محتشم احتشام
پونچھ//اردو غزل کی روایت اور اس کی جمالیاتی قدروں کو محفوظ رکھنے کی ایک سنجیدہ ادبی کوشش کے طور پر منتخب غزلوں پر مشتمل مجموعہ ’’ترے نام‘‘ کا نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن 2026 شائع ہو کر منظرِ عام پر آ گیا ہے۔یہ مجموعہ معروف ادیب اور محقق پروفیسر (ڈاکٹر) نجم بٹ کی ترتیب و تدوین کا ثمر ہے۔غزل اردو شاعری کی وہ صنف ہے جس نے ہر دور میں اپنے حسن، رمزیت اور فکری وسعت کے سبب اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ رکھا ہے۔ اگرچہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس صنف پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے، تاہم غزل نے ہر مخالفت کے باوجود اپنی مقبولیت اور وقار کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ مزید مستحکم کیا۔’’ترے نام‘‘ پہلی بار 2024 میں شائع ہوا تھا جو مرتب کی تیسری تصنیف تھی۔ اس ابتدائی ایڈیشن میں 73 شعرا و شاعرات کی 87 غزلیں شامل تھیں۔ اب 2026 کے نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن میں مجموعے کو ازسرِنو مرتب کرتے ہوئے بعض غزلوں کو حذف اور کئی نئے شعرا و شاعرات کی غزلوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یوں اس تازہ ایڈیشن میں سو شعرا و شاعرات کی سو منتخب غزلیں شامل کی گئی ہیں۔اس مجموعے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قومی و بین الاقوامی سطح کے شعرا و شاعرات کی نمائندگی موجود ہے۔ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ لداخ سے تعلق رکھنے والے شاعر خیال لداخی کی غزل کو بھی اس انتخاب میں شامل کیا گیا ہے، جو اس مجموعے کی جغرافیائی اور فکری وسعت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔مرتب کے مطابق یہ مجموعہ نہ صرف عام قارئین بلکہ اردو ادب سے وابستہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا، اور توقع ہے کہ کالجوں کی اردو لائبریریوں میں اسے مناسب مقام دیا جائے۔