عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//وزیرِ خزانہ اور کارپوریٹ امورنرملا سیتا رمن نے مرکزی وزارتوں اور سرکاری شعبے کے اداروں کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن کے دوسرے مرحلے نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن 2.0 کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ این ایم پی 2.0 کو NITI Aayogنے بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد 2025 تا 2030 کے لیے تیار کیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ خزانہ نے بجٹ 2025-26میں اس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔این ایم پی 2.0 کے مطابق مالی سال 2026سے 2030تک پانچ برسوں میں مرکزی وزارتوں اور سرکاری اداروں کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن پائپ لائن کے تحت نجی شعبے کی 8.5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سمیت مجموعی طور پر 16.72 لاکھ کروڑ روپے کے اثاثے بازار میں لائے جا سکتے ہیں۔
این ایم پی 2.0 کو آج NITI Aayog کے سی ای او اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوںروڈ ٹرانسپورٹ، ریلوے، بجلی، پیٹرولیم و قدرتی گیس، شہری ہوا بازی، بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں، ٹیلی کمیونیکیشن، سیاحت، خوراک و عوامی تقسیم، کان کنی، کوئلہ اور ہاسنگ و شہری امورکے سکریٹریوں کے علاوہ وزارتِ خزانہ کے سکریٹریوں، قانون سکریٹری اور چیف اکنامک ایڈوائزر کی موجودگی میں جاری کیا گیا۔ این ایم پی 1.0 کے نفاذ کے لیے چار برسوں میں 6 لاکھ کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔نرملا سیتارمن نے کہا کہ این ایم پی 2.0 تیز رفتار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف سے جڑا ہوا ہے اور اس میں ملک کی ترقی کی رفتار بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایم پی 2.0 کا ہدف نہایت بلند ہے اور پہلے مرحلے کے مقابلے میں 2.6 گنا زیادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام پیداواری عوامی اثاثوں کی ری سائیکلنگ کو ممکن بناتا ہے، جس سے حاصل ہونے والی سرمایہ نئی منصوبہ بندی کے لیے وسائل فراہم کرتی ہے اور حکومت کے بجٹ اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔
کابینہ سکریٹری کی سربراہی میں این ایم پی پر سکریٹریوں کا ایک بااختیار کور گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جو مونیٹائزیشن کے عمل کی نگرانی کرتا رہے گا۔