راجوری //بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے ہوسٹلوں میں مقیم طلباء نے پیر اور منگل کی درمیانی شب آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی، اس سلسلہ میں پولیس نے غیر شناخت شدہ طلاب کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ شب 11بجے یونیورسٹی کے ہاسٹل آزادی کے حق میں لگنے والے نعروں سے گونج اٹھے، اس کے علاوہ وہ جامعہ کے سابق انجیئرنگ سٹوڈنٹ عیسیٰ فاضلی جوماہ اگست میں عسکری صفوں میں شامل ہو نے کے بعد گزشتہ روز اننت ناگ میں ہوئی مسلح جھڑپ میں جاں بحق ہو گیا تھا ، کے حق میں بھی نعرے لگائے گئے، نعرے اتنی بلند آواز سے گونج رہے تھے کہ آس پاس کے گائوں میں بھی سنائی دیتے رہے ۔ مختلف ہوسٹلوں میں قیام پذیر طلباء کی طرف سے کی جانے والی یہ نعرہ بازی قریب 3گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد سکوت چھا گیا۔ منگل کی صبح سے ہی جامعہ میں حالات کشیدہ ہونے کا اندیشہ تھا تاہم کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور دن بھرامن و امان قائم رہا۔ تاہم پولیس نے اس سلسلہ میں راجوری تھانہ میں معاملہ درج کر لیا ہے ۔ ایس ایس پی یوگل منہاس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 53-A, 120-B, 124-A RPCدفعات کے تحت ایف آئی آر 120/2018درج کر لی گئی ہے تاہم اس میں کسی کو بھی نامزد نہیں کیا گیا ہے ۔ ادھر خفیہ ایجنسیوں نے بھی الرٹ جاری کر دیا ہے کیوں کہ پہلے ہی ضلع کی مانگ کو لے کر پورے ضلع میں صورتحال کشیدہ ہے اور اس واقعہ سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ پولیس کی طرف سے صبح سے ہی یونیورسٹی کے ارد گرد بھاری تعداد میں فورس تعینات کر دی گئی تھی اور اعلیٰ افسران بھی وہاں موجود رہے تا کہ کسی بھی قسم کے حالات سے بروقت نمٹاجا سکے ۔