یو این آئی
سرینگر//وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی رہائی کا خیرمقدم کیا، جنہیں مرکزی حکومت نے قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست سے رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ “انہیں گرفتار کرنا غلط تھا۔ اور وہ بھی این ایس اے کے تحت۔ …انہیں رہا کر دیا گیا، یہ اچھی بات ہے۔ لداخ کی صورتحال بہتر ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے ہوں، اسی طرح لداخ کے ساتھ کیے گئے وعدے بھی پورے ہوں۔”نہوں نے مزید کہا کہ وانگچک کی رہائی کے ساتھ ساتھ حکام کو ان افراد کو بھی رہا کرنے پر غور کرنا چاہیے جن پر معمولی الزامات ہیں یا جنہوں نے اپنی ممکنہ سزا سے زیادہ وقت جیل میں گزارا ہے۔ عمر نے زور دیا کہ رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام اور عیدالفطر کے قریب ہونے کے پیشِ نظر نیک نیتی کے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ادھرپی ڈی پی صدر اور سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کہا کہ وانگچک کے خلاف مقدمہ کبھی درج ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ وانگچک، جو ماحولیات کے تحفظ اور سماجی بہبود کے کاموں کے لیے مشہور ہیں، کو غلط طور پر نشانہ بنایا گیا۔ محبوبہ نے کہاکہ “ایسا شخص جو محبِ وطن ہے اور ماحول، کمیونٹی اور سماج کے لیے اتنا کچھ کر چکا ہے، اسے غدار قرار دیا گیا۔” ایم پی انجینئر رشید نے بھی این ایس اے کے تحت وانگچک کی حراست ختم کرنے کے فیصلے کو پورے خطے کے لیے امید افزا پیغام قرار دیا۔