نئی دہلی//مرکزی وزارت داخلہ نے منگل کے روز کہاکہ فروری میں فائر بندی کے معاہدے کو سختی کیساتھ عملانے کے بعد لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے صرف 6واقعات پیش آئے ہیں۔ لوک سبھا میں اسد الدین اویسی اور کرشنا پال سنگھ یادو کے سوالات کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نیتیانند رائے نے کہا کہ جون 2021تک جنگ بندی کی خلاف ورزی کے 664 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 2018 میں جنگ بندی کی1402 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں ، 2019 میں مجموعی تعداد 4793 اور 2020 میں 1335 رہی۔وزیر مملکت نے کہا کہ رواں سال مارچ میں ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ، جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران 454 واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اپریل2021 میں بھی صرف ایک واقعہ پیش آیا ، جبکہ گزشتہ سال اپریل میں 412واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ مئی2021 میں3 واقعات درج کئے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ کے دوران398واقعات رپورٹ ہوئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ جون2020 میں 423واقعات کے مقابلے میں جون2021 میں صرف 2ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ تحریری جواب میں کہا گیا کہ بھارتی فوج اور بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور انٹرنیشنل بارڈر (آئی بی) پر بلا اشتعال فائرنگ اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی صورت میں فوری اور موثر جوابی کارروائی کی جاتی ہے۔انہوں نے ایوان کوبتایاکہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر طے شدہ بات چیت کے بعد 25 فروری 2021 کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ، جس میں ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایل او سی کے ساتھ تمام معاہدوں ، افہام و تفہیم اور جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا۔ اور 24و25 فروری 2021 کی آدھی رات سے معاہدہ نافذ ہے۔
ملک میں3برسوں کے دوران
۔348 حراستی ہلاکتیں اور 1189کا ٹارچر
نئی دہلی // بھارت کے مختلف علاقوںمیں پچھلے 3برسوں کے دوران 348لوگ پولیس حراست میں مارے گئے ہیں، جبکہ 1189افراد کا حراسست کے دوران ٹارچر کیا گیا۔ وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیا نند رائے نے لوک سبھا میں منگل کو بتایا گیا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق 2018میں 136لوگ پولیس حراست میں مارے گئے۔2019میں 112اور 2020میں 100لوگوں کی حراست کے دوران ہلاکتیں ہوئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ2018کے دوران پولیس حراست کے دوران 542 لوگوں کا ٹارچر کیا گیا۔2019میں 411اور 2020کے دوران 236 لوگوں کا ٹارچر کیا گیا۔