۔25 اگست 2019 اتوار کو جب پوری وادی کشمیر لاک ڈائون کی زد میں تھی ، میڈیا نے اطلاع دی کہ آپ (جموں و کشمیر کے ریاستی جھنڈے)کو سول سیکریٹریٹ کی عمارت سے اتارا گیا ہے ۔
اگر آپ کو "منصرف کیا ترک" نہیں کیا گیا جو کسی جھنڈے کو ختم یا فراموش کرنے کے لئے تکنیکی اصطلاح ہے تو آپ گذشتہ اتوار کو 68 سال کے ہو جاتے۔ سرکاری تاریخ میں آپ کی یوم پیدائش 7 جون 1952درج ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ کیا آپ کو وقار کے ساتھ نیچے اتارا گیا تھا۔کیا اُس وقت کوئی تقریب ہوئی تھی؟ بندوق کی سلامی؟ ایک گارڈ آف آنر؟۔پرچم کی تبدیلی اتھارٹی یا اختیارکی باضابطہ منتقلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ وقت کی اعزازی روایت یہ ہے کہ ایسا باضابطہ باوقار طریقے سے ہونا چاہئے لیکن مجھے شک ہے کہ ایسا کچھ ہوا تھا۔
تقریب کو بھول ہی جائیں، کیا آپ کو ریاستی وقات کی تضحیک کے انسداد سے متعلق قانون1979کے تحت وضع شدہ پروٹول کے تحت آپ کے لمبے اطراف سے صحیح ڈھنگ سے تہہ کردیاگیاتھا؟۔یہ جھنڈوں یا قومی پرچموں کا کوئی غیر اہم مطالعہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق سیاسی تاریخ سے ہے۔
کیا آپ کو ماضی کے قیمتی آثار کے طور پر توش خانہ میں محفوظ کیا گیا ہے؟ یا کیا آپ کو فاتح کی علامت سمجھ کر ٹرافی کی طرح سجایا گیا ہے؟۔چونکہ جھنڈا کھونے کو تاریخی طور پر ایک بدنامی سمجھا جاتا ہے ۔ اس کی وضاحت اسی طرح ہوتی ہے جس طرح ہوتی ہے یعنی فاتح اور مفتوح۔
اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ کیا آپ کو ماضی کی غلطی قرار دے کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے؟ تختہ دار پر جو کچھ بھی ہواہو ، آپ آنے والی نسلوں کے لئے یاد رکھنے کے مستحق ہیں۔آپ کو میرے حال سے ختم کردیا گیا ہوگالیکن آپ کومیرے ماضی سے کوئی مٹا نہیںسکتا۔
اس کے باوجود آپ صرف حکومتی پرچم تھے نہ کہ قومی پرچم لیکن کہیں دل کی گہرائیوں میںمجھے تکلیف اور رسوا ئی محسوس ہورہی ہے۔ پورے ملک میں لوگ آپ کے بارے میں ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے آپ دشمن کے جھنڈے ہوں جس کو گرفت میں آکر لے جایا گیا ہو۔1951 سے 2019 کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ پارلیمنٹ اور آئین کے ذریعہ جس پرچم کی تائید وتوثیق کی گئی تھی،اُسے ردیا متروک کرنا پڑا؟ اور وہ بھی تکنیکی امور کا پاس ولحاظ رکھے بغیر۔
آپ نے 68 سال تک قومی پرچم کے ساتھ اشتراک کی منفرد پہچان حاصل تھی۔ ہوسکتا ہے کہ برابر ی کی سطح پر نہیں لیکن کم سے کم ایک حامی اور ساتھی کے طور پر۔ مساویوں میں سے پہلے کی طرح ، آپ کے ساتھ بھی باضابطہ ایک روایت کا طریقہ کار منسوب تھا۔انتظامی قدوقامت اور سیاسی علامت بازی کے علاوہ آپ کے پاس اور بھی بہت کچھ تھا۔
ایک جھنڈے کے بطور آپ نے کشمیر میں گہر ے عوامی جذبات کو جنم دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کاوجود 13 جولائی 1931 کی خونریزی میںموجود تھا۔ قصہ گوئی کی تاریخ کے مطابق ایک احتجاجی نے ایک شہید کی خون آلود قمیض اٹھا کر اسے چھڑی سے باندھا اور تعریفی و توضیحی نعروں کے بیچ اعلان کیا ، "یہ ہمارا پرچم ہوگا"۔ جب 21 شہدا ء کی لاشوں کو تدفین کے لئے لے جایا گیا ، تو "خون کے اس بینر" نے جلوس کی قیادت کی۔ میں دنیا کے کسی بھی جھنڈے کے بارے میں نہیں جانتا ہوں جس کی ایسی جذباتی اور یاد آور تاریخ ہو۔
