خطہ ٔ چناب کا ایک علاقہ کہ جو کسی زمانے میں بہت زیادہ پسماندہ تصّور کیا جاتا تھا اُسے بھلیسہ کے نام جانا جاتا ہے۔یہ علاقہ ایسے محنتی،ذہین اور دیندار لوگوں کی تاریخ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے کہ جھنوں نے نہ صرف ریاستی بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پہ اپنی ذہانت اور دیانتداری کا لوہا منوایا ہے ۔اس سلسلے کا پہلا نام غلام نبی آزاد صاحب کا ہے کہ جو اس وقت ایک بڑے سنجیدہ اور معتبر سیاسی رہنما کی حیثیت سے دُنیا کے تقریباً ہر ملک میں معروف ہیں ۔اُن کے علاوہ جناب غلام رسول آزاد(مرحوم)اور عبدالعزیز بٹ (مرحوم)جوجموں وکشمیر یونیورسٹی میں ر جسٹرارکی پوسٹ سے سبکدوش ہوچکے تھے۔ان کے علاوہ ایک بہت بڑے روحانی مُرشد الحاج غلام قادر غنی پوری( مرحوم)کہ جنھوں نے مدرسہ اخیارالعلوم قائم کرکے دینی تعلیم کے ساتھ ہُنر مندانہ تعلیم کو بھی فروغ دینے میں کوئی بھی کسر اُٹھائے نہیں رکھی۔اُن کا تعلق بھی بھلیسہ ہی کی سر زمین سے تھا اور اس وقت اُسی میں آرام فرما ہیں ۔آج بھی بھلیسہ کے کئی نوجوان سائنسی،تکنیکی،تہذیبی وثقافتی اور انتظامیہ سر گرمیوں میں کسی سے کم نہیں ہیں چونکہ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے پہاڑی اور غیر ہموار زمینی سلسلے سے تعلق رکھتا ہے اس لیے یہاں کے لوگ آرام طلب نہیں ہیں بلکہ جفاکش اور بہت زیادہ محنتی ہیں ۔
غلام حسین ملک درد پیامیؔکا تعلق بھی بھلیسہ سے ہے ۔اُن کی زندگی میں مختلف طرح کی کھٹنائیوں اور دُشواریوں کا عمل دخل رہا ہے لیکن یقین محکم اور عمل پیہم کے جذ بے کے ساتھ وہ زندگی کی اُن تمام دُشواریوں کا سامنا خندہ پیشانی سے کرتے رہے ۔دراصل مشکلات اور مصائب وآلام انسان کو کامیاب زندگی جینے کا سلیقہ سکھا دیتے ہیں ۔حالات سے گھبراکر زندگی سے راہ فراراختیار کرنا بُزدلی ہے۔غلام حسین ملک نے زندگی کے نشیب وفراز میں اپنی تخلیقی ،علمی اور تعلیمی سرگرمیوں اور کاوشوں کو جاری رکھا ۔وہ انگریزی کے ایک قابل ترین اُستاد رہ چکے ہیں اور انگریزی کے سینئر لیکچر کی حیثیت سے ۲۰۰۰ء میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہیں ۔اُن کے لیے یہ بات باعث صد افتخار ہے کہ اُنھوں نے ہمارے عظیم سیاسی رہنما جناب غلام نبی آزاد کو بطور طالب علم پڑھایا ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اُن کے کئی ایسے شاگرد ہیں جنھوں نے مستحسن کارنامے انجام دیے ہیں ۔ اُستاد کے منصب اور پیشے سے متعلق کسی دانشور نے بالکل بجافرمایا ہے کہ اُستاد معمار قوم ہوتا ہے ۔میرے خیال میں اُستاد اور شاگرد کا رشتہ ماں باپ اور اولاد کے رشتے کے مترادف ہوتا ہے ۔
غلام حسین ملک انگریزی ادب کی طرف حادثاتی طور پر مائل ہوئے تھے ۔ کسی کُتب فروش کی دُکان پر شکسپیر کے ڈرامے اورانگریزی شاعری کی کتابیں خریدیں ،اُنھیں پڑھا اور بہت متاثر ہوئے ۔چناں چہ یہی باعث بنا کہ وہ اُردو یا فارسی کے بجائے انگریزی میں ایم اے کرنے اور اسی مضمون کی تدریس کا عزم کر بیٹھے لیکن گھر میں اُردو اور فارسی پڑھنے اور جاننے والے بُزرگ موجود تھے چنانچہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اُردو اور فارسی پر بھی اچھی دسترس رکھتے ہیں ۔
