقصد وادی کشمیر میں آلودگی پر قابو پانا، دیہی فضلہ کا انتظام کرنا اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا ہے۔محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق علاقے میں 35لاکھ روپے کی لاگت سے سوچھ بھارت مشن (گرامین) کے تحت 25 ہزار کیوبک صلاحیت کاحامل بائیوں گیس پلانٹ تعمیر ہونے والا یہ منصبوبہ جموں و کشمیر میں اس نوعیت کا ایک واحد پلانٹ ہوگا
۔وادی کشمیر کا اپنی نوعیت کا پہلا منصبوبہ ہوگا جو قابل تجدید توانائی کی پیداوار اور دیہی فضلاء کے منظم انتظام کی جانب ایک اہم اقدام ہوگا۔ یہ پلانٹ اینیرو بک ڈائجیشن سے پاک ماحول میں حیاتیاتی تحلیل کے اصول پر کام کریگا جس میں مقامی سطح پر مویشیوں کے گوبر اور کچرے کو بھاری بھاری استعمال کیا جائے گا۔ اس عمل کے ذریعے میتھین سے بھر پور بائیو گیس اور نامیاتی کھاد تیار ہوگی۔ بائیو گیس 30گھرانوں پر مشتمل بستی کو مفت میں فراہم کیا جائے گا جبکہ اس سے حاصل ہونے والی نامیاتی کھاد زرعی مقاصد کے لئے استمال کی جائے گی۔ علاقے کے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کے لئے تھرمواسٹیٹک کنٹرول سسٹم نصب کیا جارہا ہے جبکہ آئی او ٹی پر مبنی سینئرز بھی لگائے جارہے ہیں جو گیس کے درجہ حرارت۔پی ایچ لیول اور خام مواد کی مقدار کی حقیقی وقت میں نگرانی کریں گے۔ یہ منصوبہ ایل پی جی اور لکڑی جیسے روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے فضلاء کو منظم طریقے سے ٹھکانے لگانے میں مدد دے گا اس کے علاوہ یہ اقدام ماحولیاتی تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوگا کیونکہ غیر منظم فضلہ سے خارج ہونے والی میتھھین گیس میں کمی آئے گی اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ ملے گا ۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل میں جموں و کشمیر میں اپنی نوعیت کے منصوبوں کے لئے ایک مثالی ماڈل ثابت ہوگا خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں کمیونٹی سطح کے بایو گیس نظام کی افادیت کو اجاگر کرے گا ۔ محکمہ دیہی ترقی کی ڈائریکٹر جنرل انو ملہوترا نے بتایا کہ پلانٹ جلد ہی مکمل جائے گا ۔ٹھیکدار غلام نبی ملک نے بتایا کہ وہ مئی کے پہلے ہفتے میں پلانٹ کو مکمل کرنے کے بعد محکمہ کے حوالے کردینگے جس کے بعد اس میں مشینوں کے لئے ٹنڈر نکلنے کے بعد اس کو چالو کیا جائے گا۔