ایک قبول عام داستان کی بات ہے کہ ایک مرتے ہوئے شخص نے شیخ محمد عبداللہ کو "پرچم" سونپتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنا کام انجام دیا ہے اور اب اس عزت و ناموس کی حفاظت کی باری اُنکی ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ سب راویوں کا زرخیز تخیل ہو۔ صرف ایک ایسی کہانی جو نسلوں تک زندہ رہی۔ اس طرح افسانے داستانیں بنتی ہیںاور داستانیںتاریخ بن جاتی ہے! یہ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کا تصور 13 جولائی 1931 کو ہوا تھاجو کشمیر کی ماعصر سیاست اور تاریخ کے محافظ خانہ کا سب سے اہم ترین دن ہے۔
آپ آٹھ سال بعد پیدا ہوئے تھے۔ 1939 میں ہی نیشنل کانفرنس نے اپنا جھنڈا اپنایا اور اسے "قومی جھنڈا" کہا گیا۔کشمیری ڈوگرہ شخصی حکومت کے جھنڈے اور حکمرانی کو مسترد کرتے ہوئے اس پرچم تلے اکٹھے ہوئے۔
شناخت اور حیثیت حاصل کرنے میں آپ کو مزید 13 سال لگے۔ 7 جون 1952 کو ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے آپ کو لوگوں کا فخر عطا کیا۔یہ شیخ محمد عبد اللہ ہی تھے جنہوں نے خود اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کی: "یہ طے پایا کہ ریاست جموں و کشمیر کا قومی پرچم مستطیل شکل اور سرخ رنگ کا ہو گا ، جس میں برابر برابر چوڑائی کی تین متوازی عمودی پٹیاں اوردرمیان میں ایک سفید ہل ہوگااور اس کا ہینڈل ان تین پٹیو ں کی سمت میںہوگا۔ جھنڈے کی لمبائی کا تناسب2:3 ہوگا‘‘۔ یہ قرارداد جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 144 بن گئی۔
یہ ڈیزائن کم وبیش پارٹی کے جھنڈے جیسا ہی تھا ، سوائے تین طرف کی پٹیوں کے۔ چونکہ نیشنل کانفرنس نے ریاست پارٹی ریاست کی طرح چلائی تو اس میں شاید ہی حیرت کی کوئی بات تھی۔
اس دن جون میں بہت سی علامت بازی اور اسٹائل تھا۔ مستحق طور شیخ محمد عبداللہ کی درخواست پر جموں و کشمیر کے آئین ساز اسمبلی کے چیئرمین جی ایم صادق نے آپ کو لہریا۔ علامتی طور پر آپ کا سرخ رنگ 13 جولائی کے شہدا کے خون سے مستعار لیاگیا تھااور نظریاتی طوربائیں بازو کی جانب جھکائو رکھنے والی بنیادی پرنسپل کمیٹی نے اس کی سفارش کی کیونکہ اس نے محنت کش طبقات کی ترجمانی کی۔
جب آپ کو مبارکباد دی جارہی تھی اور امید اور فخر کے ساتھ آپ کو لہرایا جارہا تھا،تو اسی اثناء میں جی ایم صادق نے ممبر اسمبلی ٹنگمرگ شیخ محمد اکبر سے مولانا مسعودی کی طرف سے آپ پر لکھی گئی ایک خصوصی نظم ترنم میںپڑھنے کو کہا: ؎
لہرااے کشمیر کے جھنڈے لہرا
طفل و جوان وپیر کے جھنڈے
بازوئے بے شمشیر کے جھنڈے
ہل والے دلگیر کے جھنڈے
ہر سو لہرا ،ہر دم لہرا،تابہ قیامت پیہم لہرا
لہرا اے کشمیر کے جھنڈے لہرا
جب یہ نظم گنگنائی جا رہی تھی تو سبھی ارکان اور مدعوین احترام میں کھڑے ہوگئے۔ ہر ممبر اور تمام ملاحظہ ہوکر کھڑے ہوگئے جب نظم کی تلاوت کی جارہی تھی۔ہر لحاظ سے یہ ایک سوز ناک اوردل کو چھولینے والا لمحہ تھا۔ پرانے لوگوں یا بزرگوںکا کہنا ہے کہ جب یہ نظم سنائی جارہی تھی تو قانون ساز اسمبلی کے بہت سے ممبر آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ وہ جذبات تھے جو ریاستی جھنڈے کے پیچ وتاب اور چادر میں بُنے ہوئے تھے۔ جذبات سے پرے ہوکر حقیقت یہی ہے کہ آج وہ کتنا ہی از مد افتادہ سمجھا جائے ،اُس وقت آپ نے ایک تاریخی لمحہ اور ایک نظریہ کی نمائندگی کی ۔ اس کی شان و شوکت کے لمحات تھے اور 68 سال تک آپ اس کالہراتا ثبوت ہیں!
