اسد مرزا
خبریں ہیں کہ کردستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی تیل کمپنیوں نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ عراق کی مرکزی حکومت اور کرد خود مختار علاقے یا کردستان کی علاقائی حکومت (KRG) کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو کم کرنے میں مدد کرے۔کئی سالوں سے کردستان ترکی کو تیل فراہم کرتا رہا ہے اور موجودہ حالات میں ان کا کہنا ہے کہ عراق کے شمال سے ترکی کو تیل کی آمد کو یقینی بنانے کے لیے مداخلت کی ضرورت ہے تاکہ ترکی کو ایران اور روس سے تیل کی ترسیل میں اضافہ نہ کرنا پڑے۔اس کے علاوہ بڑی حد تک کردستان کے علاقے کی معیشت کا انحصار تیل کی برآمد پر ہے، کیونکہ بغداد سے ملنے والی مالی امداد اس کے ترقیاتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، اور تیل کی برآمد بند کرنے سے اس کی معیشت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ تباہ بھی ہو سکتی ہے۔
اس سال فروری کے شروع میں، عراق کی وفاقی عدالت نے عراقی کردستان میں تیل کی صنعت کو منظم کرنے والے تیل اور گیس کے قانون کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد، عراق کی وفاقی حکومت، جس نے طویل عرصے سے KRG کو آزادانہ طور پر تیل برآمد کرنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی، نے کردستان سے برآمدی محصولات کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی کوششیں بڑھا دی ہیں۔رائٹرز خفیہ دستاویزات پر مبنی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کے پاس خطوط کی کاپیاں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تیل کی کچھ کثیر القومی کمپنیوں نے جنوری 2022 میں بغداد اور انقرہ میں امریکی سفیروں سے بھی رابطہ کیا قائم کیا تھا، اور عراق ۔ترکی پائپ لائن (ITP) سے متعلق 2014 کے ایک الگ کیس میں ثالثی کا مطالبہ کیا تھا۔بغداد کا دعویٰ ہے کہ ترکی نے کردستان سے تیل کے ذریعے آئی ٹی پی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے –،جسے وہ غیرقانونی سمجھتا ہے۔ کردستان ترکی کی بندرگاہ سیہان تک پائپ لائن کے ذریعے خام تیل ترکیے کو پہنچاتا ہے۔ عراق کی تیل کی وزارت کے مطابق کیس کی حتمی سماعت جولائی میں پیرس میں ہوئی تھی اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس آنے والے مہینوں میں حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔
تیل کمپنیوں کی جانب سے امریکی سیاسی نمائندوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ترکی کو ایران اور روس سے مزید خام تیل حاصل کرنے کی ضرورت کے علاوہ، آئی ٹی پی کے ذریعے تیل کے بہاؤ کو روکنے سے KRG کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ حالیہ عرصے میں عراق پہلے ہی تیل کی اونچی قیمتوں کا فائدہ اٹھا رہا ہے، جو فروری میں تیل برآمد کرنے والے بڑے ملک روس کے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد 14 سال کی بلندی پر پہنچ گئی تھیں اور فی الوقت وہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں۔
ITP میں 900,000 بیرل یومیہ (bpd) خام تیل پمپ کرنے کی صلاحیت ہے، جو کہ عراقی سرکاری تیل فروخت کرنے والے ادارے اسٹیٹ آئل مارکیٹنگ آرگنائزیشن (SOMO) کے ساتھ ساتھ KRG کی طرف سے یومیہ عالمی تیل کی طلب کا تقریباً ایک فیصد ہی ہے۔ فی الوقت کردستان اور عراق دونوں مل کر عراقی تیل کنوؤں سے 500,000 bpd خام تیل پمپ کر رہے ہیں۔کثیر القومی تیل کمپنیوں نے امریکی کانگریس کے ارکان سے اگست میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو خط لکھنے کے لیے بھی لابنگ کی تھی۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے 16 اگست کو کہا کہ بغداد اور اربیل کے درمیان تنازعات دونوں فریقوں کے درمیان ہیں لیکن امریکہ بات چیت کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔
