یو این آئی
دوحہ//غزہ میں 3 دن کی جنگ بندی کے لیے قطر کی ثالثی میں حماس اسرائیل مذاکرات جاری ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے نیویارک میں سینکڑوں مظاہرین فلسطینی پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور غزہ میں جنگ بندی کا پرزور مطالبہ کیا۔روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز اس مظاہرے کے دوران مظاہرین ‘فلسطین کو آزاد کرو’، ‘ابھی جنگ بندی کرو’ اور ‘نسل کشی بند کرو’ کے نعرے لگا رہے تھے ۔اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ‘نیتن یاہو اور بائیڈن جنگی مجرم ہیں’ اور ‘اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے ، جو کھلے عام نسل کشی کر رہا ہے ‘۔یہ احتجاج اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت کے پاس سے گزرا اور پھر 42ویں اسٹریٹ کے ساتھ مین ہٹن کے ڈائون ٹاؤن کی طرف مڑ گیا۔ اس دوران پولیس اہلکار موجود تھے تاہم کسی جھڑپ یا گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اب تک ساڑھے دس ہزار سے زائد فلسطینی شہری غزہ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں ایک بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے ۔ادھرملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے حماس کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے ۔پارلیمنٹ ہاؤس سے خطاب میں وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ملائیشیا متفقہ طور پر فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھے گا۔امریکی قانون سازوں کی جانب سے حماس کی غیرملکی سپورٹ پر پابندی کے منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملائیشیا حماس کی حمایت جاری رکھے گا اور ہم حماس پر کسی پابندی یا سزا کیلئے تیار نہیں ہیں۔ملائیشین وزیر اعظم سے حزب اختلاف کے رکن نے سوال کیاتھا کہ گزشتہ ہفتے امریکی ایوان نمائندگان میں حماس کے غیر ملکی سپورٹرز پر پابندی کیلئے پیش کی گئی قرارداد پر آپ کی حکومت کا کیا مؤقف ہے ؟حزب اختلاف کے رکن اسمبلی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انور ابراہیم نے کہا کہ ہم کوئی بھی دھمکی قبول نہیں کریں گے ۔