لیکن افسوس ،یہ شان وشوکت زیادہ دیر تک رہنے والی نہیںتھی۔ اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے سے پہلے ہی آپ کے سر لڑکھڑانے لگے۔ سید میر قاسم نے آپ کے پرزوں کی تراشی کی۔ انہوں نے اپنی قرارداد کی پہلی سطر میں ’پرچم ‘لفظ سے قبل’قومی‘لفظ حذف کرنے کی ترمیم پیش کی۔لہٰذا آپ کوپیدائش کے وقت ہی محدود کرکے ایک ریاستی جھنڈا بنایا گیا۔ شیخ محمد عبد اللہ صرف اس تبدیلی کو قبول کرنے کے خواہشمند تھے۔ یہ دہلی نے ترتیب دیا تھا۔
دہلی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر آپ کا قیمہ 20 جولائی 1952 کوہی پکا دیاگیاتھا۔ چار دن بعد نہرو نے پارلیمنٹ کے سامنے انکشاف کیا کہ ’’ریاست کا جھنڈا کسی بھی لحاظ سے قومی پرچم کا مخالف نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے اعتماد کے ساتھ ایوان کو آگاہ کیا کہ’’ یہ بات ریاست کے آئین ساز اسمبلی میں واضح کردی جائے گی‘‘۔ ایسا میر قاسم کی جانب سے قرارداد پیش کرنے سے بہت پہلے ہوا !
تین ہفتوں بعد 11 اگست 1952 کوشیخ عبداللہ نے دستور ساز اسمبلی میں نہرو کی تائید کی۔ انہوں نے کہا "نیا ریاستی جھنڈا کسی بھی لحاظ سے قومی پرچم کا حریف نہیں ہے لیکن ریاست میں آزادی کی جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور دیگر وجوہات کی بناء پر اس جھنڈے کے تسلسل کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔وفاق کا ایک حصہ ہونے کے ناطیہم وفاقی پرچم سے وفاداری کے مکلف ہیںاوت بیعت بھی کرتے ہیں، وہ ریاست میں انتہائی مخصوص مقام کا حامل رہے گا‘‘۔
بالکل ہی یہی وہ لمحہ تھا جب آپ خود مختاری کے ساتھ الحاق کے لئے کھڑے ہوئے تھے، علیحدگی اور آزادی کیلئے نہیں۔کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اسی لئے آپ علیحدگی پسندوں کے لئے سمجھوتہ اورادغام کا مظہر تھے۔ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک انضمام پسندوں نے آپ کو سنوارا، خود مختاریوںنے آپ کی مرمت کرکے آپ کو پروان چڑھایا اور علیحدگی پسندوں نے آپ کو رنگنے کی کوشش کی۔ آپ بغیردلیل کی ایک بے روح علامت بن تو گئے لیکن اہمیت کے بغیر نہ رہے۔ آپ آخرکار کس طرح داغداراور خستہ حال بکھرا ہوا جھنڈا بن گئے ، وہ کشمیر کی کہانی ہے جو نسل در نسل یاد رکھی جائے گی۔ کس طرح ایک کامیاب ضدِ شخصی راج انقلاب کا جھنڈا ایک ناکام بغاوت کی علامت بن گیا ،یہ احتساب کے بعد سمجھ داری اور ہمدردی کے ساتھ بتایا جانا چاہئے۔جب تک آپ کے کتبہ پر یہ یہی لکھا رہے گا:’’ایک عزم سے جنم ،سمجھوتوں بھری زندگی اور متنازعہ موت … ہماری زندگی کی کہانی!‘‘۔
اختتامیہ
جھنڈے سے زیادہ میں نے سابقہ حکومت جموں و کشمیر سے منسلک جس چیز کو منسلک کیا،وہ اس کا ریاستی نشان تھا۔ متوازن اور خوبصورتی کے ساتھ ڈیزائن کردہ نشانِ افتخار۔یہ بھی کم وبیش اُس وقت تخلیق کیاگیا جب ہمارا پرچم بناتھا۔ اس تصوراتی خاکہ کو مشہور واٹر کلر آرٹسٹ دینا ناتھ ولی نے تیار کیا تھا۔ اس کو محکمہ اطلاعات کے کلرک موہن رینہ نے ڈیزائن کیا تھا۔ علامت (لوگو) کا مرکزی عنصر ایک جھیل کے اوپر ایک کمل تھاجودو ہلوں سے جڑا ہواتھا ، جو اناج کے دو گوش دانوں میں بند تھا۔ سہ رخی پہاڑی چوٹی پر بیٹھے جموں و کشمیر کو انگریزی میں لکھا گیا تھا۔ جھیل کے اندر تین پارچے یا خطوط تینوں خطوں کی نمائندگی کرتے تھے۔
مترجم: ریاض ملک