’’یاد ماضی‘‘غلام حسین ملک کی چند نظمیہ،غزلیہ ،حمدیہ اور نعتیہ شاعری کا مجموعہ ہے جس میں اُنھوں نے اپنے تجربات ومشاہدات زندگی کو شاعرانہ پیرائے میں بیان کیا ہے ۔مانا کہ شاعری میں وزن وبحر اور شعری جمالیات سے گہری واقفیت نہایت ضروری ہے بلکہ ان تمام فنی لوازمات کے بغیر شاعری کا تصّور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ شاعری میں پاکیزہ جذبات و احساسات یا پھر اصلاحی جذبے کی رعایت رکھتے ہوئے شاعری کرنا ایک مستحسن بلکہ کسی بھی کار خیر سے کم نہیں ہے۔اس اعتبار سے غلام حسین ملک کہ جو درد پیامیؔ تخلص کرتے ہیں کے بہت سے اشعار نصیحت آمیز معلوم ہوتے ہیں ۔دراصل شعر وادب میں مقصدیت کی اہمیت کل بھی تھی آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔بلا مقصد اس کائنات کو بھی تو خالق کائنات نے پیدا نہیں فرمایا ہے ۔غلام حسین ملک کے شعری سروکار میں مقصدیت اور اصلاحی جذبے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔آیئے اس سلسلے میں اُن کے چند اشعار ملاحظہ کریں :
ٹماٹر اور پودینا کی چٹنی خوب ہوتی ہے
اگر ہوں اس میں مرچیں تیز چہرا لال ہوجائے
نہ کھانے میں نہ پینے میں مزا آتا ہے انساں کو
کبھی اُمید انساں کی اگر پامال ہوجائے
……
اگر انسان کا دل پاک ہو نفرت کے جذبے سے
تو انسان صرف اُلفت کا علمبردار ہوجائے
……
جب بڑھے گا اس وطن میں پھر غریبوں کا وقار
موڑ ڈالے گا یقیناً وقت کا دھارا غریب
……
ہے وقت صبح گاہی آئی صدا ہے جاگو
رحمت برس رہی ہے وقت دُعا ہے جاگو
طیور نغمہ زن ہیں تعریف میں خدا کی
غفلت کی نیند چھوڑو ،وقت ثنا ہے جاگو
لیل ونہار میں بھی دیکھو نکھار آیا
پھیلا حیات نو کا یہ سلسلہ ہے جاگو
……
ان تمام اشعار میں جہاں ایک طرف شاعر کا خطیبانہ انداز موجود ہے تو وہیں ایک طرح کی بوقلمونی کا احساس بھی ہوتا ہے ۔شروع کے اشعار میں جہاں مزاح کی چاشنی قاری کو لطف فراہم کرتی ہے تو وہیں بقیہ اشعار میں پند ونصائح ،دُنیا کی ناپائیداری ،فکر آخرت ،محبت واخوت کی تلقین ،غریبوں کا درد،مناظر فطرت پہ غور وفکر کرنے کی دعوت اور مالک حقیقی کی حمد وثنا میں زندگی گزارنے کادرس بھی موجود ہے ۔ہمیں کہیں بھی غلام حُسین ملک درد پیامیؔکے مجموعئہ کلام میں کوئی ایسا شعر نظر نہیں آتا جو قاری کے لیے مخرب اخلاق کا سبب بن سکتا ہو ۔اُن کے نظمیہ اشعار میں مقامیت در آئی ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ شاعر موصوف کو اپنی دھرتی اور اُس دھرتی کے لوگوں سے بہت اُنسیت ہے ۔اس حوالے سے اُن کی ایک نظم ’’گلزار بھلیسہ‘‘سے ماخوذ یہ اشعار قابل ملاحظہ ہیں :
اک دل رُبا ودلکش گلزار ہے بھلیسہ
اہل نظر کا حُسن معیار ہے بھلیسہ
کیا خوب سلسلوں کا کوہسار ہے بھلیسہ
مستی رچی ہوئی ہے اس کی فضا میں ہرسُو
فطرت کی نعمتوں سے سرشار ہے بھلیسہ
دیودار،چیڑ پڑتل خوش رنگ بوٹیوں سے
بھر پور جنگلوں کی دیوار ہے بھلیسہ
………
مجھے یقین ہے کہ غلام حسین ملک درد پیامیؔ کا مجموعئہ کلام ’’یاد ماضی ‘‘جب کتابی صورت میں اُردو شاعری سے دلچسپی رکھنے والوں تک پہنچے گا تو وہ اسے بڑے شوق سے پڑھیں گے اور اُنھیں بھی اپنے ماضی کی یادیں تڑپائیں گی۔بقول اختر انصاری ؎
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
رابطہ :اسسٹنٹ پروفیسر شعبئہ اردو باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری (جموں وکشمیر)
فون نمبر9419336120