تیری آنکھوں کی ٹھنڈی چھاؤں پر
ہم ہیں قرباں تیری اداؤں پر
یہ بُجھا دیتی ہیں چراغوں کو
کیا بھروسہ ہے ان ہواؤں پر
دھیان دیتے نہیں یہ حاکمِ وقت
ہم غریبوں کی ان صداؤں پر
ہم کہ کرتے رہے وفا اُس سے
وہ کہ قائم رہا جفاؤں پر
بارہا پوچھتا ہے اِک اِک بات
اُس کو شک ہے مِری وفاؤں پر
اُن کی جب بھی کوئی ضرورت ہو
ایسے میں پڑتے ہیں وہ پاؤں پر
وہ کہ عادی ہیں اے ہتاشؔ ان کے
کیا کریں تبصرہ جفاؤں پر
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
تم سے وعدہ کبھی وفا نہ ہوا
ہم کو بھی اس کا کچھ گلہ نہ ہوا
ہے محبت بھی ایک قرضِ حیات
کیا کریں ہم سے یہ ادا نہ ہوا
وقت نے محو کر دیا ہر غم
اک ترا غم تھا جو جدا نہ ہوا
ہم رہیں تیری یادوں سے غافل
ہم سے تو یہ ستم روا نہ ہوا
ان نگاہوں کا تیر تھا ایسا
جو چلا تو کبھی خطا نہ ہوا
اتنے ہوئے ہو تم خفا ہم سے
اتنا تو بندے سے خدا نہ ہوا
ہم وفا کر کے ہوگئے بدنام
وہ جفا کر کے بھی برا نہ ہوا
کیا معینؔ ان سے ہم اُمید رکھیں
جن سے خود اپنا ہی بھلا نہ ہوا
معین فخر معین
موبائل نمبر؛ 003443837244
تحریروں سے کاغذ کالے تقریروں سے فضا خراب
لکھنے والے بولنے والے سب لوگوں کی ہوا خراب
دیواروں کی خستہ حالی ڈھکی ہوئی ہے کاغذ سے
تعمیروں کے نعرے پڑھ کر ہو جاتا ہے مزا خراب
ہم تو آنکھیں دے کر خوش تھے اِن سے کوئی دیکھے گا
آنکھیں جس کو دان میں دے دیں اُس نے ان کو کیا خراب
اک اک بوند ٹپک کر میرے تن کو چھلنی کر دے گی
پھوس کا نازک چھپّر میرا برسا پانی ہوا خراب
دھواں دھواں سا شہر ہے جس میں آنکھیں جلیں دَم گھٹتا ہے
ایسے حال میں جی کر ہم نے اپنے حق میں کیا خراب
اُس کافر کے گورے نازک ہاتھوں پر ہم مرتے ہیں
کتنے اچھے ہاتھ تھے اُس کے جس نے ہم کو لکھا خراب
ف۔س۔اعجاز
موبائل نمبر؛ 9830483810
کچھ اور بھی سفر ہیں کوہ و دمن سے آگے
آتی ہے من کی دنیا جاتے ہی تن سے آگے
سوچیں اگر جدا ہم اوروں سے ہے وہ بہتر
کرتا ہے کچھ تصور فن کار فن سے آگے
بلبل جو قید میں تھی کہتی تھی رات مجھ سے
آتی ہے پاس اُڑ کر خوشبو چمن سے آگے
باتوں سے حال کی سب پرسش کہاں ہے ہوتی
دلکش ہے اور بھی کچھ ہمدم سخن سے آگے
تم کو خبر نہیں کیا کچھ اور بھی ہے ساقی
دنیائے بے وفا کی اس انجمن سے آگے
بیٹھے رہو نہ ایسے فکروں کو جاگ ڈالو
آغاز عصرِ نو ہے ساقیؔ کہن سے آگے
ساقی اعجاز
موبائل نمبر؛6005500468
تیرے حجر نے، ایک گھر کردیا
آدھا اِدھر کو، آدھا اُدھر کر دیا
شدت سے بیٹھ کر کیا تیرا انتظار
اشکوں نے میرا گریباں تر کر دیا
تیرےحسن وشباب کامقصد ہےکیا
جو مجھ کو تو نے در بدر کردیا
خیالوں میں تیرے، گم ہو گیا ہوں
یادوں نے تیری درد سر کر دیا
شکوہ تجھ سےکرے کیسے ریاضؔ
محبت کر کے جو شر کر دیا
ریاض ملک بُدھلوی
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی
راجوری جموں و کشمیر
موبائل نمبر؛8803530035