عظمیٰ نیوز سروس
راجوری // عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی خطہ پیر پنچال کے مختلف بازاروں اور قصبوں میں غیر معمولی رونق دیکھنے کو مل رہی ہے۔ راجوری، پونچھ، مینڈھر، تھنہ منڈی، نوشہرہ، سرنکوٹ، منڈی اور دیگر چھوٹے بڑے قصبوں میں لوگوں کی بڑی تعداد خریداری کیلئے بازاروں کا رخ کر رہی ہے، جس کے باعث بازاروں میں دن بھر شدید رش اور گہما گہمی کا ماحول بنا ہوا ہے۔عید الاضحیٰ کے پیش نظر کپڑوں، جوتوں، بچوں کے ملبوسات، عطر، کاسمیٹکس، گھریلو سامان اور مٹھائیوں کی دکانوں پر خریداروں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ خواتین، نوجوانوں اور بچوں میں عید کی خریداری کو لے کر خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔
بازاروں میں رات گئے تک چہل پہل جاری رہتی ہے جبکہ دکاندار بھی خریداروں کو متوجہ کرنے کیلئے خصوصی رعایتوں اور نئے اسٹاک کی نمائش کر رہے ہیں۔راجوری اور پونچھ کے مرکزی بازاروں میں ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، جس کے باعث کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے رش کو قابو میں رکھنے کیلئے اضافی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔عید قرباں کے پیش نظر خطہ پیر پنچال کے درجنوں مقامات پر قربانی کے جانوروں کی خصوصی منڈیاں بھی سجائی گئی ہیں جہاں خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان منڈیوں میںبکروں اور بھیڑوں کی خرید و فروخت زور و شور سے جاری ہے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں سے بھی بیوپاری اپنے مویشی فروخت کیلئے منڈیوں میں لا رہے ہیں۔مینڈھر، سرنکوٹ، تھنہ منڈی، منڈی اور نوشہرہ میں صبح سے شام تک لوگوں کی بڑی تعداد جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آئی ۔ خریدار جانوروں کی صحت، جسامت اور خوبصورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے پسندیدہ مویشی خرید رہے ہیں جبکہ بیوپاری بھی بہتر دام حاصل کرنے کیلئے مختلف انداز میں جانوروں کی نمائش کر رہے ہیں۔اگرچہ اس سال بعض اشیائے خورد و نوش اور مویشیوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، تاہم عید کی خوشیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام بھرپور خریداری میں مصروف ہیں۔ کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باوجود عید الاضحیٰ مسلمانوں کیلئے ایک عظیم مذہبی تہوار ہے اور وہ اس موقع پر اپنی استطاعت کے مطابق قربانی اور دیگر مذہبی فرائض انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔بازاروں میں بڑھتی بھیڑ کے سبب سیکورٹی انتظامات بھی سخت کر دیئے گئے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ عید کے موقع پر امن و امان برقرار رہے۔ عوام نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں اور مویشی منڈیوں میں صفائی، ٹریفک اور بنیادی سہولیات کا مناسب انتظام یقینی بنایا جائے تاکہ لوگ عید کی خریداری سکون اور سہولت کے ساتھ مکمل کر سکیں۔
عید سے ایک روز قبل پونچھ شہر شدید ٹریفک جام کی زد میں
بازاروں میں غیر معمولی رش کے دوران شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا
محتشم احتشام
پونچھ// عیدالاضحی سے ایک روز قبل پونچھ شہر کے مختلف علاقوں میں شدید ٹریفک جام نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔بازاروں میں غیر معمولی رش، بے ہنگم پارکنگ اور ٹریفک کے ناقص انتظامات کے باعث شہر کے کئی اہم مقامات گھنٹوں تک جام رہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر درماندہ ہو کر رہ گئے۔شہر کے مصروف تجارتی مراکز، خاص طور پر وشال میگا مارٹ کے سامنے صورتحال انتہائی ابتر دیکھی گئی جہاں کئی گھنٹوں تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں۔ شدید گرمی اور رش کے باعث خواتین، بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ عید کی خریداری کے لیے لوگ بڑی تعداد میں بازاروں کا رخ کرتے ہیں، تاہم ٹریفک کو منظم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ٹریفک جام کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحصیلدار حویلی نے مختلف متعلقہ افسران کے ہمراہ شہر کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے موقع پر موجود اہلکاروں کو ہدایت دی کہ غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی آمد و رفت کو منظم بنایا جائے تاکہ عوام کو مزید دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مقامی شہریوں اور تاجروں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عید اور دیگر تہواروں کے مواقع پر ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے جائیں، اضافی نفری تعینات کی جائے اور پارکنگ کے مناسب متبادل فراہم کیے جائیں تاکہ مستقبل میں عوام کو اس طرح کی مشکلات سے نجات مل سکے۔شہری حلقوں نے اس بات پر زور دیا کہ پونچھ جیسے مصروف شہر میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد کے پیش نظر جدید ٹریفک مینجمنٹ نظام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ عوام نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مستقل بنیادوں پر مؤثر حکمت عملی اختیار کر کے ٹریفک مسائل کا دیرپا حل نکالا جائے تاکہ شہری سکون اور سہولت کے ساتھ اپنی روزمرہ سرگرمیاں انجام دے سکیں۔