العربیہ ٹی وی چینل نے اس معاملے پر رپورٹنگ کرتے ہوئے یوریشیا گروپ میں توانائی، آب و ہوا اور پائیداری کے مینیجنگ ڈائریکٹر رعد الکادیری کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ گزشتہ دہائی کے دوران عراق سے اپنا تعلق تقریباً منقطع کرچکا ہے اورموجودہ دور میں اس کی ترجیحات میں روس ۔یوکرین جنگ اور افغانستان کا معاملہ سرِ فہرست ہے۔ یعنی کہ واشنگٹن یا دیگر حکومتوں کا کوئی دباؤ بغداد اور کردوں کے درمیان مسائل حل کو کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔پچھلے ہفتے معاملات کو مزید پیچیدہ بنانے کے لیے، SOMO نے کرد خام تیل کے بین الاقوامی خریداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی، جس سے خطے میں سرمایہ کاری سے منسلک خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ KRG کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعہ میں بغداد کا تازہ ترین قدم ہے کہ کردستان کی تیل برآمدت کو کس طریقے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کردستان اپنی تیل کی پیداوار اور برآمدات کو پانچ سالوں کے اندر پچاس فیصد تک کم ہوتے دیکھ سکتا ہے، جس سے کردستان کی علاقائی حکومت (KRG) کے پہلے سے خالی خزانے میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔تیل کی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کردستان میں سرمایہ کاری کا ماحول فی الحال تیل کی صنعت میں بڑی سرمایہ کاری کے لیے سازگار نہیں ہے ۔ جب کہ کردستان کے حکام کے اس کے برعکس دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ نیم خود مختار علاقے کے ایک کرد اہلکار نے موجودہ تنازعے کو بغداد اور اربیل کے درمیان تقریباً گزشتہ 20 سالوں میں بدترین کھینچا تانی قرار دیا ہے۔ تیل کی برآمدات KRG کے قومی بجٹ کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتی ہیں، اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بغیر، خطے کو اور بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ رائٹرز کو موصول ہوئی خفیہ سرکاری دستاویزات کے مطابق، تیل کی صنعت میں نئی عالمی سرمایہ کاری کے بغیر، کردستان کو2027 تک تیل کی اپنی موجودہ پیداوار کا نصف کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں کردستان میں عالمی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا بھی آسان کام نہیں ہے۔
تاریخی طور پر دیکھیں تو کردستان کا علاقہ ہمیشہ سے ہی عرب ممالک کے لیے ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔ کوئی بھی حکومت کردوں کو اپنا الگ ملک قائم کرنے کے حق میں نہیں رہی ہے اور اس کے علاوہ صدیوں سے کردوں کو دیگر عرب ممالک کے کرد مخالف پروگراموں یعنی کہ وہاں پر عرب ثقافت کے فروغ کے علاوہ اور بہت ساری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس پورے معاملے میں کردستان کے حق میں کچھ مثبت پیش رفت مارچ 1991 کے بعد عراق کی جانب سے کردستان کے بیشتر علاقوں پر نوفلائی زون نافذ کرنے کے بعد مقامی کردوں کو خود مختاری کے ساتھ تجربہ کرنے اور محدود حکومت چلانے کا موقع ملا۔جس کے نتیجے میں کردستان کی مقامی معیشت کافی آگے بڑھی اور اس میں نمایاں کردار تیل کی صنعت نے ادا کیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ معزول عراقی صدر صدام حسین کے دورِ اقتدار میں بڑی حد تک زدوکوب کرنے کا پروگرام جاری رہا کیونکہ صدام حسین کی کردوں سے نفرت کی وجہ کوئی نہیں جانتا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عالمِ اسلام کا سب سے بڑا غازی، سپہ سالار اور حکمراں صلاح الدین ایوبی ایک کرد مسلمان تھا، جس نے کہ نہ صرف صلیبی جنگوں کے دوران ایک کامیاب اور فاتح سپہ سالار کا کردار ادا کیا، یروشلم پر بغیر کسی خون خرابے کے اسلامی حکومت قائم کی اور جس طریقے سے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لحدِ مبارک کی حفاظت فرمائی، وہ تاریخ کا ایک نافراموش باب ہے، اور اسی کی قوم پر عرب ممالک ،چاہے وہ عراق یا ترکی یا دیگر عرب ممالک وہ سب مظالم ڈھاتے چلے آرہے ہیں۔
مجموعی طور پر ایسا لگتا ہے کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری ، ترکی اور دیگر عرب ممالک کردستان کی آزادی کو یقینی بناسکتے ہیں اور ایک نیا ملک قائم کرنے کے لیے مثبت پیش رفت شروع کرسکتے ہیں اور کردستان کو جمہوریت اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)
www.asad-mirza.blogspot.com
عراق اور کردستان ۔خام تیل کی فروخت پر کشمکش