کپوارہ// فوج نے کہا ہے کہ وادی میں جنگجوئوں کی تعداد میں بتدریج کمی ہورہی ہے اور لوگ تشدد کے بجائے امن کو ترجیح دے رہے ہیں۔یہ باتیں 15ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے ، نے سرحدی ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول پر واقع مژھل میں فوج کی جانب سے ایک تقریب میں کہی۔اس تقریب میں شمالی کشمیر کے تمام این سی سی کیڈٹس کو مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا’’گزشتہ برسوں کے مقابلے میں امسال کشمیر میں حالات کافی بہتر ہیں‘‘۔ جنرل پانڈے نے تاہم کہا کہ وادی میں ابھی 200کے قریب جنگجو سرگرم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت کا گراف کم ہوتا جارہا ہے اور لوگ تشدد کے بجائے امن کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر مکمل کنٹرول ہے اور دراندازی کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے ۔ پانڈے نے کہا کہ وادی میں پچھلے دو سال سے حالات پرامن اور خوشگوار ہیں اور لوگ بھی امن کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی جانب سے منعقدہ پروگراموں میںمقامی نوجوانوں کی خاصی تعداد شرکت کر رہی ہے جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اب کوئی خوف یا ڈر نہیںہے پانڈے نے کہا کہ کشمیر میں عسکریت کا گراف کم ہوگیا ہے اور اگر کشمیر کی بات کریں تواس وقت 200کے قریب عسکریت پسند سرگرم ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ برسوں میں یہ تعداد 300سے 400کے قریب ہوتی تھی تاہم امسال یہ2سوسے نیچے چلی گئی ہے اور امید ہے کہ آگے یہ تعداد مکمل طور پر کم ہو کر ایک دن عسکریت کا مکمل خاتمہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوج کی کارروائی جاری ہے اور اس میں عوام کا تعاون بھی ہے ۔پانڈے نے کہا کہ عوام کے مکمل تعاون اور مدد سے کشمیر کے حالات میں آئے روز بہتری آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج چوکس اور متحرک ہے اور اس کے زمینی سطح پر کافی مثبت نتائج بر آمد ہو رہے ہیں ۔ پانڈے نے کہا کہ امسال کچھ ایک واقعات دراندازی کے رونما ہوئے ہیں تاہم مجموعی طور پر سرحدوں پر صورتحال پر امن رہی ۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی کوشش ہمیشہ رہی ہے کہ نوجوان تشدد کے بجائے اپنے مستقل کو سنوانے کی جانب دھیان دیںاور کہا کہ میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح راستہ اپنانے کی تربیت دیںکیونکہ ملک کے دشمن انہیں غلط راستے پر چلنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