بات مت چھیڑیئے فسانوں کی
نیند کھل جائے گی زمانوں کی
کس کی آواز تھی یہ بستی میں
کھڑکیاں کُھل گئیں مکانوں کی
اپنے حصے کے خار لے آیا
وہ جو بستی تھی باغبانوں کی
دفن آخر ہوئی کتابوں میں
ایک شہزادی داستانوں کی
لوگ صدقہ اُتار دیتے ہیں
بازیاں کھیلتے ہیں جانوں کی
بانٹ لیتے ہیں موسموں کے رنگ
خوشبوئیں عشق کے گھرانوں کی
آؤ شیدا ؔ غزل سے راکھ چُنیں
بجھ گئی آگ سرد خانوں کی
علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اسلام آباد، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
خلوص و مہر کا تم گر دیا جلا دیتے
شب دیجور میں امید اک جگا دیتے
مقامِ عشق کا گر راستہ بتا دیتے
تصورات کی دنیا نئ بسا دیتے
جمالِ حسن کا خوگر رہا زمانہ بھی
مجھے بھی سنگ گراں دیوتا بنا دیتے
ہوس حسینؓ کو ہوتا تو اے جہاں والو
درِ یزید پہ وہ اپنا سر جھکا دیتے
گراتے کیوں ہو غریبوں کے آشیانے کو
کسی غریب کے گھر کو بھی تم بنا دیتے
حضور ہوگئے اب ختم وہ حسیں لمحے
جو تم نے وعدہ کیا تھا اسے نبھا دیتے
نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام و در پہ رہے
لہو گٹر کا نہیں ہے جو تم بہا دیتے
ہے مطلبی وہ کبھی خیریت نہیں لیتا
چلو کہ اچھا ہوا داغِ دل مٹا دیتے
خموش رہنا تھا بہتر جواب دینے سے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
کرم سعید پہ ہوتا تو اے جہاں والو
وگر نہ قدموں میں شمس و قمر بچھا دیتے
سعید قادری
صاحب گنج، مظفر پورہ بہار
موبائل نمبر؛926234249
دیکھ احسانوں کو پہلے تول کر
بعد میں پھر دوستی کا مول کر
ہر قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے کیوں
کیوں نہیں چلتا تو آنکھیں کھول کر
کل نجانے تم کہاں ہوں ہم کہاں
آؤ کچھ باتیں کریں دل کھول کر
دشمنوں کے دل کو یارو جیت لو
بول میٹھے میٹھے منہ سے بول کر
بات کرتا ہے تو ہوتا ہے گماں
پی لیا ہو جیسے امرت گھول کر
اس میں اب تیرے سوا کوئی نہیں
دیکھ لے دل کا دریچہ کھول کر
جسم کا پنجرہ ہوا خالی رفیق ؔ
روح کا پنچھی اُڑا پر تول کر
رفیق عثمانی
سابق آفس سپرانٹنڈنٹ
BSNLآکولہ مہاراشٹرا
کیا غم جو اور کسی کے برابر نہیں رہا
خوشا کہ اپنے آپ سے کمتر نہیں رہا
دل میں کسی خیال کی صورت نہیں بنی
جب تک ترا خیال میسر نہیں رہا
تو جو نہیں ہے ساتھ تو منزل کی کیا خوشی
دستار کو میں کیا کروں جب سر نہیں رہا
میرے بغیر خوش ہے اگر تُو، تو بات سُن
تیرے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں رہا
مفلس مرے عوام کی حالت پہ کس کو غور؟
مخلص کوئی بھی قوم کا رہبر نہیں رہا
خوشبوئیں سارے شہر کی بے سود ہیں، کہ جب
عکسِ خیالِ یار معطّر نہیں رہا
خانہ بدوش لوگ ہیں، اپنی یہی ہے زیست
روٹی ہوئی نصیب تو چھپر نہیں رہا
احباب! ایک روز خبر یہ سنیں گے آپ
ممتازؔ نام کا تھا جو شاعر، نہیں رہا
ممتازؔ چودھری
راجوری،جموں
موبائل نمبر؛7051363499
اِن آنکھوں نے کتنے جنگ دیکھے
اپنوں کے بدلتے ڈھنگ دیکھے !
یاں ایک چمن میں کتنے سارے
پھولوں کے نرالے رنگ دیکھے
پہچانیں گے کیسے دوست دشمن
بازار میں دونوں سنگ دیکھے !
رکھتے ہیں ہنر بھی، علم بھی جو
ہر طور وہ ذہن تنگ دیکھے !
مسکان کے پیچھے درد کتنا
دل میں کئی جل ترنگ دیکھے !
رُخسانہ پروین
باغات برزلہ سرینگر، کشمیر
اُلفت کا رنگ چھا یا ہوا ہے ہوائوں میں
موسم عجیب سا ذرا دیکھ فضا ؤں میں
آئی چمن میں ہے بہار تو دیکھی ہرطرف
بلبل و گل مسکرانے لگے ہیں راہوں میں
جن پھولوں کو مالی سمجھتا تھا خیر خواہ
ہیں کہاں وہ اب اسکے خیر خواہوں میں
عادل تو بنے تھے کبھی اُس شہر کے لیکن
وہ عدل اب کہاں رہا اُنکی نگاہوں میں
قادریؔ وہ وفا رہی کہاں اب قصبے کی ہوا میں
موسم ہے پُر بہار جا کے دیکھوں تیرے گائوں میں
فاروق احمد قادری
کوٹی ،ڈوڈہ، جموں
جب کوئی زخم نیا لگے تو غزل کہتے ہیں
اپنوں کی بد دعا لگے تو غزل کہتے ہیں
ویراں صحراؤں میں گُم تھے خوش تھے بڑے
یہ جینا سزا لگے تو غزل کہتے ہیں
بارِ زیست اُٹھا رہے ہیں تنہا تنہا
زندگی کوئی خطا لگے تو غزل کہتے ہیں
اپنا کوئی ہمدم نہیں ‘ ہم سُخن نہیں
وجود اپنا خود سے جُدا لگے تو غزل کہتے ہیں
حالِ دل تحریر کرتے ہیں لفظوں میں
خاموش قلم کی صدا لگے تو غزل کہتے ہیں
جنکی عبادت میں اک عمر گُزری محفل ؔ
جب کوئی اور خدا لگے تو غزل کہتے ہیں
محفل ؔ مظفر
پلہالن پٹن، بارہمولہ کشمیر
کوئی اور بتائے ہم سے پوچھ اے زندگی
کیا خوب دوا تھی تیرے لہجے کی چاشنی
مر مٹے ہیں لوگ نازو نخروں پہ کسی کے
ہـم کو تو پل پل راس آئی تیری وہ سادگی
تم وہ کہتےتھے, یہ کہتےتھے نا بار بار
یہی تو یاد کر کر کے ملی ہم کو شگفتگی
وہ اور تھے جو مر گئے فراقِ عشق میں
ہم تو فراقِ عشق کو بھی سمجھتےہیں بندگی
جیئے کوئی ایسے کیسے تمہیں یاد کئے بغیر
وہ رت بہاروں کی وہ فضاؤں میں نغمگی
تیری لے،وہ گفتگو،وہ تبسم گلاب جیسا
کہیں پردہ داری،کہیں بے بسی کہیں دلکشی
نہ لفظ ٹھر سکے نہ زمانہ ہی رک سکا
لئے پھرتی ہے عؔ غ ساتھ غمِ بے بسی
عذرا غنی
آسنور کولگام ، کشمیر