ہمارے پیارے نبی ؐ کا ارشادِ مبارکہ ہے ،’’ انبیائے کرام کی میراث نہ درہم تھا نہ دینار،بلکہ اُن کی میراث’علم ‘تھی ،پس جس نے علِم حاصل کیا، اُس نے بہت کچھ پالیا ۔‘‘اس فرمان سے معلوم ہوا کہ ’علم ‘حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت کے لئے لازمی ہے ۔بے شک علم سب سے محفوظ زیور اور سب سے محفوظ سرمایہ ہے، جسے نہ کوئی چھین سکتا ہے ،نہ کوئی لوٹ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چوری کرسکتا ہے۔گویا علم واقعی وہ روشنی ہے جس سے اندھیرا دُور ہوجاتا ہے۔ علم سے ہی انسان کے اندرسچ اور جھوٹ ،حق اور ناحق ، حرام او رحلال کی تمیز آتی ہے اور جائز اور ناجائز کی پہچان ہوجاتی ہے۔البتہ علم کی خوبی اس کے عمل کرنے میں ہے اور جس شخص کا علم اُس کی عقل سے زیادہ ہوتا ہے، وہ اُس کے لئے وبال بن جاتا ہے۔یا د رکھیں کہ خوفِ خدا بقدرِ علم ہوتا ہے اور بے خوفی بقدر ِ جہالت۔ کیونکہ علم جہاں شریفوں کو متواضع بناتا ہے وہیں رذیلوں کو متکبّر بنادیتی ہے،علم کی قوت جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو مکاری اور بسیار دانی پیدا کرتی ہے اور جب ناقص ہو تو حماقت اور ابلہی پیدا کرتی ہے۔گویااُدھورا علم اکثر موجب فساد ہوتا ہے اور جو عابد علم سے محروم ہے، اس میں خیر کی بھی کمی ہوتی ہے۔سچ یہ بھی ہے کہ اکثر وہی لوگ گمراہ ہوئے ہیں جو تعلیم یافتہ رہے ہیں ،علم سے محروم کسی شخص کے گمراہ ہونے کی کبھی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے،جبکہ موجودہ دور میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود گمراہی کے راستے پر گامزن نظر آتے ہیںاور ایسی راہوں کے متوالے بن چکے ہیں،جن کا انجام خطرناک اور تباہ کُن ہوتا ہے۔اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ علم بغیر عمل کے عقیم و بے کار ہے اور عمل بغیر علم کے سقیم و بیمار ہے اورعلمِ بے عمل ایک آزار ہے البتہ جہاں علم اور حلم جمع ہوجائیں اِن سے بہتر کوئی دو چیزیں یکجا نہ ملیں گی۔علم کی خوبی اس کے عمل کرنے میں ہےاور جس بات کا علم نہ ہو، اُسے بُرا نہ سمجھو اور اگر کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہو تو اُس سے لاعلمی کا اِظہار نصف علم ہےجبکہ تمام خوبیوں کا مجموعہ علم سیکھنا ، دوسروں کو سکھانا اور اس پر عمل کرنا ہے۔اور ہاں! علم حاصل کرنے کے بعد جنہیںاللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں ہوتااور وہ اپنے حصول ِ علم کو ہی عقلِ کُل سمجھ بیٹھتے ہیںوہ جہالت کے دلدل میں پھنس کر رہ جاتے ہیں، اگر اللہ کی رحمت اُن کے علم کے ساتھ شامل ِحال ہوتی تو وہ ہرگز اندھیروںا ور گمراہیوں کی طرف جانے والےراستے کبھی اختیارنہیں کرتے ،بلکہ غور وفکر کرتےکہ یہ دل و دماغ اور عقل و شعورجو مجھے ملا ہے، یہ اللہ ربّ العالمین کی طرف سے ہی ملا ہے ۔الغرض علم سرمایہ ہے اور علمِ دین عظیم سرمایہ ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین کی بھی تعلیم حاصل کریں اور عصر جدید کی بھی تعلیم حاصل کریں ،اسلام میں حافظ ہونے کا بہت بڑا مرتبہ ہے۔دورِ حاضر میں ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر ،انجینئر، آئی ایس ،آئی پی ایس، ایم بی بی ایس، افسر بنانا ضروری ہے تاکہ وہ لوگوں کے کام آ سکیں اور اُن کے اندر قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو، مگر اس سے پہلے انہیں دینی تعلیم دے کر نیک انسان بنانا بھی بے حد ضروری ہے ۔اس کے بغیر دونوں زندگیاں بے کار ثابت ہو سکتی ہیں۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی میں کامیابی بلندی اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے ایک اچھے استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ علم حاصل کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ محنت اخلاق اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد کرے، تبھی اس کا مستقبل روشن ہوگا اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے میں بہترین کردار ادا کر سکے گا۔ جہاں تک بات عصری تعلیم کی ہے تو یاد رکھیں کہ عصری تعلیم کی ضرورت بھی ہر دور میں رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی، اسی لئے اب ایسے تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے دینی اور عصری تعلیم کا موثر انتظام ہو۔ تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی مضبوط انتظام ہونا ضروری ہے ۔کیونکہ تعلیم اور تربیت دونوں کا بڑا گہرا لگاؤ ہے، جس شخص کے پاس تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت بھی ہوتی ہے تو وہ ہر میدان میں کامیاب نظر آتا ہے۔
�������������������
! علم کی خوبی اس کے عمل کرنے میں ہے